فحاشی کا الزام اور پھر ’فتویٰ

فحاشی کا الزام اور پھر ’فتویٰ‘: نورا فتحی پر فلمائے گئے آئٹم سانگ ’سَرکے چُنر تیری‘ پر پابندی کیوں عائد ہوئی؟

انڈیا میں کنڑ زبان میں بننے والی فلم ’کے ڈی: دی ڈیول‘ کے گانے ’سرکے سرکے چُنر تیری سرکے‘ پر تنازع کھڑے ہونے کے بعد انڈین حکومت نے تمام پلیٹ فارمز پر اس کے نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نورا فتحی اور سنجے دت پر فلمائے گئے اس گانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ اس گیت کے بول ’فحش‘ ہیں۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ انڈیا کے قومی انسانی حقوق کمیشن نے مرکزی حکومت کو قانونی نوٹس بھیج دیا جبکہ خواتین کے قومی کمیشن نے فلم کے اداکاروں اور پروڈیوسروں کو بھی ادارے کے سامنے پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کیا۔

انڈین نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ کے مطابق علی گڑھ کے مسلم پرسنل لا کے دارالافتاء نے اس معاملے پر نورا فتحی کے خلاف ایک فتویٰ بھی جاری کیا ہے۔

اس فلم سے وابستہ مختلف فنکاروں نے گانے کے بول کو لے کر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ گانا گانے والے گلوکار مانگلی نے سوشل میڈیا پر صارفین سے معافی مانگتے ہوئے گانے کا نئے ورژن لانے کا وعدہ کیا ہے۔

اس گیت کو لکھنے والے رقیب عالم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گیت میں پیش کیے جانے والا کوئی بھی لفظ ان کا اپنا نہیں ہے بلکہ انھوں نے صرف اس گیت کا کنڑ زبان سے ہندی میں ترجمہ کیا ہے۔

دریں اثنا اداکارہ نورا فتحی، جن پر یہ گانا فلمایا گیا ہے، نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنی ایک ویڈیو میں کہا کہ انھوں نے گانا کنڑ زبان میں شوٹ کیا تھا، اور وہ اس بات سے ناواقف تھیں کہ جو الفاظ وہ بول رہی ہیں اس کے کیا معنی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *