the breaking point of love novel

love novel

ناول_تاوانِ_عشق

قـسط_8

the breaking point of love novel

تمہارا نام لیا تو سکون اتر آیا
یہ دل جو تھا بے چین، کہیں ٹھہر آیا
تمہاری ایک مسکاں کا یہ اثر ہے
کہ دردِ دل بھی مجھے خوبصورت نظر آیا
تم ساتھ ہو تو ہر ایک راستہ آسان
بچھڑ کے دیکھو تو ہر موڑ ڈر آیا
محبتیں کبھی لفظوں کی محتاج نہیں
تم خاموش رہے اور سب سمجھ آیا
میں خود کو ڈھونڈنے نکلا تھا مدت سے
تمہیں جو پایا تو اپنا پتہ آیا!!

یونیورسٹی کی کینٹین میں شور تھا، مگر ایک کونے میں بیٹھے ظلال خان اور نور کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ظلال خان کی نظریں بار بار نور کے کپڑوں پر جاتی تھی۔ وہی پرانی سی شلوار قمیض جو کئی بار دھونے سے رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔ اس کے جوتے کی نوک تھوڑی سی پھٹی ہوئی تھی۔ مگر سب سے زیادہ ظلال خان کی توجہ نور کے ناک میں پہنی نوزپن پر تھی جو باریک سی تار کی صورت میں تھی پتلے سے ناک میں وہ بہت جچ رہی تھی۔۔

“نور،” اس کی آواز میں ایک نرمی تھی جو خود اس کے لیے بھی حیران کن تھی۔ “کل… کل میرے ساتھ شاپنگ پر چلو۔”

نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “شاپنگ؟ کیوں؟”

“کیونکہ…” ظلال خان نے اپنا کافی کا کپ گھمایا۔ “میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے آپ کو ویسا محسوس کرو جیسے تم ہو۔ خاص۔”

نور کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ “میرے پاس کپڑے ہیں۔”

“ہیں، مگر…” ظلال خان نے گہری سانس لی۔ “تمہیں دیکھ کر میرے دل میں ایک خلش سی اٹھتی ہے۔ تم اتنی قابل ہو، اتنی خوبصورت ہو، مگر دنیا کو صرف تمہارے کپڑے نظر آتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے جو تم مستحق ہو۔”

نور نے آنکھیں جھکا لیں۔ “ظلال، میں تمہارا پیسہ نہیں لے سکتی۔”

“یہ پیسے کی بات نہیں ہے۔” ظلال خان نے آگے جھک کر کہا، ان کی آنکھیں ملیں۔ “یہ احترام کی بات ہے۔ میرے لیے تمہاری عزت کی بات ہے۔ اس لیے… مجھے یہ کرنے دو۔”

“چلو گی ” اس نے نور کے دل کو پگھلا دیا۔ وہ مان گئی۔

love novel

اگلے دن صبح دس بجے، ہوسٹل کے گیٹ کے سامنے سیاہ لینڈ کروزر خاموشی سے آ کر رُکی۔ گاڑی کا دروازہ کھلا تو ظلال خان باہر آیا۔ لمبا قد، چوڑے شانے، پٹھانوں والی مضبوط جسامت، اور سرخ و سفید رنگت جو پہلی نظر میں ہی توجہ کھینچ لے۔ سفید قمیض کی آستینیں کہنیوں تک موڑی ہوئی تھیں، کلائی پر مہنگی گھڑی، اور چہرے پر وہ سنجیدگی جو صرف بڑے فیصلے کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ وہ چند قدم چل کر گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا خاموش، پُراعتماد، جیسے وقت بھی اُس کے انتظار میں ہو۔

اسی لمحے گیٹ کے اندر سے نور باہر نکلی۔
ہلکے رنگ کے سوٹ میں، دوپٹہ کندھے پر سنبھالے، آنکھوں میں معصوم سی چمک لیے۔ قدم ابھی پورے طرح باہر نہ آئے تھے کہ اُس کی نظر سامنے کھڑے ظلال خان پر جا ٹھہری۔ ایک لمحے کو وہ ٹھٹھک سی گئی۔ دل نے بے اختیار زور سے دھڑکنا شروع کیا، جیسے اُس نے پہلے کبھی ایسے قد و قامت، ایسی خاموش رعب دار شخصیت کو اتنے قریب سے نہ دیکھا ہو۔
نور نے لاشعوری طور پر اپنی گرفت دوپٹے پر مضبوط کی۔ اُس کی نظریں چند سیکنڈز کے لیے وہیں اٹک گئیں گہری آنکھیں، ٹھہرا ہوا انداز، اور وہ پٹھانانہ وقار جو بولے بغیر سب کچھ کہہ رہا تھا۔ اُسے لگا جیسے ہوسٹل کا شور، لڑکیوں کی آوازیں، سب پیچھے کہیں دھندلا گیا ہو۔
ظلال خان نے نگاہ اٹھا کر اُسے دیکھا۔ اُس کی سنجیدہ آنکھوں میں لمحہ بھر کو نرمی اتری، اور ہونٹوں کے کنارے ہلکی سی مسکراہٹ ابھری صرف نور کے لیے۔
“چلو،” اُس کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، “شاپنگ کرنی ہے۔”
نور نے آہستہ سے سر ہلایا، مگر دل ابھی تک اُس ایک نظر کے اثر سے نکل نہیں پایا تھا۔ یہ صرف ملنا نہیں تھا… یہ ظلال خان کی انٹری تھی، اور نور کے دل میں ہونے والی ایک خاموش شروعات۔

گاڑی کے دروازے بند ہوتے ہی لینڈ کروزر کے اندر ایک الگ ہی خاموش دنیا آباد ہو گئی۔ نرم لیدر کی خوشبو، ہلکی سی موسیقی، اور باہر کے شور سے کٹی ہوئی وہ فضا جہاں صرف دو سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ نور نے خاموشی سے اپنی سیٹ بیلٹ لگائی، نظریں کھڑکی سے باہر جمائے رکھیں، مگر دل کی دھڑکن اُس کے قابو میں نہیں تھی۔
ظلال خان نے گاڑی اسٹارٹ کی تو نظر بھر کر اُسے دیکھا۔
“ہوسٹل میں سب خیریت تھی؟” اُس نے دھیمے مگر پُراعتماد لہجے میں پوچھا۔
نور نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“جی… سب ٹھیک تھا۔”

love novel
اتنا مختصر جواب، مگر اُس کے گالوں پر پھیلی ہلکی سی سرخی سب کچھ بتا رہی تھی۔ ظلال خان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“تم بات کم اور سوچ زیادہ کرتی ہو،” اُس نے سڑک پر نظریں رکھے ہوئے کہا، “یہ اچھی بات ہے… مگر میرے سامنے نہیں چھپانی چاہیے۔”
نور نے چونک کر اُسے دیکھا، پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔ انگلیاں آپس میں الجھ گئیں۔
“میں… عادی ہوں۔”
ظلال خان کی ہلکی سی ہنسی گاڑی میں گونجی۔
“عادتیں بدلی جا سکتی ہیں، نور،” اُس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا، “بس ساتھ ٹھیک آدمی کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔”
نور کے دل نے ایک زور کا دھچکا کھایا۔ وہ خاموش رہی، مگر اُس خاموشی میں شرم، الجھن اور ایک ان کہی خوشی شامل تھی۔ ظلال خان نے گاڑی موڑتے ہوئے پھر بات کی۔
“آج تم جو چاہو گی لو گی، بغیر یہ سوچے کہ قیمت کیا ہے۔”
نور نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں، میں زیادہ خرچ”
“میں نے کہا نا،” اُس نے بات کاٹتے ہوئے پٹھانانہ نرمی کے ساتھ کہا، “یہ فیصلہ میرا ہے۔”
نور کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی، اور وہ خود پر حیران ہو گئی کہ اُس کے سامنے اُس کا دل اتنی جلدی کیوں ہار مان رہا ہے۔
چند ہی منٹ بعد لینڈ کروزر مال کے سامنے آ کر رُکی۔ جیسے ہی گاڑی سے ظلال خان باہر آیا، ماحول بدل گیا۔ اُس کی موجودگی میں ایک الگ ہی رعب تھا۔ وہ سیدھا کھڑا ہوا، قمیض درست کی، اور نور کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نور نے ہچکچاتے ہوئے اُس کا ہاتھ تھاما اور گاڑی سے اتری۔
مال کے اندر قدم رکھتے ہی کئی نظریں اُن پر جم گئیں۔ چند لمحوں میں سیلز مینوں کی نظریں خاص طور پر ظلال خان پر ٹھہر گئیں۔ مہنگا لباس، پُراعتماد چال، اور وہ خاموش وقار وہ فوراً پہچان گئے تھے کہ یہ عام انسان نہیں۔
“سر، خوش آمدید!”
“سر، نئی کلیکشن آئی ہے!”
“سر، آپ کے لیے اسپیشل سیکشن ہے!”
ایک کے بعد ایک سیلز مین آگے بڑھنے لگا۔ کوئی راستہ دکھا رہا تھا، کوئی فٹنگ کی پیشکش کر رہا تھا۔ ظلال خان بس سرسری سا سر ہلا کر آگے بڑھتا گیا، جیسے یہ سب اُس کے لیے نیا نہ ہو۔
نور چند قدم پیچھے چل رہی تھی، حیرت اور جھجھک کے ملے جلے احساس کے ساتھ۔ اُس نے پہلی بار محسوس کیا کہ ہیرو صرف فلموں میں نہیں ہوتے کچھ حقیقت میں بھی ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی۔
ظلال خان نے مڑ کر اُسے دیکھا۔
“نور، ساتھ چلو،” اُس کی آواز میں ہلکی سی نرمی تھی، “آج تمہیں صرف پسند کرنا ہے۔ باقی سب میرا کام ہے۔”
نور نے آہستہ سے مسکرا کر قدم تیز کیے۔ اُس لمحے اُسے لگا کہ وہ صرف شاپنگ کے لیے نہیں آئی… بلکہ ایک ایسے شخص کی دنیا میں قدم رکھ رہی ہے، جہاں خود کو محفوظ محسوس کرنا بہت آسان تھا۔

ظلال خان نے ہلکے سے نور کا ہاتھ پکڑا۔ “چلو، ہم اوپر چلتے ہیں۔ وہاں زیادہ پرائیویسی ہے۔”

وہ ایک شیشے کی لفٹ میں داخل ہوئے۔ جب دروازے بند ہوئے تو چھوٹی سی جگہ میں دونوں قریب آ گئے۔ نور کو ظلال خان کی خوشبو محسوس ہوئی لکڑی اور کستوری کی ہلکی سی مہک۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔

لفٹ رکی۔ دروازے کھلے تو ایک بالکل مختلف دنیا سامنے تھی۔ یہاں فرش نرم قالین سے ڈھکا ہوا تھا۔ چند خواتین شاپنگ کر رہی تھیں، مگر سب اعلیٰ طبقے کی معلوم ہوتی تھیں۔

ایک دکان “ایلگزانز” کے باہر ایک خوبصورت خاتون کھڑی تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ “مسٹر خان، ہم آپ کا انتظار کر رہے تھے۔”

“شکریہ، لیلا۔ یہ مس نور ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ان کے لیے کچھ خاص منتخب کریں۔”

نور کو ایک پرائیویٹ فٹنگ روم میں لے جایا گیا۔ کمرہ خوبصورت تھا نرم روشنی، بڑے آئینے، اور ایک آرام دہ صوفہ۔

لیلا نے پیمانہ لیا اور نور کی پیمائش کرنے لگی۔ ہر پیمائش پر وہ مسکراتی۔ “آپ کا قد بہت اچھا ہے۔ بالکل ماڈل جیسا۔”

ظلال خان کونے میں کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔

جب لیلا کچھ کپڑے لے کر آئی، تو ظلال خان نے کہا، “میں باہر انتظار کرتا ہوں۔ تم آرام سے ٹرائی کرو۔”

نور نے مسکرا کر سر ہلایا۔ ظلال خان احترام سے باہر چلا گیا اور فٹنگ روم کے باہر بیٹھنے والے کمرے میں جا بیٹھا۔

نور نے پہلا ڈریس ٹرائی کیا ایک نرم گلابی رنگ کا ایش میٹریکل ڈریس۔ جب وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی، تو اسے خود پر یقین نہیں آیا۔ کیا یہ واقعی وہی نور تھی؟

دراز پر دستک ہوئی۔ “نور، ٹھیک ہو؟ میں اندر آ سکتا ہوں؟”

“ہاں… آ جائیں۔”

دراز کھلا اور ظلال خان اندر آیا۔ اس کی سانسیں رک سی گئیں۔ “نور…”

love novel

“کیسا لگ رہی ہوں؟” نور نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔

ظلال خان قریب آیا۔ اس کی نظریں نور کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ “تم… تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔”

اس نے آئینے کی طرف اشارہ کیا۔ “خود دیکھو۔”

نور نے آئینے میں دیکھا۔ گلابی رنگ اس کے گورے رنگ کے ساتھ مل کر ایک حسین امتزاج بنا رہا تھا۔ ڈریس اس کے جسم پر بالکل فٹ تھا۔

ظلال خان پیچھے سے آیا۔ آئینے میں ان کے عکس ایک ساتھ نظر آ رہے تھے۔ اس نے فاصلے سے کھڑے ہو کر کہا، “دیکھو، یہ تم ہو۔ اصلی تم۔”

نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “میں… میں ایسی کبھی نہیں دکھی۔”

“اب سے ہمیشہ ایسی ہی دیکھو گی۔” ظلال خان نے نرمی سے کہا۔

نور نے مڑ کر اسے دیکھا۔ “تم نے یہ سب کیوں کیا؟”

“کیونکہ تم میرے لیے خاص ہو۔” ظلال خان نے کہا۔ اس کی آواز میں ایک سچائی تھی جو اس کے اپنے لیے بھی حیران کن تھی۔

نور نے دوسرا ڈریس ٹرائی کیا نیلے رنگ کا۔ جب وہ باہر آئی تو ظلال خان اس کے بالوں میں ہلکی سی الجھن دیکھ کر مسکرایا۔

“تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں،” اس نے کہا۔

“میرے بال؟ یہ تو بس…”

“بس کچھ نہیں۔” ظلال خان نے آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے بالوں سے ایک ہلکی سی الجھن نکالی۔ اس کا ہاتھ نور کے بالوں کو ہلکے سے چھو گیا۔

نور کے جسم میں ایک لرزہ دوڑ گیا۔ “خان…”

“ہاں؟”

“کچھ نہیں۔” نور نے آنکھیں جھکا لیں۔

ظلال خان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ “ڈرو مت۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔”

ان کے ہاتھ ملے ہوئے تھے۔ نور نے محسوس کیا ظلال خان کا ہاتھ گرم ہو رہا تھا۔ کیا اس کا دل بھی اتنا ہی تیز دھڑک رہا تھا جتنا اس کا؟

“میں ڈر رہی ہوں،” نور نے اعتراف کیا۔

“کیوں؟”

“کہ یہ خواب ہے۔ اور میں جاگ جاؤں گی۔”

ظلال خان نے اس کا ہاتھ تھوڑا سا دبایا۔ “یہ خواب نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی… تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔”

اس لمحے، فٹنگ روم کا دروازہ کھلا اور لیلا اندر آ گئی۔ “معذرت، مسٹر خان۔ کچھ اور لاؤں؟”

ظلال خان نے نور کی طرف دیکھا۔ “تمہیں اور کچھ چاہیے؟”

نور نے سر ہلایا۔ “نہیں، یہ کافی ہے۔”

دو گھنٹے بعد، نور کے پاس چھ نئے ڈریس اور کئی جوڑے جوتے تھے۔ ظلال خان نے لیلا سے کہا، “سب باہر گاڑی میں رکھوا دو۔”

جب وہ فٹنگ روم سے باہر نکلے، تو نور کا ہاتھ ظلال خان کے ہاتھ میں تھا۔ وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک نئی چمک تھی، آنکھوں میں ایک نئی خوداعتمادی۔

لفٹ میں، ظلال خان نے اسے دیوار کے ساتھ ہلکے سے لگا دیا۔ “تم نے دیکھا آج تم نے کتنا تبدیل ہو گئی؟”

“تمہاری وجہ سے۔” نور نے کہا۔

“نہیں۔ تمہاری اپنی خوبصورتی کی وجہ سے۔” ظلال خان کی نظریں نور کی آنکھوں میں گھس رہی تھیں۔

نور کے جسم میں ایک لرزہ دوڑ گیا۔ “ظلال…”

“شکریہ،” ظلال خان نے کہا۔ “آج کا دن میرے لیے خاص تھا۔”

اور پھر دروازے کھل گئے۔ باہر کی دنیا انہیں دوبارہ اپنی آغوش میں لے رہی تھی۔ مگر ان کے درمیان جو رشتہ آج مضبوط ہوا تھا، وہ اب کسی بھی دنیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا تھا۔

کھانے کے بعد جب وہ گاڑی میں واپس آئے، تو شام ڈھل رہی تھی۔ سورج کی آخری کرنیں گاڑی کے اندر سونے کی طرح چمک رہی تھیں۔

ظلال خان نے ڈرائیور سے کہا، “سیدھا ہاسٹل چلیں۔”

گاڑی چلنے لگی۔ ظلال خان اور نور کے درمیان مناسب فاصلہ تھا۔ دونوں اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھے تھے، مگر کبھی کبھار ان کی نظریں مل جاتی تھیں۔

“آج کا دن کیسا رہا؟” ظلال خان نے پوچھا۔

“میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن۔” نور نے سچ کہا، اپنی گود میں پڑے شاپنگ کے بیگز کو دیکھتے ہوئے۔

“صرف ایک دن؟” ظلال خان نے مسکرا کر کہا۔ “میں چاہتا ہوں کہ تمہاری زندگی میں ایسے بہت سے دن آئیں۔”

نور نے شرماتے ہوئے آنکھیں جھکا لیں۔ “آپ بہت مہربان ہو۔”

“تمہارے ساتھ مہربان ہونا آسان ہے۔” ظلال خان کی آواز میں ایک نرمی تھی۔

گاڑی ہاسٹل کے قریب پہنچی تو دونوں خاموش تھے۔ یہ خاموشی آرام دہ تھی، بوجھل نہیں۔

“کل یونیورسٹی میں ملاقات ہوگی؟” ظلال خان نے پوچھا جب گاڑی رکی۔

“ہاں۔” نور نے کہا۔ “ہمیشہ کی طرح۔”

وہ باہر نکلنے لگی، مگر ظلال خان نے کہا، “رکو۔”

نور مڑی۔ ظلال خان نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔ “یہ لو۔ تمہارے لیے ہے۔”

نور نے ڈبہ کھولا۔ اندر ایک خوبصورت گولڈ کی چین تھی جس میں ایک چھوٹا سا Noor نام کا بنا لوکٹ لٹک رہا تھا۔

“یہ…” نور کی آواز بھر آئی۔ “یہ بہت خوبصورت ہے۔”

“یہ تمہاری مانند ہے۔” ظلال خان نے کہا، محفوظ فاصلے سے۔ “تاریکی میں بھی چمکتا رہتا ہے۔”

نور نے چین کو ہاتھ میں لیا۔ “میں… میں اسے قبول نہیں کر سکتی۔ یہ بہت قیمتی ہے۔”

“یہ صرف ایک چین نہیں ہے۔” ظلال خان نے نرمی سے کہا۔ “یہ دوستی کی نشانی ہے۔ انکار مت کریں نور ، قبول کر لو۔”

نور نے تھوڑی دیر سوچا، پھر مسکرا کر سر ہلایا۔ “شکریہ۔”

“نہیں… شکریہ تمہیں کہنے کا۔” ظلال خان کی مسکراہٹ گرم جوشی سے بھری تھی۔ “آج کا دن میرے لیے بھی خاص تھا۔”

نور نے ڈبے سے چین نکالتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں تھام لی۔ سونے کی چمک نے اس کے چہرے پر پڑتی روشنی سے مل کر ایک جادوئی فضا بنا دی۔ ظلال خان نے خاموشی سے ایک قدم بڑھایا۔

“اجازت دو”، انہوں نے نرمی سے کہا اور نور کے ہاتھ سے چین لے کر اس کے گردن کے پیچھے بند لگانے لگے۔

نور سانس روکے اس لمحے کا انتظار کر رہی تھی۔ ظلال کے ہاتھ اتفاقاً اس کی گردن کو چھو گئے، اور ایک سرسراہٹ سی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ جب وہ کام سے فارغ ہوئے تو اچانک رک گئے۔ ان کی سانسیں نور کے کان کے قریب تھیں۔

ایک لمحے کی بے خودی میں، بغیر سوچے سمجھے، ظلال نے اپنے ہونٹ ہلکے سے نور کی گردن کے اس نرم حصے پر رکھ دیے جہاں چین کی کڑی ٹھنڈی تھی۔ یہ چھوا بجلی کی سی تھی مختصر، نرم، بے حد حساس۔

نور آنکھیں بند کیے کانپ گئی۔ ہوا میں سکوت تھا، صرف ان کی بے ترتیب سانسوں کی آواز تھی۔
ی۔۔۔۔یہ غلط ہے ظلال یہ سب غلط ہے۔ نور ہوش میں آتے ہی شرمندگی سے بولی شرمندہ تو ظلال خان بھی ہو گیا تھا اپنی اس حرکت سے۔۔

سوری نور پتہ نہی کیسے خود کو روک نہیں پایا نور اس کے چہرے پر شرمندگی صاف دیکھ سکتی تھی اس لیے وہ آہستہ آواز میں بولی۔۔
ظلال پیچھے ہٹے، ان کی آواز میں گہرائی اور جذبات تھے: “اب دیکھو، تم خود بھی تاریکی میں چمک رہی ہو۔”

نور نے چین کو ہلکے سے تھام لیا، اس جگہ کو چھوا جہاں ان کے ہونٹوں کی حرارت ابھی تک محسوس ہو رہی تھی۔ اس لمحے کے سحر میں وہ بے زبان تھی۔

نور باہر نکلنے لگی۔ دروازے پر وہ مڑی۔ “شکریہ، ظلال۔ ہر بات کا۔”

وہ ہاسٹل کے دروازے کی طرف چلی گئی۔ ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ظلال خان کی گاڑی اب بھی وہیں کھڑی تھی۔ وہ اسے محفوظ اندر جانے کا انتظار کر رہا تھا۔

ہاسٹل کے کمرے میں:

کمرے میں داخل ہو کر نور نے سب سے پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ میں وہ چین دیکھی۔ نور نام ہلکا سا چمک رہا تھا۔

صوفیہ اندر آئی۔ “اوہ! کیا ہوا؟ تمہارے پاس یہ سب…”

نور نے مڑ کر دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک پر سکون مسکراہٹ تھی۔ “آج میں نے محسوس کیا کہ… کسی نے مجھے دیکھا۔ اصلی طور پر دیکھا۔”

صوفیہ نے چین دیکھی۔ “نور، یہ…”

“صوفیہ، میں جانتی ہوں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔” نور نے نرمی سے کہا۔ “مگر آج… آج مجھے خوش رہنے دو۔”

“صوفیہ”نور کی طرف دیکھ کر سمجھ گئی تھی اس وقت اس سے بات کرنا فضول ہے لیکن وہ دل میں نور کے لیے دعا گو تھی کہ اللہ نور کو جلدی سے ظلال خان کی سچائی دیکھا دے وہ اس کا کندھا ہلکے سے تھپاتے ہوئے اپنے بیڈ کی جانب چلی گئی

رات کو جب نور سونے کے لیے بیڈ پر لیٹی، تو اس کے ذہن میں ظلال خان کی وہ تصویر تھی جب اس نے چین دی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی خلش تھی جو نور سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ محبت؟ ہمدردی؟ پچھتاوا؟ کچھ بھی ہو، مگر اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ جذبات اصلی تھے۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *