apothecary diaries light novel

light novel

ناول_تاوانِ_عشق

قـسط_7

apothecary diaries light novel

تمہارا ساتھ ہو تو ہر خوشی مکمل لگے
تمہاری ایک نظر بھی دعا سی لگے
تمہارا نام لوں تو دھڑکنیں مسکرا دیں
یہ زندگی بھی بس تم پر فدا سی لگے
تم پاس آؤ تو خاموشیاں بول اٹھیں
تم دور جاؤ تو ہر بات ادھوری لگے!!

صبح کی دھوپ لائبریری کے بڑے شیشوں سے ٹکراتی، چمکتی ہوئی اس دور کے کونے میں داخل ہوئی جہاں ظلال خان ایک مضبوط لکڑی کی میز پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے دو کپ سجے تھے۔ ایک کپوچینو (ایسا کافی مشروب جس پر دودھ کی گھنی، کریمی جھاگ ہوتی ہے) نور کے لیے۔ دوسرا سادہ ایسپریسو (گاڑھی اطالوی کافی) اپنے لیے۔ وہ کپ اس کی انگلیوں کے درمیان گھوم رہا تھا، مگر اس کی نظر کھڑکی کے باہر اڑتے پرندوں پر تھی۔ یا شاید نظر تو وہاں تھی، مگر دماغ کہیں اور تھا۔ کل رات بابا سائیں کے الفاظ نے اس کی نیند اڑا دی تھی۔

“بیٹا، ہم پختون ہیں۔ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے۔ دھوکہ دینا آسان ہے، مگر اس کے نتائج ہمیشہ برے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ عزت جاتی ہے، تو واپس نہیں آتی۔”

یہ الفاظ اس کے ذہن کے تانے بانے میں اس طرح گندھ گئے تھے جیسے سیاہی کاغذ میں۔ وہ سوچ رہا تھا کیا وہ جو کرنے جا رہا ہے، وہ صرف نور کے لیے تباہی ہے؟ یا اپنے لیے بھی ایک ایسی گہری کھائی کھودنے جیسا ہے جس میں وہ خود بھی گر سکتا ہے؟ اس نے آنکھیں بند کیں۔ سمی کا چہرہ یاد آیا۔ وہ مسکراہٹ جو ہمیشہ اس کے ہونٹوں پر کھیلتی تھی۔ اور پھر وہ حادثہ… خون… سائرن کی آوازیں… ماں کا رونا… باپ کا چہرہ جو پتھر کی مانند سخت ہو گیا تھا۔ نہیں۔ اسے یہ کرنا ہی تھا۔ یہ انتقام صرف اس کا حق تھا۔

مگر پھر نور کی معصوم آنکھیں ذہن کے پردے پر ابھریں۔ وہ لڑکی جس کے پاس خوابوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جو نوکری کرتی، پڑھتی، گھر سنبھالتی تھی۔ کیا وہ واقعی…؟

“ظلال خان؟”

ایک نرم، لرزتی سی آواز نے اسے موجودہ لمحے میں واپس لایا۔ وہ چونک کر مڑا۔ نور دروازے پر کھڑی تھی، اس کے ہاتھ میں کتابیں تھیں، اس کا شلوار قمیض تھوڑا سا بڑا لگ رہا تھا، شاید پرانا۔ مگر اس کے چہرے کی تازگی، آنکھوں کی چمک سب کچھ مات کر دیتی تھی۔

“نور۔ آؤ… آؤ بیٹھو۔” ظلال خان نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔ اس کی آواز میں ایک غیر ارادی نرمی آ گئی تھی، جو اس کے اپنے لیے بھی حیران کن تھی۔

نور احتیاط سے اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی۔ اس کی حرکات میں وہ ہچکچاہٹ تھی جو غریب گھرانوں کے بچوں کو امیروں کی دنیا میں ہوتی ہے۔ “تم نے مجھے بلایا تھا۔ کچھ… کچھ ضروری ہے؟”

“ضروری؟ ہاں… شاید۔” ظلال خان نے کپوچینو اس کی طرف بڑھایا۔ “میں نے تمہارے لیے یہ لیا ہے۔ تم نے کہا تھا تمہیں پسند ہے۔”

نور نے کپ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔ گرمائی نے اس کی ہتھیلیوں کو تسکین بخشی۔ “شکریہ۔ تم… تم ہمیشہ یاد رکھتے ہو۔”

“چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہی تو بڑی یادیں چھپی ہوتی ہیں، نور۔” ظلال خان نے کہا، اور فوراً ہی خود پر حیران ہوا۔ یہ جملہ کہاں سے آگیا؟ یہ وہ ظلال خان نہیں تھا جو منصوبہ بندی کرتا تھا۔ یہ کوئی اور تھا۔

خاموشی چھا گئی۔ لائبریری کی فضا میں کتابوں کی پرانی خوشبو، لکڑی کی مہک اور کافی کی تیز بو ملی ہوئی تھی۔ دور کسی میز پر کوئی قلم چل رہا تھا، کاغذ پر سرسراہٹ کی آواز آ رہی

تھی۔

light novel

 

“ظلال خان، تم ٹھیک تو ہو؟” نور نے پوچھا، اس کی آنکھوں میں سچی فکر تھی۔ “تمہارا چہرہ… تھکا ہوا لگ رہا ہے۔”

اس سادہ سی پوچھ نے ظلال خان کے دل کو ایک عجیب طرح سے چھو لیا۔ کتنے عرصے سے کسی نے اس کی تھکن کے بارے میں نہیں پوچھا تھا؟ سب اس کی طاقت، اس کے پیسے، اس کے مستقبل کے بارے میں پوچھتے تھے۔ اس کی تھکن کسی کی پرواہ نہیں تھی۔

“میں… میں ٹھیک ہوں۔ بس کچھ سوچ رہا تھا۔” اس نے جواب دیا۔ “دراصل، میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔ ایک اہم بات۔”

نور نے سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا، “جی ضرور۔”

“نور، ہم کتنے عرصے سے مل رہے ہیں؟ ایک ماہ؟ زیادہ؟” ظلال خان نے پوچھا۔

“تیس چالیس دن ہو گئے ہوں گے۔” نور نے حساب لگاتے ہوئے کہا۔

“تیس چالیس دن… یہ وقت بہت کم ہے مگر بہت زیادہ بھی۔” ظلال خان نے گہری نظر سے اسے دیکھا۔ “اس عرصے میں میں نے تمہیں جانا ہے۔ تمہاری محنت دیکھی ہے، تمہارے خواب سنے ہیں، تمہاری خاموش طاقت محسوس کی ہے۔ اور میں نے اپنے آپ سے ایک سوال پوچھا ہے: ہماری یہ دوستی کیا ہے؟”

نور نے آنکھیں جھکا لیں۔ “ہم… ہم دوست ہیں نا؟”

“لفظ ‘دوست’ بہت وسیع ہے، نور۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “کبھی دوست صرف کلاس فیلو ہوتے ہیں۔ کبھی ہلکی پھلکی باتوں والے۔ کبھی صرف وقت گزارنے والے۔ مگر کبھی… کبھی دوستی ایک رشتہ بن جاتی ہے۔ ایک عہد۔ ایک اقرار۔”

نور کی سانس تیز ہو گئی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ یہ گفتگو کسی گہری طرف جا رہی ہے۔ “تم کیا کہنا چاہتے ہو، ظلال خان؟”

“میں کہنا چاہتا ہوں کہ… میں چاہتا ہوں کہ ہماری دوستی باقاعدہ ہو۔” ظلال خان کے الفاظ واضع اور ٹھوس تھے۔ “ایسی دوستی جس میں وعدے ہوں۔ شرائط ہوں۔ ایک دوسرے کے لیے خاص ہونے کا اقرار ہو۔”

نور نے حیرت سے اسے دیکھا، جیسے وہ کسی غیر مانوس زبان میں بات کر رہا ہو۔ “باقاعدہ دوستی؟ یہ… یہ کیا ہوتی ہے؟ ہم تو پہلے ہی دوست ہیں نا؟”

“نہیں نور۔” ظلال خان نے سر ہلایا۔ “ہم ‘ہیلو، ہاؤ آر یو’ والے دوست ہیں۔ میں اس سے آگے کی بات کر رہا ہوں۔ میں ایسی دوستی کی بات کر رہا ہوں جو وقت کی آزمائش میں کھری اترے۔ جو مشکل وقت میں سہارا بنے۔ جو خوشی کے لمحوں میں حصہ دار بنے۔”

“مگر ظلال خان، تم… تم ظہیر خان کے بیٹے ہو۔” نور کی آواز میں ایک درداں حقیقت پسندی تھی۔ “تمہارے دوست، تمہارے حلقے، تمہاری دنیا… وہ سب الگ ہے۔ تمہارے لیے دوستی شاید ایک تفریح ہے، ایک وقت گزارنے کا ذریعہ۔ میرے لیے… میرے لیے دوستی ایک ذمہ داری ہے۔ ایک رشتہ ہے۔ میں… میں اسے ہلکے میں نہیں لے سکتی۔”

یہ جواب ظلال خان کی توقع سے بالکل مختلف تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ نور خوشی سے قبول کر لے گی، پھولے نہ سمائے گی۔ مگر یہاں تو وہ ذمہ داری کی بات کر رہی تھی۔ احتیاط کی بات کر رہی تھی۔

“تمہاری یہی بات تو مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے، نور۔” ظلال خان نے سچے جذبات کے ساتھ کہا اور یہ سچ تھا، اس لمحے کے لیے۔ “تم ہلکے میں کچھ نہیں لیتی۔ تم ہر رشتے، ہر وعدے کو مقدس سمجھتی ہو۔ یہی تو تمہاری خاص بات ہے۔ دیکھو، مجھے معلوم ہے تم کیا سوچ رہی ہو۔ تم سوچ رہی ہو کہ میں امیر ہوں، تم غریب ہو۔ میں طاقتور ہوں، تم کمزور ہو۔ لیکن نور، دوستی میں کوئی امیر غریب نہیں ہوتا۔ دوستی میں صرف دو دل ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔”

نور نے اپنی چائے کا کپ گھمایا۔ اس کے خیالات ایک دھندلکے میں بھٹک رہے تھے۔ صوفیہ کی وارننگ اس کے کانوں میں گونج رہی تھی: “شیر اپنے دھبے نہیں بدلتا۔ وہ تمہیں صرف استعمال کرے گا۔” مگر ظلال خان کی آنکھیں… وہ آنکھیں جو اسے دیکھ رہی تھیں… ان میں کچھ تو تھا۔ ایک خلش، ایک کشمکش، ایک ایسی چمک جو صرف سچے جذبات میں ہوتی ہے۔

“تمہاری نظر میں میں کیسی ہوں، ظلال خان؟” نور نے اچانک پوچھ لیا۔ “سچ بتانا۔”

سوال نے ظلال خان کو بے بس کر دیا۔ اس کے منہ سے فوراً وہی جھوٹ نکلنا چاہتا تھا جو اس نے تیار کیا تھا: تم خوبصورت ہو، پرکشش ہو، مجھے تم پسند ہو… مگر جب اس نے نور کی آنکھوں میں دیکھا وہ آنکھیں جو سچ کی تلاش میں تھیں تو وہ جھوٹ اس کے گلے میں پھنس گیا۔

“تم… تم مضبوط ہو۔” ظلال خان نے آخرکار کہا، اور یہ سچ تھا۔ “تم میں وہ طاقت ہے جو ہار نہیں مانتی۔ تم خواب دیکھنے کی ہمت رکھتی ہو۔ تم اپنے خوابوں کے لیے لڑتی ہو۔ تم اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھاتی ہو اور شکایت تک نہیں کرتی۔ تم… تم ایک لڑکی نہیں ہو۔ تم بہادر ہو۔ ایک مکمل انسان۔”

نور کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایک ایسی مسکراہٹ جو اندر سے آئی تھی، باہر سے نہیں۔ “شکریہ۔ یہ… یہ سب سے پیاری بات ہے جو آج تک کسی نے مجھ سے کہی ہے۔”

“اب میری بات سنو۔” ظلال خان نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔ “میں چاہتا ہوں کہ ہماری دوستی باقاعدہ ہو۔ اور اس کے لیے میں تین شرائط رکھتا ہوں۔”

“شرائط؟”

“ہاں۔ باقاعدہ دوستی کی شرائط۔” ظلال خان نے اپنی انگلی اٹھائی۔ “پہلی شرط: ہمیشہ سچ بولوں گا۔ چاہے سچ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔”

light novel

نور نے گہری سانس لی۔ “دوسری؟”

“دوسری شرط: تمہاری ہر ممکن مدد کروں گا۔ تمہارے خواب پورے کرنے میں، تمہاری پڑھائی میں، تمہاری نوکری میں، تمہاری زندگی کے ہر معاملے میں۔ میں صرف دوست نہیں رہوں گا۔ میں تمہارا ساتھی بنوں گا۔”

نور کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ کسی نے اس کی مدد کا وعدہ کب کیا تھا؟ اسے تو ہمیشہ سے یہی سکھایا گیا تھا کہ اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہونا ہے۔

“اور تیسری شرط؟”

“تیسری شرط: کبھی تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔” ظلال خان کی آواز میں ایک عجیب سی گہرائی آ گئی۔ “چاہے دنیا کیسے ہی مخالفت کرے۔ چاہے حالات کتنے ہی مشکل ہوں۔ میں تمہارے ساتھ کھڑا رہوں گا۔”

خاموشی نے فضا کو گھیر لیا۔ لائبریری کا ایک ملازم دور سے گزرا، اس کی جوتوں کی آواز ٹھک ٹھک کرتی ہوئی سنائی دی۔ نور کے ذہن میں تصویریں گھوم رہی تھیں اپنی ماں کی تھکی ہوئی مسکراہٹ، اپنے بیمار باپ کی بے بسی، صوفیہ کے فکرمند چہرے، اور اب ظلال خان کی سنجیدہ آنکھیں۔

کیا یہ ایک موقع تھا؟ یا ایک خطرہ؟

“ظلال خان، تم جانتے ہیں میری زندگی کیسی ہے؟” نور نے آہستہ سے پوچھا۔ “میں صبح سویرے اٹھتی ہوں۔ پہلے ہاسٹل میں سارے کام خود کرنے ہوتے ہیں اپنے، پھر یونیورسٹی آتی ہوں۔ پھر شام کو نوکری پر جاتی ہوں۔ رات گئے پڑھتی ہوں۔ میرے پاس دوستی نبھانے کا وقت نہیں ہے۔ نہ ہی میں کسی کو مایوس کرنا چاہتی ہوں۔”

“میں تمہاری مصروفیات جانتا ہوں۔” ظلال خان نے کہا۔ “اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنی زندگی بدل دو۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم اس زندگی میں ایک ساتھی پاؤ۔ جو تمہارا بوجھ ہلکا کرے۔ تمہاری راہ روشن کرے۔”

ایک لمحے کے لیے نور نے آنکھیں بند کیں۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ یہ فیصلہ مشکل تھا۔ خطرناک تھا۔ مگر اس کی زندگی میں پہلی بار کوئی تھا جو اسے محض ایک ” عام لڑکی” نہیں، ایسے “خاص” سمجھتا تھا۔

“ٹھیک ہے۔” نور نے آنکھیں کھولتے ہوئے کہا۔ “ہم دوست ہیں۔ سچے اور پکے دوست۔ خاص دوست۔”

ظلال خان کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوئی راحت؟ خوشی؟ پچھتاوا؟ شاید تینوں کا مرکب۔ “تو پھر ہاتھ ملاؤ، میری دوست۔”

نور نے ہچکچاہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ بڑھایا۔ ظلال خان نے اس کا نرم ملائم ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، ظلال خان کا ہاتھ مضبوط، صاف ستھرا۔ جب دونوں ہاتھ ملے، تو نور کے پورے وجود میں ایک سرور سا دوڑ گیا۔ یہ صرف ہاتھ ملانا نہیں تھا۔ یہ ایک رشتے کا آغاز تھا۔ ایک وعدے کی مہر تھی۔

مگر ظلال خان کے ذہن میں ایک آواز چیخ اٹھی: ‘یہ سب دکھاوا ہے! یاد رکھو، تمہارا مقصد اسے تباہ کرنا ہے۔ اسے اس کے خوابوں کے قریب لا کر پھر چھین لینا ہے۔ یہ ہاتھ ملانا عہد نہیں، جنگ کا آغاز ہے۔’

اس نے جلدی سے ہاتھ چھوڑا، جیسے کوئی گرم چیز چھو لی ہو۔

“اب تمہاری باری ہے۔” ظلال خان نے کہا، اپنی آواز کو مستحکم کرتے ہوئے۔ “تم بھی کوئی شرط رکھو۔”

نور نے سوچا۔ اس کے لیے دوستی میں سب سے اہم کیا تھا؟ وہ چیزیں جو اس نے اپنے گھر میں دیکھی تھیں خاموش قربانیاں، چھپے ہوئے جھوٹ، بے عزتی کے ڈر سے چھپائی گئی حقیقتیں۔

“میری صرف ایک شرط ہے۔” نور نے واضح الفاظ میں کہا۔ “کبھی جھوٹ مت بولنا۔ اگر کوئی بات نہیں کہہ سکتے، تو خاموش رہنا۔ مگر جھوٹ نہیں۔ جھوٹ رشتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔”

یہ شرط ظلال خان کے لیے زہر کے گھونٹ سے کم نہ تھی۔ اس کا منہ سوکھ گیا۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ شرط وہ پوری نہیں کر سکتا۔ پہلے ہی نہیں کر رہا تھا۔

“ٹھیک ہے۔” اس نے آخرکار کہا، گلا صاف کرتے ہوئے۔ “کوئی جھوٹ نہیں۔”

مگر اس کا ضمیر چیخ رہا تھا: ‘تم ابھی جھوٹ بول رہے ہو! تم ابھی جھوٹ بول رہے ہو!’

نور نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “اب ہم سچے دوست ہیں۔”

“ہاں۔” ظلال خان نے کہا۔ “اب ہم رسمی دوست ہیں۔”

اور اس لمحے، دونوں کے درمیان ایک خاموش عہد بندھ گیا۔ ایک عہد جس کی بنیاد ایک پر سچے جذبات پر تھی اور دوسرے پر جھوٹے وعدوں پر۔ ایک عہد جو یا تو دونوں کی زندگی بدل دے گا، یا دونوں کو تباہ کر دے گا۔

ظلال خان نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ بادل آسمان پر جمع ہو رہے تھے۔ شاید بارش ہونے والی تھی۔

“نور،” اس نے آہستہ سے کہا۔ “آج سے ہر وہ خواب جو تم نے دیکھا ہے، وہ میرا خواب بن جائے گا۔ تمہاری ہر خواہش میری خواہش۔ تمہاری ہر کامیابی میری کامیابی۔”

نور نے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کی۔ “شکریہ، ظلال خان۔ بس… بس سچے رہنا۔”

“ہاں۔” ظلال خان نے کہا۔ “سچے رہنا۔”

مگر وہ دونوں جانتے تھے یا شاید صرف ظلال خان جانتا تھا کہ اس رشتے کی بنیاد ہی جھوٹ پر تھی۔ اور جھوٹ پر بنی ہر عمارت ایک نہ ایک دن گرتی ہے۔

سوال یہ تھا: گرتے وقت کون زخمی ہوگا؟ صرف نور؟ یا ظلال خان بھی؟

لڑکیوں کے ہاسٹل کے باہر، املی کے درخت کے نیچے، صوفیہ نے نور کو روکا۔ شام ڈھل رہی تھی، پرندے آخری بار چہچہا رہے تھے۔

“نور، تم یونیورسٹی میں صرف تین مہینے ہوئے ہو۔” صوفیہ نے سیدھی بات کی۔ “اور ان تین مہینوں میں تم کتنی تیزی سے بدل گئی ہو، تمہیں خود احساس ہے؟”

نور نے اپنے دونوں بازو سینے سے باندھتے ہوئے کہا “کیا تبدیلی؟”

“وہ نور جو پہلے دن کلاس میں آئی تھی شرمیلی، آنکھیں نیچی کیے ہوئے، ہر بات پر ‘معاف کیجئے گا’ کہتی ہوئی وہ کہاں گئی؟” صوفیہ نے اس کے قریب آ کر کہا۔ “تمہاری آنکھوں میں اب ایک عجیب سی بے صبری ہے۔ ایک جلدی۔ جیسے تم کسی کی منتظر ہو۔”

“صوفیہ، میں”

“مجھے بتاؤ،” صوفیہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “کیا تمہارے خواب پہلے بھی اتنی جلدی پورے ہونے والے تھے؟ کیا تمہارا بزنس، تمہاری فیکٹری، تمہاری کامیابی یہ سب صرف تین ماہ میں ممکن لگنے لگا ہے؟”

نور خاموش ہو گئی۔

“وہ دوستی ہو جس میں وفا کا رنگ ہو،
وہ رشتہ ہو جس میں بے تکلفی کے ساتھ ڈر بھی ہو۔”

صوفیہ نے آہستہ سے کہا: “میں ڈرتی ہوں نور۔ ‘کہ ڈر ہی تو ہے جو رکھتا ہے احتیاط سے نبھاتے ہوئے، ورنہ بے خوف تو دریا بھی کنارے بدل دیتے ہیں۔’ ظلال خان نے تمہارے خوابوں کو ایک دریا بنا دیا ہے۔ اور تم بے خوف ہو کر اس میں اترنے کو تیار ہو۔”

“مگر وہ میری مدد کرتا ہے” نور نے کہا۔

“ہاں! بالکل!” صوفیہ نے اشکبار آنکھوں سے کہا۔ “اسی سے تو میں ڈرتی ہوں۔ جب ایک امیر لڑکا ایک غریب لڑکی کی ‘مدد’ کرے وہ بھی اس تیزی سے، اس جذباتی انداز میں تو ہمیشہ یاد رکھو، اس کے پیچھے ایک قیمت چھپی ہوتی ہے۔ اور وہ قیمت… وہ قیمت اکثر وہ ہوتی ہے جو تم ادا نہیں کر سکتیں۔”

نور کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ “تم کہہ رہی ہو وہ مجھ سے”

“میں نہیں کہہ رہی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔” صوفیہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ “میں بس اتنا کہہ رہی ہوں: آہستہ چلو۔ آنکھیں کھلی رکھو۔ اور جب بھی تمہیں لگے کہ یہ سب بہت اچھا ہے، بہت تیز ہے، بہت آسان ہے تو پلٹ کر دیکھو کہ تمہارا اصل راستہ کون سا تھا۔”

شام کی ہلکی ٹھنڈی ہوا نے درخت کے پتے ہلائے۔

“صوفیہ،” نور نے آہستہ سے کہا۔ “تم سمجھتی ہو میں احمق ہوں؟”

“نہیں۔” صوفیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “تم محتاج ہو۔ محتاج ایک اچھے دوست کی، محتاج سہارے کی، محتاج اس بات کی کہ کوئی تمہیں بتائے: تمہارے خواب پورے ہوں گے۔ اور جب کوئی تمہاری اس محتاجی کو پہچان لے… تو وہ تمہیں جو چاہے، وہی دکھا سکتا ہے۔”

صوفیہ نے نور کو الوداع کہا۔ اور نور وہیں کھڑی رہی املی کے درخت کے نیچے ایک ایسے فیصلے کے سنگم پر جو یا تو اس کی زندگی بنائے گا، یا بگاڑ دے گا۔

دل سوال کر رہا تھا: “کیا صوفیہ کی بات میں سچائی ہے؟ یا محض حسد؟”
اور ظلال خان کا وعدہ گونج رہا تھا: “میں تمہارے خواب پورے کروں گا۔”

کون سچا تھا؟ صرف وقت ہی بتا پائے گا۔

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *