جے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی

جے شنکر کے بیان پر انڈیا اور پاکستان دونوں میں مایوسی: ’ہماری سفارتی ناکامی نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ثالث بنا دیا‘

پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش پر انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا ایک بیان سرحد کے دونوں جانب بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق جے شنکر نے بدھ کی شب ایک بند کمرہ اجلاس کے دوران کہا کہ ’انڈیا پاکستان کی طرح بروکر ملک نہیں بننا چاہتا۔‘

انڈین وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں ترجمان ظاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے دوران بعض انڈین رہنماؤں نے مودی حکومت پر تنقید کی تھی۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ایک بیان جے شنکر پر تنقید کی اور کہا کہ ’جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں، اور اُن کا یہ بیان اُن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔‘

جے شنکر نے یہ بات کہاں اور کیوں کی؟

انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایران جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی اہمیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا پاکستان کی طرح ’بروکر‘ ملک نہیں بننا چاہتا۔‘

انڈین میڈیا کے مطابق یہ بات انھوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر حکومت کی پالیسیوں پر وضاحت کے لیے بدھ کو طلب کی گئی ایک کل جماعتی میٹنگ میں کہی۔

بند کمرے میں ہونے والی اس میٹنگ کے دوران انڈیا میں حزب اختلاف کے بعض ارکان نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے لیے پاکستان کے ذریعے ثالثی کیے جانے کا ذکر کیا اور ان سے یہ جاننا چاہا کہ کیا یہ انڈیا کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *