romance novels

romance novels

ناول_تاوانِ_عشق

romance novels

قـسط_1

اس کے ہاتھ میں وہ کاغذ تھا جو کسی مقدس کتاب سے کم نہ تھا۔ ڈاکٹر کے کلینک کی سفیدی اب بھی اس کی آنکھوں میں تھی وہ میڈیکل رپورٹ جس پر لال حروف میں لکھا تھا: “پوزیٹیو۔ حمل: تقریباً 8 ہفتے۔”

ڈاکٹر صاحبہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا، “مبارک ہو بیٹی، تم ماں بننے والی ہو۔”

یہ الفاظ اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہے تھے، جیسے کوئی میٹھی ساز۔ اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا، اور اندر ایک ننھی سی حرکت محسوس کی کوئی پلپلاہٹ، جیسے ایک چھوٹی سی مچھلی پانی کے اندر اپنی دم ہلائے۔ زندگی۔ اس کے اندر ایک اور زندگی پل رہی تھی۔ ظلال کی زندگی۔ اُن دونوں کے محبت کے پھل کی زندگی۔

سارا راستہ، وہ بس کی کھڑکی سے باہر دھندلے شہر کو دیکھتی رہی۔ ہر عمارت، ہر بتی، ہر چہرہ اسے مبارکباد دیتا محسوس ہوا۔ وہ سوچتی رہی وہ یہ خبر سناتے ہوئے کیسے مسکرائے گی۔ کیا وہ اسے اٹھا کر گھمائے گا؟ کیا وہ اپنا سر اس کے پیٹ پر رکھ کر سنے گا؟ کیا وہ اس کے نام سوچے گا؟ لڑکا ہوگا یا لڑکی؟ اس کے بال ظلال خان جیسے گھنگھریالے ہوں گے یا اس جیسے سیدھے؟

اس کے ہونٹوں پر ایک مسکان تیرتی رہی، وہ مسکان جو چھتیں چڑھاتی تھی۔

سپریم ریزڈینس کے باہر، وہ کھڑی تھی۔ یہ عمارت جہاں ظلال خان رہتا تھا، شیشے اور سٹیل کا ایک ٹاور تھی جو آسمان کو چھونے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا تھا۔ نور نے اپنے کپڑے سیدھے کیے وہ نیلا سوٹ جو ظلال نے کہا تھا کہ اس پر اچھا لگتا ہے۔ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا، اور سانس لیا۔

اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔

دروازہ کھلا۔

romance novels

اور وقت نے سانس روک لیا۔

ظلال خان کھڑا تھا۔ مگر وہ وہ ظلال نہیں تھا جس سے وہ کل ہی مل کر آئی تھی۔ اس کی آنکھیں وہ آنکھیں جو کبھی اسے دیکھتے ہی پگھل جاتی تھیں، جو اس کی باتوں پر چمکتی تھیں اب دو ٹھنڈے، بے جان پتھر تھے۔ اس کا چہرہ ایک کڑوی مسکراہٹ سے بنا ہوا تھا، جو دراصل مسکراہٹ نہیں بلکہ ایک بے رحم ماسک تھا۔

“تم؟” ایک لفظ۔ ایک خنجر۔

“ظلال، میں…” نور نے اپنی آواز میں مستقلیت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ “میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔ یہ دیکھو۔”

اس نے رپورٹ آگے بڑھائی۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے خوشی سے یا ڈر سے، وہ خود نہیں جانتی تھی۔

ظلال خان نے کاغذ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس کی نظر نور کے چہرے سے پھسل کر اس کے سادہ جوتیوں پر گئی، پھر اس کے ہاتھوں پر وہ ہاتھ جن پر ابھی بھی گھر کے کاموں کے نشان تھے اور پھر اس کے بنے ہوئے بالوں پر۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک آئی جو نور نے پہچانی وہ چمک جو اسے حقارت کے لمحوں میں آتی تھی۔

“تمہیں لگتا ہے ایک بچہ مجھے باندھ لے گا؟” اس کی آواز میں کوئی جذبات نہیں تھے، صرف برفیلے پانی کی روانی تھی۔ “تم جیسی بدچلن لڑکیاں تو ہر دروازے پر اپنے کاغذ لے کر آ جاتی ہیں۔ کس کس کو پہچانوں؟”

بدچلن۔

لفظ ہوا میں لٹک گیا۔ نور کے کانوں میں ایک تیز سیٹی بج گئی۔ اس کا سینا سکڑ گیا۔ سانس اندر ہی رک گئی۔ رپورٹ کے کاغذ اس کے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے گرنے لگے، سفید پرندوں کی طرح ہوا میں لتھڑ گئے۔

“تم… تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ تمہارا بچہ ہے، ظلال! ہم دونوں کا بچہ!” اس کی آواز اب رونے کے قریب تھی۔

“میرا بچہ؟” ظلال کا ہونٹ ایک کڑوی مسکراہٹ سے مڑا۔ “تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟ کوئی ڈی این اے؟ کوئی ویڈیو؟ تمہاری طرح کی لڑکیوں کے حربے مجھ پر نہیں چل سکتے۔”

اس نے دروازے سے باہر قدم بڑھایا۔ قریب آیا۔ اور پھر بغیر کسی انتباہ کے اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ زور کا دھکا۔

نور کے پیروں نے زمین کھو دی۔ وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑائی۔ سیڑھیوں کا کنارا۔ نیچے خالی پن۔ اور پھر وہ گرتی ہوئی محسوس ہوئی نہ صرف سیڑھیوں پر، بلکہ ایک ایسی کھائی میں جو بغیر تہ کے تھی۔

اس کی آنکھوں کے سامنے صرف وہ چہرہ تھا وہی چہرہ جسے چھونے کے لیے اس کی انگلیاں ترستی تھیں، جسے دیکھے بغیر اس کی نیند نہیں کھلتی تھی اب ایک بیگانہ، بے رحم ماسک بن چکا تھا۔

ٹھک! دروازہ بند ہونے کی آواز نے اس کے دل کے تار توڑ دیے۔

نیچے، لابّی کے سنگ مرمر کے فرش پر، وہ اپنے گھٹنوں پر تھی۔ گرے ہوئے کاغذ ہوا میں اُڑ رہے تھے۔ ڈاکٹر کی لکھی ہوئی وہ مقدس لکیریں، اب کوڑے کے کاغذوں کی طرح بکھر رہی تھیں۔ سفید اوراق پر لال مہریں دھبے لگ رہی تھیں۔

اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ اندر وہ ننھی سی حرکت اب ایک خوفناک خاموشی میں بدل چکی تھی۔ جیسے بچہ جان گیا ہو کہ اس کا باپ اسے نہیں چاہتا۔

“امی…” اس کے ہونٹوں سے آواز نکلی، وہی لفظ جو اس نے چھوٹی سی بچی ہونے پر ہر ڈر، ہر درد میں پکارا تھا۔

سیکیورٹی گارڈ قریب آیا۔ “بی بی، یہاں سے اٹھیں۔”

اس نے اسے اٹھانے کی کوشش کی۔ نور نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ ایک ایک کر کے کاغذ اٹھائے۔ ہر کاغذ اٹھاتے ہوئے، اس کا دل ٹوٹتا گیا۔

باہر نکلتے ہوئے، اس نے اوپر دیکھا چوتھی منزل کی کھڑکی۔ پردہ ہل رہا تھا۔ شاید وہ وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا۔ شاید نہیں۔

سڑک پر، بارش کے ہلکے ہلکے قطرے گرنے لگے۔ آسمان بھی رو رہا تھا۔

دس سالہ نور اپنے باپ گلاب خان کے سائیکل کے پیچھے بیٹھی تھی۔ اس کی چوٹی کی دو چوٹیاں ہوا میں جھوم رہی تھیں، جیسے دو چھوٹے پرندے آزادی کے گیت گا رہے ہوں۔

“ابا، آج مجھے آگے بیٹھا دیں! میں خود پینڈل ماروں گی!” اس نے ضد کی۔
“ارے بیٹا،لڑکیاں سائیکل نہیں چلاتیں,” گلاب خان نے نرمی سے کہا، مگر ان کی آواز میں فخر تھا۔ ان کی بیٹی ہر چیز سیکھنا چاہتی تھی۔
“تو میں پہلی چلاؤں گی!میں چاند پور کی پہلی لڑکی بنوں گی جو سائیکل چلائے گی!” نور کا دعویٰ تھا۔

یہی وہ نور تھی “اکلوتی” بیٹی، جسے گاؤں والے پیار سے “چڑیا” کہتے تھے۔ وہ بیٹی جو صبح سویرے لڑکوں کے ساتھ نہر پر مچھلیاں پکڑنے جاتی، درختوں پر چڑھ کر آم توڑتی، اور استاد سے ایسے سوال پوچھتی کہ استاد گھبرا کر کہتا، “یہ سب تمہیں شادی کے بعد پتہ چل جائے گا۔”

مگر نور کا جواب ہوتا، “کیوں شادی تک انتظار کروں؟ مجھے ابھی جاننا ہے!”

سال گزرے۔ نور سولہ سال کی ہوئی۔ اس کا چہرہ گندم گوں، آنکھیں بڑی بڑی اور ان میں ایک عجیب سی چمک تھی جاننے کی بھوک۔ وہ بھوک جو کتابوں سے بھی نہیں بجھتی تھی۔

ایک شام، اس نے گاؤں کے اسکول کے ہیڈماسٹر صاحب کی میگزین دیکھی۔ شہر کے ایک کالج کی تصویر تھی شیشے کی ایک عظیم عمارت جس میں سیکڑوں روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔

“یہ کیا ہے، ماسٹر صاحب؟” اس نے پوچھا۔
“یہ شہر کا’پریسٹیج کالج’ ہے، نور۔ یہاں وہ پڑھتے ہیں جو بڑے بنتے ہیں ڈاکٹر، انجینئر، افسر۔”
“میں یہاں پڑھوں گی۔”

ہیڈماسٹر نے مسکرا کر سر ہلایا، مگر آنکھوں میں افسوس تھا۔ “بیٹی، ہمارے چاند پور سے کوئی لڑکی آج تک شہر نہیں گئی۔ تمہاری عمر ہے، تمہاری شادی جلد طے ہو جائے گی۔ تمہاری ماں تمہارے لیے اچھا رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں۔”

نور نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مگر اس رات، اس نے اپنی چھوٹی سی ڈائری میں لکھا: “میں جاؤں گی۔ میں پڑھوں گی۔ میں وہ روشنیاں اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی۔”

وقت آیا جب اس کے گھر شادی کے پیغامات آنے لگے۔ ماں فاطمہ بی بی خوش تھیں۔ “بیٹی، اچھا گھر ہے۔ لڑکا کالج پاس ہے۔ اس کے پاس اپنی دوکان ہے۔ راضی ہو جاؤ۔”

رات کا کھانا ختم ہوا۔ چراغ کی لو ہلکی ہلکی ڈول رہی تھی۔ نور نے اپنے والدین کے سامنے ہاتھ جوڑے۔

“امی، ابا… مجھے صرف دو سال دیجیے۔ میں شہر جا کر پڑھ لوں، ڈگری لے لوں، پھر آپ جو کہیں گے، وہ کروں گی۔ مجھے موقع دیجیے۔”

“بیٹی، تنہا لڑکی کا شہر جانا…” گلاب خان کی آواز میں فکر تھی۔ “تمہیں پتہ ہے وہاں کیا ہوتا ہے؟”
“میں تنہا نہیں رہوں گی،ابا۔ میں ہوسٹل میں رہوں گی۔ میں پارٹ ٹائم کام کروں گی۔ میں محنت کروں گی۔ مجھے اپنے لیے جینے دیجیے۔”

بحث رات بھر جاری رہی۔ فاطمہ بی بی روئیں۔ گلاب خان خاموش رہے۔ نور کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ارادہ پہاڑ جیسا۔

صبح ہوئی۔ پہلی اذان ہو رہی تھی۔ نور اپنی ماں کے سامنے کھڑی تھی، جو چادر اوڑھے سو رہی تھیں۔ اس نے ماں کا ہاتھ چوما۔

“امی، اگر آپ مجھے نہیں جانے دیں گے، تو میں پوری زندگی ایک خالی صندوق کی طرح رہوں گی۔ اندر کچھ نہیں ہوگا۔ مجھے بھرنے دیجیے۔ مجھے اپنے خوابوں کے لیے جینے دیجیے۔”

فاطمہ بی بی نے آنکھیں کھولیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں دیکھا وہ آنکھیں جو بچپن سے ہی کہتی تھیں: “میں مختلف ہوں۔ میں سمجھتی ہوں۔ میں کر سکتی ہوں۔”

انہوں نے اپنی بیٹی کو گلے لگایا۔ اور آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا، “جا بیٹی… جا۔ پر ہمیشہ اللہ کو یاد رکھنا۔”

گلاب خان نے اپنی بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “بیٹا، ہر بات پر لڑائی مول نہ لینا۔ دنیا ہماری گلی جیسی نہیں ہے۔ وہاں دل بھی پتھر کے ہوتے ہیں۔”

اور نور کا جواب تاریخ تھا، وہ جواب جو اس کے بچوں کو بھی ورثے میں ملے گا: “میں ہر بات پر لڑائی مول لوں گی، ابا۔ کیونکہ اگر میں نہیں لڑوں گی، تو میری بیٹی کے لیے یہ لڑائی اور بھی مشکل ہو جائے گی۔”

روانگی کے دن، بس اسٹاپ پر، نور کے پاس صرف ایک چھوٹا سا بستہ تھا کپڑے، چند کتابیں، اور وہ ڈائری۔ ماں نے دعا کے ساتھ کچھ نوٹ اس کے ہاتھ میں دبائے۔ باپ نے اپنی پورچ سے ایک پرانا بٹوہ نکالا، جس میں پانچ سو روپے تھے ان کی ایک ماہ کی کمائی۔

“لے بیٹا… بس… کھانا کھانا۔”

بس آئی۔ دروازہ کھلا۔ نور نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا ماں کے آنسو، باپ کی مجبوری، گاؤں کی مٹی کی خوشبو، وہ کچا راستہ جس پر اس نے بچپن گزارا تھا۔

اور پھر وہ سیدھی ہو گئی۔ قدم بڑھایا۔ بس میں چڑھ گئی۔

بس چلی۔ گاؤں پیچھے رہ گیا۔ دھول کے بادل اٹھے۔

اور نور کے سامنے تھا شہر چمکتی ہوئی عمارتوں کا جنگل، جہاں روشنی اتنی تیز تھی کہ وہ سچائی کو چھپا دیتی تھی، اور سائےؤں کو اور بھی گہرا بنا دیتی تھی۔

اسے نہیں معلوم تھا کہ انہی گہرے سائےؤں میں سے ایک سایہ ظلال خان اس کی تقدیر بننے کو تیار بیٹھا ہے۔ ایک ایسا سایہ جو پہلے اسے سایہ دے گا، پھر اسے جلاتے ہوئے سورج میں دھکیل دے گا۔

شہر پہنچتے ہی نور نے اپنا چھوٹا سا کمرہ دیکھا ایک کمرا جس میں صرف ایک پلنگ، ایک الماری اور ایک کھڑکی تھی۔ کھڑکی سے شہر کی روشنیاں اندر آ رہی تھیں۔ اس نے چائے بنائی۔ پتیلی میں پانی ابل رہا تھا، اور اس کا دل بھی اسی طرح کی امید سے بھرا ہوا تھا۔ کل اس کا کالج میں پہلا دن تھا۔ اور کل ہی، وہ ایک ایسی آنکھ سے ٹکرائے گی جو اسے پہلی نظر میں ہی بتا دے گی یہ سفر محبت کی کہانی نہیں، جنگ کی کہانی ہوگی۔

جب نور بس میں چاند پور کی دھول بھری سڑک چھوڑ رہی تھی، اسی شہر کے دوسری طرف، ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہوا میں بھی طاقت کی خوشبو تھی۔

شاہی محل لوگ اسے یہی نام دیتے تھے۔ یہ کوئی پرانا محل نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع و عریض جدید حویلی تھی جو شہر کے سب سے قیمتی پلاٹ پر کھڑی تھی۔ اس کے چاروں طرف اونچی دیواریں، دروازے پر سیکیورٹی گارڈ، اور اندر فواروں سے اُچھلتا پانی۔

ظلال خان اس حویلی کے وارث تھے۔ پٹھان خاندان کے آخری بیٹے۔ ان کا خاندان صدیوں سے اس خطے کی زمینوں کا مالک تھا۔ کہا جاتا تھا کہ ان کے دادا کے پاس اتنی زمین تھی کہ ایک طرف سے دوسری طرف جانے میں گھوڑے کو دو دن لگتے تھے۔

اب وہ زمینیں کم ہو گئی تھیں، مگر طاقت نہیں۔ اب وہ زمین کی بجائے کاروبار، ہوٹل اور پلازوں کے مالک تھے۔

صبح کے آٹھ بجے۔ ظلال اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے۔ نیچے باغ میں ملازم پھولوں میں پانی دے رہے تھے۔ ان کے والد، خان صاحب، اخبار پڑھ رہے تھے۔

“ظلال، آج یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملنا ہے۔ وہ نئے ہاسٹل کے لیے زمین چاہتے ہیں,” خان صاحب نے بغیر نظر اٹھائے کہا۔
“جی بابا سائیں۔میں نمائندہ بھیج دوں گا۔”
“نہیں۔تم خود جاؤ۔ یہ رشتہ بھی دیکھ لو گے۔ وائس چانسلر کی بیٹی تمہارے لیے ٹھیک رہے گی۔”

ظلال خان نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی زندگی ان چار دیواریوں کے اندر پہلے سے طے ہے تعلیم، کاروبار، اور پھر ایک “مناسب” شادی۔

ظلال خان کی ماں، زینب بیگم، اگرچہ پختون خاندان سے تھیں لیکن جدید خیالات کی مالک تھیں۔ انہوں نے لاہور کے ایک بہترین کالج سے تعلیم حاصل کی تھی اور اب ایک خواتین کی تنظیم کی صدر تھیں۔

ظلال خان نے مسکرانے کی کوشش کی۔ “مورے ، مجھے ابھی پڑھائی پر توجہ دینی ہے۔”

مگر اندر، وہ ایک عجیب سی خالی محسوس کر رہے تھے۔ یہ سونے کے پنجرے میں رہنے کا احساس سب کچھ ہے، مگر کچھ بھی نہیں۔

دوپہر، وہ اپنی نئی بلیک مرسیڈیز میں یونیورسٹی جا رہے تھے۔ ڈرائیور آہستگی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ ظلال خان نے باہر دیکھا شہر کے لوگ، دوڑتے ہوئے، مصروف۔

کبھی انہوں نے سوچا تھا کہ ایک دن وہ ان لوگوں میں سے ایک بنیں گے۔ عام۔ آزاد۔ مگر وہ جانتے تھے کہ وہ کبھی عام نہیں ہو سکتے۔ ان کا نام، ان کا خاندان، ان کی وراثت یہ سب ان کا مقدر تھا۔

یونیورسٹی پہنچے۔ گاڑی رکی۔ دروازہ کھلا۔ اور جیسے ہی وہ باہر نکلا، ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ طالب علم رک گئے۔ کچھ نے سلام کیا۔ کچھ نے گھور کر دیکھا۔

وہ ظلال خان تھے۔ اور خانوں کے لیے راستہ خود بخود خالی ہو جاتا تھے تھے

اسے نہیں معلوم تھا کہ اگلے ہفتے، ایک لڑکی جو چاند پور سے بس میں سفر کر کے آ رہی ہے، اس کی اس مصنوعی دنیا میں طوفان برپا کر دے گی۔ ایک ایسی لڑکی جو نہ تو اس کے سامنے جھکے گی، نہ خاموش رہے گی۔

اور وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ ان کی ملاقات محبت کی نہیں، بلکہ تباہی کی شروعات ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *