sad novels

sad novels

ناول_تاوانِ_عشق

قـسط_9

sad novels

تمہاری ایک نظر نے یہ کیا کمال کیا
میرے ادھورے دل کو مکمل مثال کیا
تمہاری باتوں میں خوشبو سی بس گئی ہے
ہر ایک لفظ نے مجھ کو بے حال کیا
تم آ گئے ہو تو موسم سنور گئے سارے
تمہارے لمس نے ہر دکھ نڈھال کیا
میں سوچتا رہا خود کو بھلانے کی راہ
مگر تمہاری یاد نے سوال کیا
تمہارے نام سے دھڑکن نے مانگی دعا
یہ دل بھی اب تمہیں ہی اپنا حال کیا
اگرچہ فاصلے حائل رہے ہمارے بیچ
محبتوں نے مگر سب کو پامال کیا!!
ہاسٹل کے کمرے کی کھڑکی سے ٹوٹتی ہوئی شام کی کرنوں نے دیوار پر سنہری دھاریاں سجا دی تھیں۔ نور اپنے بیڈ پر چپ چاپ لیٹی تھی، اُس کی انگلیاں بے اختیار گلے میں لٹکتے ہوئے اُس چین کے لوکٹ پر چل رہی تھیں جس پر “نور” کندہ تھا۔ ہر حرف اُس کی انگلی کے پوروں پر ایک عجیب سی گرماہٹ چھوڑ جاتا۔ سامنے والے بیڈ پر صوفیہ کتاب کھولے بیٹھی تھی، مگر اُس کی نظریں کتاب کے حروف پر نہیں، نور کے چہرے پر تھیں جو ہر لمحہ کسی اندرونی جنگ میں الجھتا نظر آتا تھا۔

“تو… کل تم گھر جا رہی ہو؟” صوفیہ نے آواز کو نرم رکھتے ہوئے کہا، جیسے کوئی نازک شیشہ ٹوٹنے سے بچانا چاہ رہی ہو۔

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ “ہاں۔ ابّا کی طبیعت پھر بگڑی ہے۔ ڈاکٹر نے نئی ادویات دی ہیں۔”

“اور وہ… ظلال خان؟ اُسے تم نے بتایا؟”

نور کی پلکوں میں ہلکی سی کپکپی دوڑ گئی۔ “ہاں۔ اُس نے کہا ہے کہ اگر کچھ مدد چاہیے تو…”

“تو تم نے کہا؟” صوفیہ نے کتاب ایک طرف رکھ دی۔

“کیا کہتی؟” نور نے آنکھیں کھولی، اُس کی نظریں چھت پر جم گئیں۔ “صوفیہ، تم جانتی ہو وہ کون ہے۔ اُس کی ایک بات پر پورا ہسپتال تیار ہو سکتا ہے۔ مگر میں… میں صرف اُس کی دعاؤں کی محتاج ہوں۔”

صوفیہ نے ایک گہرا سانس لیا، اُٹھ کر نور کے بیڈ کے کنارے پر آ بیٹھی۔

“نور،” صوفیہ کی آواز میں وہ تلخی نہیں تھی جو اکثر ہوتی ہے، بلکہ ایک دھیمی سی چبھن تھی۔ “تمہاری آواز جب اُس کا نام لیتی ہے… وہ ایک ایسی لڑکی کی آواز نہیں لگتی جو محبت میں ہے۔ وہ ایک اداکارہ کی آواز لگتی ہے جو اپنا ڈائیلاگ بار بار ریہرسل کر رہی ہو۔”

نور اچانک بیٹھ گئی۔ اُس کے چہرے کا رنگ ہلکا سا پھیکا پڑ گیا۔ “تم کیا کہنا چاہتی ہو صوفیہ؟”

“میں کہنا چاہتی ہوں کہ تمہاری آنکھیں تمہارے منہ سے الگ زبان بولتی ہیں۔” صوفیہ نے آہستہ سے نور کا ہاتھ تھاما، جو قدرے ٹھنڈا تھا۔ “جب تم مجھ سے بات کرتی ہو، تمہاری آنکھیں سیدھی میری آنکھوں میں دیکھتی ہیں۔ مگر جب تم اُس کا ذکر کرتی ہو، تمہاری نظریں بھٹکتی ہیں… یا پھر اِس چین پر ٹک جاتی ہیں۔ جیسے تم خود کو یقین دلانا چاہتی ہو کہ یہ سب حقیقت ہے۔”

نور کا ہاتھ صوفیہ کی گرفت میں تھا، مگر وہ ایک پتھر کی مانند سخت تھا۔ “شاید… شاید میں ڈرتی ہوں۔”

“ڈرتی ہو؟”

“ہاں۔” نور کی آواز اب ایک کانپتی ہوئی سرگوشی بن گئی۔ “ڈرتی ہوں کہ یہ سب بہت تیز، بہت گہرا ہو رہا ہے۔ میں نے کبھی کسی کے لیے ایسا محسوس نہیں کیا۔”

صوفیہ نے اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا، مگر اُس کی نظریں نور کے چہرے سے نہیں ہٹیں۔ “نور، محبت ڈر سے نہیں ہوتی۔ محبت میں ڈر ہوتا ہے ہاں… مگر وہ ڈر کسی چیز کے کھو جانے کا ہوتا ہے۔ تمہارے چہرے پر جو ڈر ہے، وہ کسی چیز کے مل جانے کا ڈر لگتا ہے۔”

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر سے لڑکیوں کے قہقہے اور گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں آ رہی تھیں، مگر یہ چار دیواری ایک الگ ہی دنیا تھی جہاں دو دلوں کے درمیان ایک نہ دکھائی دینے والی جنگ جاری تھی۔

“تم میرے بارے میں کیا سوچتی ہو صوفیہ؟” نور نے اچانک پوچھا، اُس کی آنکھیں اب صوفیہ سے جا ملیں۔ “کیا تم سمجھتی ہو میں… میں اُس کے پیسوں یا مرتبے کے پیچھے بھاگی ہوئی ہوں؟”

sad novels

صوفیہ نے کچھ دیر سوچا، جیسے اپنے الفاظ کو تول رہی ہو۔ “نہیں۔ اگر تم صرف پیسے کی ہوتیں، تو تمہاری آنکھوں میں وہ چمک نہ ہوتی جو آج کل ہے۔ تمہارے چہرے پر وہ تناو نہ ہوتا۔ تمہاری باتوں میں وہ جھول نہ ہوتا۔” وہ رک گئی۔ “نور، مجھے ڈر ہے کہ تم اُس سے زیادہ… اپنے آپ سے دور ہوتی جا رہی ہو۔”

نور کے ہونٹوں پر ایک کپکپاتی ہوئی مسکراہٹ ابھری۔ “شاید تم سچ کہہ رہی ہو۔ شاید میں واقعی خود کو بھولتی جا رہی ہوں۔ مگر صوفیہ… کبھی کبھار خود کو بھول جانا اچھا لگتا ہے۔”

“جب تک تمہیں واپس مل جائے۔” صوفیہ نے سیدھے الفاظ میں کہا۔ “مگر کچھ لوگ خود کو اس طرح بھولتے ہیں کہ پھر کبھی واپس نہیں آتے۔”

نور نے اپنے کندھوں پر پڑے بالوں کو پیچھے کیا۔ اُس کی حرکت میں ایک عجیب بے بسی تھی۔ “تم جانتی ہو میری زندگی کتنی سادہ تھی۔ یونیورسٹی، پڑھائی، گھر، ابّا کی بیماری… پھر وہ آیا۔ اور اُس نے مجھے محسوس کرایا کہ میں صرف نور نہیں ہوں… میں کچھ اور بھی ہو سکتی ہوں۔”

“اور وہ ‘کچھ اور’ کیا ہے؟” صوفیہ نے نرمی سے پوچھا۔

“معلوم نہیں۔” نور نے سچ کہا۔ “مگر جب وہ مجھے دیکھتا ہے… مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں روشنی ہوں۔ اور میں نے کبھی خود کو روشنی نہیں سمجھا تھا۔”

صوفیہ کی آنکھوں میں ایک نمی سی آ گئی۔ “نور، روشنی بننے کے لیے کسی کی نظروں کا محتاج ہونا نہیں پڑتا۔ تم پہلے ہی روشنی ہو۔ بس… بس تمہیں اپنے اندر دیکھنا آنا چاہیے۔”

نور نے اپنا ہاتھ اپنی گردن پر پھیرا، جہاں وہ چین چمک رہا تھا۔ “یہ چین… جب اُس نے مجھے دیا، تو اُس نے کہا تھا کہ ‘یہ تمہاری مانند ہے۔ تاریکی میں بھی چمکتا رہتا ہے۔’ اُس لمحے میں نے محسوس کیا کہ شاید… شاید وہ سمجھتا ہے۔”

“کیا سمجھتا ہے؟”

“کہ میں کون ہوں۔” نور کی آواز میں ایک نرمی آ گئی۔ “یا کم از کم… میں کون بننا چاہتی ہوں۔”

صوفیہ نے اُٹھ کر کھڑکی کی طرف قدم بڑھائے۔ باہر شام گہری ہو رہی تھی۔ “نور، تم گھر جا رہی ہو۔ وہاں تمہاری اپنی دنیا ہے۔ تمہارے والدین ہیں۔ تمہاری حقیقت ہے۔ اُس دنیا میں جا کر دیکھو… پھر سوچو۔ کیا یہ سب جو تم یہاں جی رہی ہو، وہ تمہاری حقیقت ہے یا صرف ایک خوبصورت خواب؟”

نور بھی اُٹھ کر کھڑکی پر صوفیہ کے پاس آ گئی۔ شیشے پر اُن دونوں کی عکاسی دھیمی روشنی میں تیر رہی تھی۔

“صوفیہ،” نور نے آہستہ سے کہا۔ “اگر یہ خواب ہے… تو کیا ہوا؟ کبھی کبھار اچھے خواب بھی ضروری ہوتے ہیں۔”

“جب تک تم اُنہیں خواب ہی سمجھو۔” صوفیہ نے نور کی طرف دیکھا۔ “مگر تم خواب کو حقیقت سمجھنے لگی ہو۔ اور جب کوئی خواب حقیقت بنتا ہے… تو یا تو زندگی بدل دیتا ہے، یا پھر تباہ کر دیتا ہے۔”

نور نے اپنا ماتھا ٹھنڈے شیشے سے لگا دیا۔ “مجھے معلوم ہے تم میری بھلائی چاہتی ہو۔ مگر صوفیہ… کبھی کبھار ہمیں اپنے دل کی سننی پڑتی ہے، چاہے وہ ہمیں کہیں بھی لے جائے۔”

“اور تمہارا دل تمہیں کہاں لے جا رہا ہے نور؟”

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ اُس کے ذہن میں ظلال خان کی وہ تصویر ابھری جب وہ مال میں اُس کے سامنے کھڑا تھا، پراعتماد، مضبوط، اُس کی آنکھوں میں ایک ایسی حفاظت کا احساس جو نور نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔

“مجھے معلوم نہیں۔” نور نے حقیقت میں جواب دیا۔ “مگر میں جانتی ہوں کہ میں اُس کے بغیر واپس نہیں جا سکتی۔”

صوفیہ نے ایک لمبی سانس لی۔ “تو پھر جاؤ۔ گھر جاؤ۔ اپنی حقیقت دیکھو۔ پھر فیصلہ کرو۔ بس ایک وعدہ کرو۔”

“کیا وعدہ؟”

“کہ تم اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بولو گی۔” صوفیہ کی آواز میں ایک عجیب سا ارتعاش تھا۔ “اگر تم سمجھو کہ یہ محبت ہے، تو پوری طرح محبت کرنا۔ اور اگر تم سمجھو کہ یہ کچھ اور ہے… تو جلدی سے نکل آنا۔ کیونکہ دل کے معاملات میں، جتنی دیر ہوتی ہے، زخم اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔”

نور نے صوفیہ کی طرف دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں بے شمار ان کہی باتیں تیر رہی تھیں۔ ایک دوستی کی فکر، ایک راز کا بوجھ، اور ایک ایسی راہ جو دونوں جانتے تھے کہ کبھی سیدھی نہیں ہوگی۔

“میں وعدہ کرتی ہوں۔” نور نے آہستہ سے کہا۔

صوفیہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔ “اچھا۔ تو پھر کل صبح کی بس ہے نا؟ میں تمہیں سٹیشن چھوڑنے آؤں گی۔”

“نہیں، ضرورت نہیں۔” نور نے کہا۔

“کیوں؟”

“کیونکہ… ظلال نے کہا ہے کہ وہ اپنی گاڑی سے مجھے چھوڑ دے گا۔”

صوفیہ کا چہرہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گیا۔ پھر اُس نے ہلکا سا سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے۔ تو پھر… اللہ حافظ۔”

“اللہ حافظ صوفیہ۔”

صوفیہ اپنے بیڈ کی طرف مڑی، مگر پلٹ کر دوبارہ بولی: “نور، ایک بات یاد رکھنا۔ جب تم گاڑی میں بیٹھو گی… اور راستے میں درخت، پہاڑ، کھیت گزرتے جائیں گے… اپنے دل سے پوچھنا۔ کیا تم اُس شخص کے ساتھ بیٹھی ہو جس سے تم پیار کرتی ہو؟ یا اُس شخص کے ساتھ جو تمہاری منزل تک پہنچانے کا ذریعہ ہے؟”

اور اُس نے بات مکمل کیے بغیر اپنا رخ موڑ لیا۔

نور کھڑکی کے سامنے کھڑی رہی۔ باہر رات نے کالی چادر اوڑھ لی تھی۔اُس نے چین کا لوکٹ اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔ لوکٹ کی نوک اُس کے ہتھیلی کے گوشت میں گڑ گئی، ایک ہلکی سی تکلیف دہ احساس… مگر ایک حقیقی احساس۔

اُس کے دل میں صوفیہ کا آخری سوال گونج رہا تھا۔ اور نور جانتی تھی،کہ اُس کا جواب… اُس کا جواب اُس راستے پر طے ہوگا جو کل صبح شروع ہونے والا تھا۔

صبح کی ہلکی سی دھند ابھی چھٹی بھی نہیں تھی کہ ہاسٹل کے گیٹ کے سامنے ظلال خان کی سیاہ لینڈ کروزر خاموشی سے آ کر کھڑی ہو گئی۔ نور اپنا چھوٹا سا بیگ کندھے پر ڈالے باہر نکلی تو اسے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے سانس رک سی گئی۔ ظلال گاڑی کے بونٹ پر ٹیک لگائے کھڑا تھا، سفید شرٹ اور نیوی بلیو جینز میں۔ اس کے ایک ہاتھ میں دو کافی کے کپ تھے، دوسرے ہاتھ میں ایک چھوٹا پیکٹ۔

“صبح بخیر،” ظلال نے مسکراتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں صبح کی تازگی تھی۔

“صبح بخیر،” نور نے آہستہ سے جواب دیا، اس کا دل اچانک تیز دھڑکنے لگا۔

“یہ لو، گرم گرم کافی۔ اور یہ بریکفاسٹ سینڈوچ، راستے میں کھانا۔” ظلال نے کپ اور پیکٹ آگے بڑھایا۔

نور نے کپ تھاما۔ اس کی انگلیاں ظلال کی انگلیوں سے ہلکی سی چھو گئیں۔ دونوں نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں چار کیں۔ پھر نور نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔

گاڑی چلنے لگی تو صبح کی پہلی کرنیں ہائی وے پر پھیلنے لگیں۔ نور نے کافی کا گھونٹ لیا۔ وہ بالکل ویسی تھی جیسی اسے پسند تھی ہلکی میٹھی، بالکل اس کے مزاج کے مطابق۔

“تم… تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں کافی کیسے پیتی ہوں؟” نور نے حیرت سے پوچھا۔

ظلال نے مسکراتے ہوئے سڑک پر نظریں جمائے رکھیں۔ “تمہاری ہر بات نوٹ کرتا ہوں، نور۔ تم جب یونیورسٹی کی کینٹین میں کافی پیتی ہو، ہمیشہ دو چینی ڈالتی ہو، اور اسے پینے سے پہلے پانچ منٹ ٹھنڈی ہونے دیتی ہو۔”

نور کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں۔ “تم… تم نے یہ سب دیکھا؟”

“ہاں۔” ظلال کا جواب سیدھا تھا۔ “اور بہت کچھ دیکھا ہے۔ جیسے تم پڑھتے وقت اپنے بالوں کا ایک لٹ پھیر کھینچتی ہو۔ جیسے تم پریشان ہوتی ہو تو اپنی انگلیوں کے پوروں کو آپس میں رگڑتی ہو۔ جیسے تم خوش ہوتی ہو تو تمہاری بائیں آنکھ کا کنارہ ہلکا سا سکیڑتا ہے۔”

نور خاموش ہو گئی۔ کسی نے اسے اتنے قریب سے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

کچھ گھنٹے کے سفر کے بعد، ظلال نے گاڑی ایک پٹرول پمپ کے ریسٹورنٹ کے سامنے روکی۔ “آرام سے کچھ کھا لیں، باقی سفر طویل ہے۔”

کھانے کے دوران، ظلال نے گلوری باکس سے ایک چھوٹا سا gift باکس نکالا۔ “یہ لو۔ تمہارے لیے ہے۔”

نور نے ربن کھولا۔ اندر ایک خوبصورت، گلابی رنگ کا ٹچ اسکرین موبائل فون تھا۔

“ظلال، میں… میں یہ قبول نہیں کر سکتی۔” نور کی آواز میں جھجھک تھی۔

“میں جانتا ہوں تمہارے پاس پہلے ہی موبائل ہے،” ظلال نے نرمی سے کہا۔ “مگر اس میں ویڈیو کال نہیں ہوتی۔ اور جب تم گھر ہو گی، اور میں تمہاری آواز کے ساتھ تمہارا چہرہ بھی دیکھنا چاہوں گا… تو یہ ہمارے لیے آسان ہوگا۔”

“یہ بہت مہنگا ہے۔”

“کسی کی خوشی کی قیمت نہیں ہوتی، نور۔” ظلال نے اس کا ہاتھ ہلکے سے تھاما۔ “اور تمہاری مسکراہٹ… اس کی تو کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔ بس اسے قبول کر لو۔ میرے لیے۔”

نور نے موبائل کو ہاتھ میں لیا، آنکھیں نم ہو گئیں۔ “میں… میں شکریہ کیسے ادا کروں؟”

“مسکرا دو۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔

چند گھنٹے بعد، جب گاڑی نور کے گاؤں کے قریب پہنچی، تو نور نے ہچکچاتے ہوئے کہا، “یہیں روک دو۔”

ظلال نے گاڑی سائیڈ پر لگائی۔ “گھر تو ابھی دور ہے۔”

“لوگ دیکھیں گے… کسی لڑکے کی گاڑی میں آتی ہوئی۔ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔” نور کی آواز میں شرم اور ڈر دونوں تھے، مگر حقارت بھی تھی ان گاؤں والوں کی باتوں کے لیے جو ہر نئی چیز پر انگلی اٹھاتے ہیں۔

ظلال نے سمجھداری سے سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے۔ میں تمہیں یہیں چھوڑ دیتا ہوں۔”

نور نے بیگ اٹھایا اور گاڑی سے اتری۔ چند قدم چلی ہی تھی کہ ظلال کی آواز اسے روک گئی۔

“نور!”

وہ پیچھے مڑی۔ ظلال گاڑی سے اتر کر اس کی طرف آ رہا تھا، ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ اس کے قدم آہستہ تھے، مگر یقین سے بھرے ہوئے۔
اور جیسے جیسے وہ قدم اگے بڑھا رہا تھا نور کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں ہمیشہ ہی ایسے ہوتا تھا ضلال خان جب بھی اس کے قریب آتا اس کی دھڑکنیں الگ ہی تال پر رقص کرنا شروع کر دیتی تھیں۔۔

“یہ رکھ لو۔” اس نے لفافہ اس کی طرف بڑھایا۔

“یہ کیا ہے؟”

“کچھ پیسے۔ تمہارے والد کے علاج کے لیے۔”

نور نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔ “نہیں ظلال خان، میں یہ نہیں لے سکتی۔”

“یہ قرض ہے۔” ظلال خان نے اپنی بات جاری رکھی۔ “جب تمہارے پاس ہو گے، تو مجھے واپس کر دینا۔ بس ایک وعدہ رہے گا ہمارے درمیان… کہ تم مجھے پیسے واپس کرنے آؤ گی۔”

نور نے لفافے کو دیکھا، پھر ظلال خان کی آنکھوں میں دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی رحم یا شفقت نہیں تھی، بلکہ احترام تھا۔ ایک ایسا احترام جو اسے برابری کی سطح پر دیکھ رہا تھا۔

“میں… میں واپس کر دوں گی۔” نور نے آہستہ سے کہا، اور لفافہ لے لیا۔

“میں جانتا ہوں۔” ظلال خان مسکرایا۔ “اور ہاں… اس نئے موبائل سے مجھے مسج کرنا۔ ہر روز۔ تاکہ مجھے پتا چلتا رہے کہ تم ٹھیک ہو۔”

نور نے سر ہلایا۔ ایک لمحے کے لیے دونوں خاموش کھڑے رہے۔ درمیان میں صرف دو فٹ کا فاصلہ تھا، مگر یہ فاصلہ ایک پوری دنیا جتنا محسوس ہو رہا تھا۔

“اللہ حافظ، ظلال۔”

نور۔ احتیاط سے جانا۔”

نور مڑی اور گاؤں کی طرف چل پڑی۔ ایک مرتبہ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ظلال اب بھی وہیں کھڑا تھا، اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

اس نے لفافے کو اپنے بیگ میں چھپایا، اور نئے موبائل کو ہاتھ میں تھاما۔ یہ موبائل صرف ایک آلہ نہیں تھا۔ یہ ایک وعدہ تھا۔ ایک ایسا وعدہ جو اسے ایک ایسے شخص سے جوڑے رکھے گا جس سے وہ…

نور نے سوچنا بند کر دیا۔ ابھی نہیں۔ ابھی اسے اپنے گھر، اپنی حقیقت کا سامنا کرنا تھا۔

گاؤں کی کچی پگڈنڈی پر قدموں کے نشان بناتے ہوئے نور اپنے گھر کے چھوٹے سے دروازے تک پہنچی۔ گھر کی سفید دیواروں پر بارش کے دھبے تھے، اور چھت سے لٹکتی بجلی کی تار ہوا میں ہلکی سی جھوم رہی تھی۔ دروازہ کھلا تو اندر سے آواز آئی:

“کون ہے؟”

“میں ہوں اماں… نور۔”

اگلے ہی لمحے دروازے پر نور کی ماں کھڑی تھیں سادہ سا سلورا، چہرے پر وقت کی لکیریں، مگر آنکھوں میں وہی چمک جو بیٹی کو دیکھ کر ابھری تھی۔

“اوئے میرے اللہ! بیٹا آ گئی؟” اماں کی آواز بھر آئی۔ انہوں نے نور کو گلے لگا لیا، ایک ہاتھ سے اس کے سر پر پیار کیا۔ “اتنی دیر لگا دی؟ ہم تو…”

ان کی بات ادھوری رہ گئی، کیونکہ اندر کمرے سے نور کے والد کی کمزور آواز آئی: “نور… آ گئی ہے میری لاڈو ؟”

نور نے اماں کو چھوڑا اور اندر دوڑی۔ کمرے میں ایک پرانا پلنگ تھا جس پر اس کے ابا لیٹے ہوئے تھے چہرے پر بیماری کی مار، آنکھیں گہری دھنس گئی تھیں، مگر بیٹی کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں ایک زندگی لوٹ آئی۔

“ابّا…” نور گدی کے پاس بیٹھ گئی، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ان کے ہاتھ کی ہڈیاں نمایاں تھیں، جلد پتلی ہو گئی تھی۔ “آپ کیسے ہیں؟”

“اب ٹھیک ہوں لاڈو ، تم آ گئی تو سب ٹھیک ہو گیا۔” ابّا نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر ایک کھانسی نے انہیں جکڑ لیا۔ نور نے فوراً ان کے لیے پانی کا گلاس اٹھایا۔

اماں کچھ فاصلے پر کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ “کل رات سے تمہارا انتظار کر رہے تھے۔ کہنے لگے ‘میری بیٹی آئے گی تو میں اٹھ کر اس کے ساتھ بیٹھوں گا’۔”

نور نے ابّا کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا۔ “ابّا آپ آرام کریں۔ میں کچھ دنوں کے لیے آئی ہوں۔ لیکن جتنے دن اپ کے لیے بھی آئی ہوں میرا سارا وقت آپ دونوں کے لیے ہے، اور ابا آپ جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ، ابھی تو آپ نے مجھے سائیکل پر پورا گاؤں بھی گھومانا ہے وہ اپنے باپ کا دل لگانے کی خاطر بات کو طویل دے رہی تھی۔۔

ابّا نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا، “بیٹا، پڑھائی… وہ مت چھوٹنے پائے۔ ہماری تم اکلوتی اولاد ہے۔ تم ہمارا سہارا ہو۔”

شام کو اماں نے باورچی خانے میں روٹیاں بناتے ہوئے نور سے پوچھا، “نور، کچھ دن میں تمہارے اندر ایک تبدیلی آئی ہے۔”

نور سلاد کاٹ رہی تھی۔ “کیوں اماں؟ کیا تبدیلی؟”

“پہلے تمہارے کپڑے، تمہارا انداز… سب سادہ ہوا کرتا تھا۔ آج جو جوڑا پہن کر آئی ہو، وہ…” اماں نے روٹی پلٹتے ہوئے لفظ تلاش کیے، “وہ ہمارے گاؤں کے بازار سے نہیں لگتا۔”

نور کا چاقو رک گیا۔ “اماں، یہ… یہ شہر سے لیا ہے۔”

“اور یہ بیگ؟” اماں کی نظر نور کے نئے ہینڈ بیگ پر تھی جو اس نے کمرے میں رکھا تھا۔ “وہ بھی نیا ہے نا؟”

نور نے گھبراہٹ میں سر ہلایا۔ “جی… تھوڑی بچت کر کے لی تھی۔”

اماں نے چولہے کی آنچ کم کی اور نور کی طرف دیکھا۔ ان کی نظروں میں فکر تھی۔ “نور، تم جھوٹ بول رہی ہو۔ تمہاری آنکھیں میری آنکھوں میں نہیں دیکھ رہیں۔”

نور نے اپنا سر مزید جھکا لیا۔ “اماں…”

“میرے سامنے بیگ کھولو۔” اماں کی آواز میں نرمی تھی، مگر ایک ایسی استقامت بھی جو ٹالے نہیں ٹلتی۔

نور نے ہچکچاتے ہوئے بیگ کھولا۔ اماں قریب آئیں اور اندر دیکھا۔ چند نئے کپڑے، کچھ کتابیں… اور پھر ان کی نظر اس لفافے پر پڑی جو ظلال نے دیا تھا۔ انہوں نے لفافہ نکالا۔ اندر سے نوٹ نکلے۔

اماں کے ہاتھ کانپنے لگے۔ “یہ… یہ کیا ہے نور؟”

“اماں، یہ…” نور کی آواز کانپ رہی تھی۔

“یہ کہاں سے آیا؟” اماں نے لفافے کو ہوا میں تھامے رکھا، جیسے وہ کوئی زہریلی چیز ہو۔

“میری… میری ایک دوست نے دیے ہیں۔ ابّا کے علاج کے لیے۔”

“دوست؟” اماں نے لفظ کو ہوا میں روکا۔ “کون سا دوست ہے جو اتنی بڑی رقم دیتا ہے؟ تمہارے پاس پیسے دینے والا کوئی رشتہ دار تو ہے نہیں شہر میں۔”

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ “وہ میری کلاس فیلو ہے اماں۔ اس کا نام صوفیہ ہے۔ وہ… وہ امیر گھرانے سے ہے۔ اس نے دیکھا کہ میرے حالات ٹھیک نہیں، تو مدد کر دی۔”

اماں لفافے کو میز پر رکھ کر نور کے قریب آئیں۔ انہوں نے نور کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا، جیسے بچپن میں لیتی تھیں۔ “نور، میری طرف دیکھو۔”

نور نے آنکھیں کھولیں۔

“تمہاری ماں ان پڑھ ہے، مگر دل پڑھنا جانتی ہے۔ تم نے جب ‘صوفیہ’ کہا ہو، تمہاری آواز میں ایک جھول تھا۔ تمہاری آنکھیں دائیں جانب دیکھ رہی تھی۔” اماں کی انگلی نور کے گال پر پھیری۔ “تم جھوٹ بول رہی ہو۔”

“اماں، میں…”

“چپ رہو۔” اماں کی آواز میں محبت تھی، مگر سخت بھی۔ “اگر یہ دوست لڑکی ہے، تو پھر تمہیں یہ سب چھپانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ تم براہ راست کیوں نہیں کہہ سکی کہ ‘امی، میری ایک دوست نے مدد کی ہے’؟”

نور خاموش ہو گئی۔

“کیونکہ یہ دوست لڑکی نہیں ہے۔” اماں نے خود ہی جواب دیا۔ “یہ کوئی لڑکا ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ تمہاری ماں کو یہ بات پسند نہیں آئے گی۔”

نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “اماں، وہ واقعی اچھا ہے۔ اس کا دل صاف ہے۔ اس نے محض مدد کرنی چاہی۔”

اماں نے گہری سانس لی اور نور کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ “نور، امیر گھرانوں کی ‘مدد’ اکثر قرض ہوتی ہے۔ قرض جو پیسوں سے ادا نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری عزت، تمہارے اعتماد، تمہاری آزادی کی قیمت لگا کر دیتے ہیں۔”

نور نے اماں کے کندھے پر سر رکھا۔ “اماں، آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔”

“ہو سکتا ہے میں غلط سمجھ رہی ہوں۔” اماں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ “مگر تمہاری ماں کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جب امیر لڑکے غریب لڑکی کی ‘مدد’ کرتے ہیں، تو وہ مدد کبھی مفت نہیں ہوتی۔ اس کی قیمت چکانے کا وقت ضرور آتا ہے۔ اور وہ قیمت…” اماں کی آواز کانپ گئی، “وہ قیمت اکثر لڑکی کی عزت، اس کے خواب، اس کی آزادی ہوتی ہے۔”

نور نے اماں سے الگ ہو کر دیکھا۔ “اماں، آپ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتیں؟ آپ سمجھتے ہیں میں ایسی بیوقوف ہوں کہ اپنی عزت بیچ دوں گی؟”

“نہیں نور۔” اماں کی آنکھیں نم تھیں۔ “میں تم پر پورا بھروسہ کرتی ہوں۔ مگر میں دنیا پر بھروسہ نہیں کرتی۔ میں جانتی ہوں کہ تمہارا دل صاف ہے۔ مگر کبھی کبھار صاف دل لوگ ہی سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں، کیونکہ وہ دوسروں کے دل بھی اپنے جیسے صاف سمجھتے ہیں۔”

نور نے لفافے کی طرف دیکھا۔ “تو میں کیا کروں اماں؟ پیسے واپس کر دوں؟”

اماں نے کچھ دیر سوچا۔ “ابّا کا علاج ضروری ہے۔ یہ پیسے رکھ لو۔ مگر یاد رکھنا، یہ قرض ہے۔ ہم نے اسے واپس کرنا ہے۔ خواہ روٹیاں کم کھا کر، خواہ کام زیادہ کر کے۔”

نور نے سر ہلایا۔

“اور ایک بات اور۔” اماں نے نور کا ہاتھ تھاما۔ “اس لڑکے سے دور رہنا۔ اگر وہ واقعی تمہارا خیرخواہ ہے، تو وہ تمہاری دوری کو سمجھے گا۔ اور اگر اس کی نیت میں کھوٹ ہے… تو وہ خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔”

رات کو جب اماں سونے چلی گئیں، تو نور نے ابّا کے پلنگ کے پاس چٹائی بچھا لی۔ ابّا نے اس کا ہاتھ تھاما۔

“بیٹا، تمہاری ماں کی بات کا دل پر مت لینا۔ وہ تمہاری فکر کرتی ہیں۔”

“مجھے پتا ہے ابّا۔”

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ذہن میں ظلال خان کی وہ تصویر ابھری جب اس نے لفافہ دیا تھا “یہ قرض ہے… تم مجھے واپس کرنے آؤ گی۔”

کیا یہ سچے دل کی علامت تھی؟ یا صرف ایک اور ڈور جس سے وہ اسے باندھ رہا تھا؟

رات گہری ہو چکی تھی۔ اماں اور ابّا سو چکے تھے۔ نور اپنی چٹائی پر لیٹی ہوئی تھی، ہاتھ میں وہ نیا موبائل تھا۔ اس نے اسے آن کیا۔ اسکرین پر اس کی اور ظلال خان کی یونیورسٹی میں لی گئی ایک فوٹو تھی دونوں کینٹین میں بیٹھے ہوئے، نور شرماتی ہوئی مسکرا رہی تھی، ظلال خان اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

اس نے میسج باکس کھولا۔ ظلال خان کا میسج پہلے ہی آ چکا تھا:

“گھر پہنچ گئی؟ سب ٹھیک ہے؟”

نور نے جواب لکھنا شروع کیا، مگر الفاظ ٹائپ کرنے سے پہلے رک گئی۔ اس کی نظر اپنے سوئے ہوئے والد پر پڑی، پھر چھت پر جھڑتی ہوئی پلستر کی جھڑی پر۔

ایک طرف گھر کی سادہ حقیقت تھی ،بیماری، غربت، محبت۔
دوسری طرف وہ شخص تھا جو اسے ایک نئی دنیا دکھا رہا تھا شاپنگ مال، مہنگے موبائل، وہ احترام جو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔

سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کس دنیا کا انتخاب کرے گی۔

سوال یہ تھا کہ… کیا اس کے پاس کوئی انتخاب ہے؟

یا پھر وہ ایک ایسے راستے پر چل پڑی ہے جس کا اختتام اس کے اختیار سے باہر ہے…

جاری ہے ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *