best sad novels
ناول_تاوانِ_عشق
قـسط_10
تیری آنکھوں میں جو دیکھا وہ سکون میرا تھا
تو ملا تو یہی سمجھا کہ جنون میرا تھا
تیرا چھونا ہی مری سانس کو معنی دے گیا
تو قریب آیا تو ہر لمحہ حسین میرا تھا
تو جو مسکرائے تو دل ہار گیا بے خود سا
اس محبت میں بھلا کون سا قصور میرا تھا!!
شام کے پانچ بج رہے تھے۔ شہر کے ایک پرکشش ریستوارں کے کونے میں، ظلال خان اپنے دوست سمیع کے سامنے بیٹھا تھا۔ دونوں کے سامنے کافی کے کپ تھے، مگر ظلال خان کی توجہ کپ پر نہیں، بلکہ باہر بارش میں بھیگتے شہر پر تھی۔
“تم خاموش ہو آج۔” سمیع نے اپنی کافی میں چینی ملاتے ہوئے کہا ۔ “کچھ مسئلہ ہے؟”

ظلال خان نے کھڑکی سے نظریں ہٹائیں۔ “نور آج گاؤں گئی ہے۔”
“اور تمہیں اس کی فکر ہے؟” سمیع نے پوچھا، حیرت سے۔
“فکر؟” ظلال خان کی آواز میں ایک عجیب سی بے آواز ہنسی تھی۔ “ہاں، فکر ہے۔ کہیں میرا منصوبہ ادھورا نہ رہ جائے۔”
سمیع نے کپ رکھ دیا۔ “بھائی، میں تم سے ایک بار پھر پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا یہ سب واقعی ضروری ہے؟ مہینوں ہو گئے ہیں تم اس ڈرامے میں مصروف ہو۔”
ظلال خان کی آنکھوں میں ایک گہری تاریکی اتر آئی۔ “سمیع، تم جانتے ہو وہ دن۔ تم بھی وہاں موجود تھے۔”
“ہاں، میں وہاں تھا۔” سمیع نے آہستہ سے کہا۔ “مگر ظلال، کیا ایک تھپڑ کے لیے کسی کی زندگی تباہ کرنا صحیح ہے …”
“صرف تھپڑ نہیں تھا!” ظلال خان کی آواز اچانک تیز ہو گئی۔ اُس نے آگے جھک کر، آواز کو دبائے ہوئے کہا: “اُس نے مجھے انسانوں کے سامنے، میرے ہی دوستوں کے درمیان، ایک چٹیل کی طرح کھڑا کر دیا تھا۔ میری ساکھ، میری عزت… سب خاک میں ملا دی۔”
سمیع خاموش ہو گیا۔ اُسے وہ دن یاد تھا۔ نور، معمولی سی سادہ لڑکی، جس نے ظلال خان کے چہرے پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ مگر وہ بھی جانتا تھا کہ ظلال خان نے اس سے پہلے کیا کہا تھا… وہ الفاظ جو اُس نے نور کے بارے میں اتنے گھٹیا انداز میں کہے تھے۔
“وہ دن آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا، اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں گوندھتے ہوئے۔ “جب میں نے اسے یونیورسٹی کے باغ میں دیکھا، کتاب پڑھتے ہوئے… میں نے سوچا، یہ وہی لڑکی ہے جس نے میری عزت داؤ پر لگا دی تھی۔ اور میں نے فیصلہ کیا۔”
“کیا فیصلہ کیا؟”
“کہ میں اُسے وہ سب کچھ دوں گا جو وہ کبھی نہیں مانگ سکتی۔ پیار، تحفظ، عزت… سب کچھ۔” ظلال خان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ “اور جب وہ مکمل طور پر میری ہو جائے گی، جب اُس کا ہر خواب میرے نام ہو جائے گا… تب میں اُس سے سب کچھ چھین لوں گا۔”
سمیع نے اپنا سر ہلایا۔ “مگر ظلال… کبھی تم نے سوچا ہے کہ تم جو کر رہے ہو، وہ تمہیں کس طرف لے جا رہا ہے؟”
ظلال خان نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔ “میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اور میں جانتا ہوں کہ یہ ضروری ہے۔”
“اور نور؟” سمیع نے آواز کو نرم کرتے ہوئے پوچھا۔ “تمہیں لگتا ہے کہ وہ واقعی…”
“وہ واقعی مجھ سے پیار کرنے لگی ہے” ظلال خان نے فوری طور پر کہا۔ اور پھر اچانک، اُس کی آواز میں ایک عجیب سی کمزوری آ گئی۔ “میں جانتا ہوں۔ میں دیکھ سکتا ہوں اُس کی آنکھوں میں۔”
کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ باہر بارش تیز ہو رہی تھی۔
“تو پھر…” سمیع نے آہستہ سے کہا۔ “اگر تم جانتے ہو کہ وہ تم سے سچی محبت کرتی ہے… تو پھر یہ سب جاری رکھنا…”
“میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔” ظلال خان نے کہا، اُس کی آنکھیں اپنے ہاتھوں میں گڑی ہوئی تھیں۔ “یہ انتقام… یہ میری آنے والی ہر رات کا خواب بن گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ ویسا ہی درد محسوس کرے جیسا میں نے محسوس کیا تھا۔”
“مگر تمہیں پتا ہے،” سمیع نے ہمت کر کے کہا۔ “جب تم نے مجھ سے پہلی بار اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا… تب تمہاری آنکھوں میں صرف غصہ تھا۔ مگر آج… آج میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں۔”
ظلال خان نے سر اٹھایا۔ “کیا دیکھ رہے ہو؟”
“تضاد۔” سمیع نے سیدھے الفاظ میں کہا۔ “ایک اندرونی جنگ۔”
ظلال خان نے ایک تلخ مسکراہٹ بکھیری۔ “تم غلط دیکھ رہے ہو۔”
“ہو سکتا ہے۔” سمیع نے کہا۔ “مگر تمہاری آواز جب نور کا نام لیتی ہے… وہ وہی آواز نہیں ہوتی جو تمہاری ہونی چاہیے۔”
“کیسی ہونی چاہیے؟” ظلال خان نے تیزی سے پوچھا۔
“سرد۔ بے حس۔ محض ایک نشانے کے لیے استعمال ہونے والی آواز۔” سمیع نے اپنی بات جاری رکھی۔ “مگر تمہاری آواز… جب تم نور کے بارے میں بات کرتے ہو… اُس میں ایک عجیب سی نرمی آ جاتی ہے۔”
ظلال خان نے اچانک کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہونے کی حرکت کی، مگر پھر رک گیا۔ “تم بکواس کر رہے ہو۔”
“ہو سکتا ہے۔” سمیع نے دوبارہ کہا۔ “میرا کام صرف یہ بتانا تھا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ باقی تمہاری مرضی۔”
ظلال خان نے اپنا کوٹ اٹھایا۔ “مجھے جانا ہے۔ نور نے وعدہ کیا تھا کہ آج شام مجھے فون کرے گی۔”
“دیکھو؟” سمیع نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “تم خود بتا رہے ہو۔”
“کیا بتا رہا ہوں؟”

“کہ تم اُس کے فون کا انتظار کر رہے ہو۔” سمیع نے کہا۔ “ایک ایسا فون جس کا انتظار تمہیں نہیں کرنا چاہیے تھا، اگر تمہارا مقصد صرف انتقام ہوتا۔”
ظلال خان نے ایک لمحے کے لیے سمیع کی طرف دیکھا۔ اُس کی آنکھوں میں کچھ کہنے کی خواہش تھی، مگر الفاظ اُس کے حلق میں اٹک گئے۔ اُس نے صرف سر ہلایا اور ریستوراں سے باہر نکل گیا۔
بارش اب بھی جاری تھی۔ ظلال خان نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔ اُس نے فون اٹھایا۔ نور کا کوئی میسج نہیں تھا۔
اُس نے کچھ دیر فون کو ہاتھ میں تھامے رکھا۔ پھر اُس نے ایک تصویر کھولی نور کی تصویر۔ وہ یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھی تھی، سورج کی روشنی اُس کے بالوں پر چمک رہی تھی۔
“نور…” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔
اُس کے ذہن میں وہ لمحے گھومنے لگے۔ وہ دن جب اُس نے پہلی بار نور کو کینٹین میں دیکھا تھا۔ وہ شام جب اُس نے اُسے ہاسٹل واپس چھوڑا تھا۔ وہ رات جب نور نے اپنے والد کی بیماری کے بارے میں بتایا تھا، اور اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
ظلال خان نے آنکھیں بند کر لیں۔ اُس کے ذہن میں دو آوازیں لڑ رہی تھیں:
پہلی آواز: “یہ وہی لڑکی ہے جس نے تمہاری عزت کو پامال کیا۔ تمہیں اُسے سزا دینی ہے۔”
دوسری آواز: “مگر دیکھو، وہ تم پر کتنا اعتماد کرتی ہے۔ تمہاری طرف کتنی معصوم نظروں سے دیکھتی ہے۔”
ظلال خان نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ اُس نے تصویر کو بند کر دیا اور گاڑی چلائی۔
راستے میں، اُس کا فون بجا۔ نور کی طرف سے۔
ظلال خان نے ہیڈ فون لگایا۔ “ہیلو؟”
“ظلال؟” نور کی آواز دوسری طرف سے آئی۔ “میں نے وعدہ کیا تھا نا کہ فون کروں گی۔”
“ہاں…” ظلال خان نے کہا۔ اُس کی آواز میں ایک عجیب سی گھٹن تھی۔ “تم… تم کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں۔” نور نے کہا۔ “گاؤں میں بارش ہو رہی ہے۔ بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔”
“تمہیں بارش پسند ہے؟”
“ہاں۔” نور کی آواز میں مسکراہٹ تھی۔ “تمہیں یاد ہے؟ پہلی بار جب ہم ملے تھے، اُس دن بھی بارش ہو رہی تھی۔”
ظلال خان کو یاد تھا۔ وہ دن جب وہ یونیورسٹی کی لائبریری میں داخل ہوا تھا، اور نور کھڑکی کے پاس بیٹھی بارش دیکھ رہی تھی۔ اُس کی نظریں اُس پر پڑی تھیں، اور وہ ایک لمحے کے لیے بے اختیار ہو گیا تھا۔
“ہاں…” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “مجھے یاد ہے۔”
“آپ کیسے ہیں؟” نور نے پوچھا۔ “آپ کی آواز… تھکی ہوئی لگ رہی ہے۔”
“نہیں، ٹھیک ہوں۔” ظلال خان نے فوری طور پر کہا۔ “بس… پڑھائی کا دباؤ تھا۔”
“تم خود کا خیال رکھنا۔” نور نے نرم لہجے سے کہا۔ “مجھے آپ کی فکر ہوتی ہے۔”
یہ جملہ ظلال خان کے دل میں ایک خنجر کی طرح اترا۔ “مجھے فکر ہوتی ہے۔”
“نور…” ظلال خان نے کہا، الفاظ تلاش کرتے ہوئے۔ “اگر… اگر میں نے تمہارے ساتھ کوئی غلطی کی ہو… تو تم مجھے معاف کر سکو گی؟”
دوسری طرف خاموشی تھی۔ پھر نور نے کہا: “ظلال، تم نے میرے ساتھ کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔ تم ہمیشہ میرے لیے اچھے رہے ہو۔”
ظلال خان کا گلا بند سا ہو گیا۔ “مگر اگر… اگر مستقبل میں…”
“ظلال،” نور نے نرمی سے کہا۔ “تم آج عجیب بات کر رہے ہو۔ سب ٹھیک ہے نا؟”
“ہاں…” ظلال خان نے کہا۔ “سب ٹھیک ہے۔ بس… تمہاری یاد آ رہی تھی۔”
نور ہنسی۔ “میں بھی اگلے ہفتے واپس آ رہی ہوں۔ پھر ہم روز ملاقات کریں گے۔”
فون کال کے بعد، ظلال خان نے گاڑی سائیڈ میں لگا دی۔ بارش اب بھی جاری تھی۔ اُس نے سٹیئرنگ وہیل پر اپنا ماتھا ٹیک لیا۔
اُس کے ذہن میں سمیع کی آواز گونج رہی تھی: “اگر تمہارا مقصد صرف انتقام ہوتا…”
اور پھر نور کی آواز: “مجھے تمہاری فکر ہوتی ہے۔”
ظلال خان نے اپنی آنکھیں کھولیں۔
“نور…” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “تم نے میری زندگی میں ایسے داخل ہوئی ہو… جیسے بارش کے بعد سورج نکل آتا ہے۔”
۔ “مگر میں… میں تمہیں نقصان پہنچانے آیا تھا۔”
بارش کی آوازوں کے بیچ، ظلال خان کی آواز ایک سرگوشی بن کر رہ گئی:
“اور اب… اب میں خود نہیں جانتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔”
گاڑی کا شیشہ بارش کے قطروں سے بھر گیا تھا۔ ہر قطرہ نیچے کی طرف بہہ رہا تھا، جیسے آنسو۔
ظلال خان نے گاڑی دوبارہ چلائی۔ اُس کا چہرہ آئینے میں دیکھا وہی چہرہ جو نور کو اتنا پرکشش لگتا تھا۔ مگر آج، اُسے اپنے چہرے میں وہ شخص نظر نہیں آ رہا تھا جو وہ بننا چاہتا تھا۔
شہر کی روشنیاں بارش میں دھندلی پڑ رہی تھیں۔ اور ان روشنیوں کے درمیان، ظلال خان کی گاڑی ایسے چل رہی تھی جیسے وہ خود نہیں جانتا کہ اُس کی منزل کہاں ہے۔
رات کے دس بجے تھے۔ نور اپنے گاؤں کے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی ظلال خان کے ساتھ ویڈیو کال پر تھی۔ ظلال خان اپنے شہر کے آرام دہ کمرے میں تھا، لیکن اس کی نظریں صرف نور پر تھیں۔
“تمہارے گاؤں کی راتیں کیسی ہوتی ہیں، نور؟” ظلال خان نے نرمی سے پوچھا۔
نور نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ “خاموش۔ صرف جھینگرے کی آواز اور کبھی کبھار کتے کے بھونکنے کی۔ تمہارے شہر میں؟”
“شور ہے۔ ہر وقت۔” ظلال خان نے اپنی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا۔ “کاروں کا شور، لوگوں کی آوازیں۔ مگر آج… آج تو پورا شہر خاموش لگ رہا ہے۔”
“کیوں؟” نور نے معصومیت سے پوچھا۔
“کیونکہ تمہاری آواز نے باقی سب آوازیں دبا دی ہیں۔”
نور کے رخسار گلابی ہو گئے۔ “تم ہمیشہ ایسی باتیں کرتے ہو۔”
“سچائیوں کو ‘ایسی باتیں’ نہیں کہتے، نور۔” ظلال خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “تمہیں پتا ہے، تمہارے جانے کے بعد یونیورسٹی بہت ویران لگتی ہے۔”
“صرف چند دنوں کے لیے گئی ہوں میں۔”
“ہر لمحہ لمبا لگتا ہے۔” ظلال خان نے اپنی بات جاری رکھی۔ “آج کینٹین گیا تو وہ میز خالی پڑی تھی جہاں تم بیٹھتی ہو۔ لائبریری گیا تو وہ کرسی خالی تھی جہاں تم کتابیں پڑھتی ہو۔”
نور کا دل نرم پڑ گیا۔ کسی نے اسے اتنی اہمیت کبھی نہیں دی تھی۔ “تم… تم نے نوٹ کیا ہوا ہے یہ سب؟”
“ہر چیز۔” ظلال خان نے کہا۔ “تمہاری پسندیدہ کتابیں، تمہاری کافی کا انداز، تمہارے بیٹھنے کا طریقہ… سب۔”
“کیوں؟” نور کی آواز میں حیرت تھی۔
“کیونکہ تم میرے لیے اہم ہو، نور۔” ظلال خان نے سیدھے الفاظ میں کہا۔ “اور جو چیز اہم ہو، اس کے ہر پہلو کو یاد رکھنا چاہیے۔”
نور نے اپنا سر جھکا لیا۔ “میں… میں سمجھتی نہیں۔ میں تو صرف ایک معمولی سی لڑکی ہوں۔”
“رکو۔” ظلال خان کی آواز میں ایک عجیب سی سختی آ گئی۔ “یہ لفظ مت استعمال کرو۔ ‘معمولی’۔ تمہاری نظر میں شاید تم معمولی ہو، مگر میری نظر میں تو تم پوری کائنات ہو۔”
نور نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ظلال خان کی باتیں اس کے دل کو چھو رہی تھیں، ایسے جیسے کوئی نرم ہاتھ دل کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو۔
“ظلال…” نور نے آہستہ سے کہا۔ “تم جانتے ہو، گاؤں میں لوگ کہتے ہیں کہ…”
“کیا کہتے ہیں؟”
“کہ امیر لڑکے غریب لڑکیوں سے محبت نہیں کرتے۔” نور نے اپنا درد بانٹا۔ “کہ وہ صرف وقت گزارتے ہیں۔”
ظلال خان خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ پھر بولا: “اور تم… تم نے ان باتوں پر یقین کیا؟”
“نہیں… یعنی… میں نہیں جانتی۔”
“نور، میری طرف دیکھو۔” ظلال خان نے کہا۔
نور نے آنکھیں کھولیں اور اسکرین پر ظلال خان کی طرف دیکھا۔
“میں تمہیں وعدہ دیتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں۔” ظلال خان کی آواز میں ایک عجیب سی خلوص تھا۔ “اور وقت کے ساتھ، میں تمہیں یقین دلاؤں گا۔ بس مجھے موقع دو۔”
نور نے ہلکا سا سر ہلایا۔ “مجھے ڈر لگتا ہے۔”
“ڈرو مت۔” ظلال خان نے مسکرا کر کہا۔ “میں ہوں نا۔”
“اور اگر…” نور نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ “اگر تمہارے گھر والے… اگر وہ ماننے سے انکار کر دیں؟”
ظلال خان نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔ “نور، زندگی میں کچھ فیصلے ہمیں خود کرنے ہوتے ہیں۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔”
“کیا فیصلہ کر لیا ہے؟”
“کہ تم میرے لیے اہم ہو۔” ظلال خان نے کہا۔ “باقی سب بعد میں دیکھیں گے۔”
ویڈیو کال ختم ہونے کے بعد، نور اپنے بستر پر لیٹی رہی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ ظلال خان کی باتیں اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں۔
ایک طرف اس کی ماں کی نصیحتیں تھیں، دوسری طرف ظلال خان کا پیار۔
نور نے اپنے موبائل میں ظلال خان کی تصویر دیکھی۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو ہر لڑکی خواب دیکھتی ہے۔
پھر اچانک اسے صوفیہ کا میسج یاد آیا۔ “تمہیں پہنچتے ہی مجھ سے ملنا ہے۔ بہت اہم بات ہے۔”
نور نے سوچا۔ کیا صوفیہ کو بھی کچھ پتہ ہے؟ کیا وہ بھی اسے خبردار کرنا چاہتی ہے؟
مگر پھر اس نے ظلال خان کی بات یاد کی۔ “میں ہوں نا۔”
نور نے اپنا موبائل تکیے کے نیچے رکھ دیا کل وہ واپس جا رہی تھی۔ ظلال خان اسے لینے آ رہا تھا۔ اور پھر… پھر سب کچھ واضح ہو جائے گا۔
یا شاید… شاید اور الجھ جائے گا۔
رات کی تاریکی میں، نور کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ظلال خان کے الفاظ اس کے دل میں ایک امید جاگا گئے تھے۔ ایک ایسی امید جو شاید خطرناک تھی، مگر جسے نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں تھا۔
وہ جال میں پھنس چکی تھی۔ اور سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ اب وہ جانتی تھی کہ وہ پھنسی ہوئی ہے… مگر نکلنا نہیں چاہتی۔
صبح کی دھند میں، نور گاؤں سے واپسی کی بس میں بیٹھی تھی۔ اس کی گود میں ماں نے بنایا ہوا لنچ باکس تھا، اور دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ۔
جیسے ہی بس نے شہر کے اسٹینڈ پر رکی، نور نے دیکھا ظلال خان اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا، سفید شرٹ اور سیاہ پینٹ میں، ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ۔
“نور!” اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔
نور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ بس سے اتری اور اس کی طرف بڑھی۔
“تم آ گئیں۔” ظلال خان نے گلدستہ آگے بڑھایا۔ “ویلکم بیک”
“شکریہ۔” نور نے شرماتے ہوئے پھول لیے۔ “تم نے اتنی زحمت کی۔”
“تمہارے لیے تو کوئی زحمت بھی نہیں۔” ظلال خان نے اس کا سامان اٹھایا۔ “چلو، پہلے تمہیں ہاسٹل چھوڑتے ہیں۔”
ہاسٹل پہنچتے ہی نور نے صوفیہ کو دیکھا۔ وہ ہاسٹل کے دروازے پر کھڑی تھی، اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔
“نور!” صوفیہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ “تم آ گئیں۔”
“ہاں۔” نور نے مسکرانے کی کوشش کی۔ “تم کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں۔” صوفیہ کی نظریں ظلال خان پر تھیں۔ “ظلال خان، شکریہ نور کو چھوڑنے کا۔”
“کوئی بات نہیں۔” ظلال خان نے کہا۔ “نور، میں شام کو تمہیں فون کروں گا۔ کل ایک خاص جگہ لے جانا چاہتا ہوں تمہیں۔”
ظلال خان کے جانے کے بعد، صوفیہ نے نور کا ہاتھ تھاما۔ “چلو، کمرے میں چلتے ہیں۔ تم سے اہم بات کرنی ہے۔”
کمرے میں داخل ہوتے ہی، صوفیہ نے دروازہ بند کیا۔
“کیا بات ہے صوفیہ؟ تم بہت پریشان لگ رہی ہو۔” نور نے پوچھا۔
“نور، بیٹھو۔” صوفیہ نے سنجیدگی سے کہا۔ “یہ بات بہت اہم ہے۔”
نور بیٹھ گئی۔ صوفیہ اس کے سامنے آ کر بیٹھی۔
“نور، تمہیں معلوم ہے میں تمہاری دوست ہوں، اور تمہاری بھلائی چاہتی ہوں۔” صوفیہ نے شروع کیا۔
“جانتی ہوں۔”
“اس لیے جو میں کہنے جا رہی ہوں، اس پر غور کرنا۔” صوفیہ نے گہری سانس لی۔ “ظلال خان کے بارے میں۔”
نور کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ “کیا ہوا ہے؟”
“مجھے… مجھے شک ہے کہ ظلال خان جو تمہارے ساتھ کر رہا ہے، وہ سب ایک ڈرامہ ہے۔” صوفیہ نے ایک سانس میں کہہ دیا۔
نور کے ہونٹوں پر مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ “کیوں؟ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟”
“کیونکہ میں نے نوٹ کیا ہے۔” صوفیہ نے کہا۔ “وہ تمہاری ہر حرکت، تمہاری ہر پسند کو نوٹ کرتا ہے، مگر ایسے جیسے کوئی پراجیکٹ پر کام کر رہا ہو۔”
“تم غلط سمجھ رہی ہو۔” نور نے فوراً کہا۔ “وہ مجھ سے پیار کرتا ہے۔”
“کیسے پتا؟” صوفیہ نے سیدھا سوال کیا۔
“وہ مجھے بتاتا ہے۔” نور نے دفاعی انداز میں کہا۔ “وہ میرا خیال رکھتا ہے۔ میرے ابا کے علاج میں مدد کرتا ہے۔”
“اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے، نور!” صوفیہ نے جذباتی ہو کر کہا۔ “جب وہ تم پر احسان کرتا ہے، تو تم خود کو اس کا مقروض محسوس کرنے لگتی ہو۔ اور پھر…”
“اور پھر کیا؟”
“اور پھر تمہارا فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” صوفیہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “نور، میں نے دیکھا ہے کہ جب تم ظلال خان کے ساتھ ہوتی ہو، تم وہ نور نہیں ہوتی جو میں جانتی ہوں۔ تم… تم تبدیل ہو جاتی ہو۔”
نور نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ “تمہیں یہ حق نہیں کہ تم مجھے بتاؤ میں کون ہوں۔”
“نور، سنو …”
“نہیں، صوفیہ۔” نور نے کھڑے ہو کر کہا۔ “میں جانتی ہوں تم میری بھلائی چاہتی ہو۔ مگر میں خود فیصلہ کر سکتی ہوں کہ میرے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا۔”
“مگر اگر میں ثبوت دے سکوں؟” صوفیہ نے آخری کوشش کی۔
“کیا ثبوت؟”
“میں نے ظلال خان کو دیکھا ہے…” صوفیہ ہچکچائی۔ “میں نے اسے دیکھا ہے جب وہ تمہارے ساتھ نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھیں… اس کی آنکھیں وہ نہیں ہوتیں جو تمہارے سامنے ہوتی ہیں۔”
نور نے اپنا سر ہلایا۔ “تم حسد کر رہی ہو۔”
“نور!”
“نہیں، سنو۔” نور نے سنجیدگی سے کہا۔ “تمہیں لگتا ہے میں معمولی سی لڑکی ہوں جو کسی امیر لڑکے کا شکار ہو گئی ہے۔ مگر میں اتنی بھی کمزور نہیں۔”
صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “نور، میں تمہاری دوست ہوں۔”
“اور دوست ہونے کے ناطے، تمہیں میرا فیصلہ قبول کرنا چاہیے۔” نور نے کہا۔ “میں ظلال خان پر بھروسہ کرتی ہوں۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم بھی کرو۔”
صوفیہ نے آنسو پونچھے۔ “ٹھیک ہے۔ مگر ایک وعدہ کرو۔”
“کیا وعدہ؟”
“کہ اگر کبھی تمہیں لگے کہ تم غلط ہو… یا اگر کبھی تمہیں مدد کی ضرورت ہو… تو تم مجھے ضرور بتاؤ گی۔” صوفیہ کی آواز کانپ رہی تھی۔ “چاہے رات کے دو بجے ہی کیوں نہ ہوں۔”
نور کا دل پسیج گیا۔ “وعدہ ہے۔”
دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو دیکھتی رہیں۔ ایک کے دل میں محبت کا جنون تھا، دوسری کے دل میں دوستی کا درد۔
صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ نور کا انکار اس کے لیے دل دکھانے والا تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ دوستی کا تقاضا کبھی کبھار خاموش رہنا بھی ہوتا ہے۔
“ٹھیک ہے نور۔” صوفیہ نے آواز میں اطمینان پیدا کرنے کی کوشش کی۔ “میں تمہاری بات مانتی ہوں۔ مگر میری یہ درخواست ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے… ایک بار اپنے دل سے ضرور پوچھ لینا۔”
نور نے ہلکا سا سر ہلایا۔ “میں پوچھوں گی۔”
دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کی طرف دیکھتی رہیں۔ ہاسٹل کے کمرے کی خاموشی میں ان کے درمیان ایک نادیدہ دیوار کھڑی ہو چکی تھی ایک طرف محبت کا جنون، دوسری طرف دوستی کی فکر۔
“میں باہر جا رہی ہوں۔” صوفیہ نے آہستہ سے کہا۔ “تم آرام کرو۔”
صوفیہ کے جانے کے بعد، نور اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کا دل بہت بھاری تھا۔ صوفیہ کی باتیں منطقی تھیں، مگر اس کا دل… اس کا دل تو ظلال خان کے نام کر دیا گیا تھا۔
اس نے اپنے موبائل کو ہاتھ میں لیا۔ اسکرین پر ظلال خان کی تصویر تھی وہ یونیورسٹی کے باغ میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔ نور کے ہونٹوں پر اپنے آپ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“محبت اندھی ہوتی ہے۔” ماں کی یہ بات اسے یاد آئی۔ کیا واقعی وہ اندھی ہو رہی تھی؟
ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا: “کیا میں صوفیہ کی بات مان لوں؟ کیا میں ظلال خان سے دوری بنا لوں؟”
مگر پھر اسے ظلال خان کی وہ باتیں یاد آئیں جو اس نے رات کو فون پر کہی تھیں: “تم میرے لیے سب کچھ ہو نور۔ تمہاری ہر بات، تمہاری ہر خواہش… میرے لیے اہم ہے۔”
کسی نے اسے پہلی بار اتنی اہمیت دی تھی۔ کسی نے اسے پہلی بار اپنی دنیا کا مرکز بنا دیا تھا۔
نور نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے سامنے دو راستے تھے:
پہلا راستہ: صوفیہ کی بات ماننا، احتیاط کرنا، ظلال خان سے دور رہنا۔
دوسرا راستہ: اپنے دل کی سننا، ظلال خان پر بھروسہ کرنا، اس کے ساتھ چلنا۔
اور اس نے دوسرا راستہ چنا۔
رات کے دس بجے، جب صوفیہ سو چکی تھی، نور کا موبائل بجا۔ ظلال خان کا میسج:
“نور، سو رہی ہو؟ ظلال خان”
نور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “نہیں۔ جاگ رہی ہوں۔ تم کیسے ہو؟ نور”
“تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا۔ کل شام 5 بجے ‘کافی کنکشن’ کیفے میں ملتے ہیں۔ مجھے تم سے اہم بات کرنی ہے۔ ظلال خان”
نور کا دل تیزی سے دھڑکا۔ “اہم بات” یہ کیا ہو سکتی تھی؟
“کیا بات ہے؟ کچھ مسئلہ تو نہیں؟ نور”
“نہیں، مسئلہ نہیں۔ بس… بس تمہیں اپنے دل کی بات بتانی ہے۔ وہ بات جو میں نے پہلے کبھی کسی سے نہیں کہی۔ ظلال خان”
نور کی سانسیں رک گئیں۔ کیا وہ وہی کہنے والا تھا جس کا اسے انتظار تھا؟ کیا وہ محبت کا اعتراف کرنے والا تھا؟
“ٹھیک ہے۔ میں آؤں گی۔ نور”
“شکریہ۔ اور نور… ڈرنا مت۔ جو کچھ ہوگا، اچھا ہی ہوگا۔ میرا وعدہ ہے۔ ظلال خان”
نور نے موبائل اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں میں امید کی چمک تھی۔ صوفیہ کی تمام انتباہیں، ماں کی تمام نصیحتیں… سب کچھ اس لمحے بے معنی لگ رہا تھا۔
وہ کل کا انتظار کرنے لگی۔ وہ لمحے جب ظلال خان اسے اپنے دل کی بات بتائے گا۔
دور، ظلال خان کے کمرے میں، وہ اپنے دوست سمیع سے بات کر رہا تھا۔
“سب تیار ہے؟” سمیع نے پوچھا۔
“ہاں۔” ظلال خان نے کہا۔ “کل میں نور سے ملاقات کر رہا ہوں۔ ‘کافی کنکشن’ کیفے میں۔”
“اور تمہاری ‘اہم بات’ کیا ہوگی؟”
“میں اسے بتاؤں گا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “اور پھر… پھر میں اسے بتاؤں گا کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔”
“اور پھر؟”
“اور پھر میں اسے ایک ایسی جگہ پر لے جاؤں گا جہاں ہم اکیلے ہوں گے۔” ظلال خان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ “اور وہاں… وہاں میں اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی پیشکش کروں گا۔”
سمیع نے گہری سانس لی۔ “بھائی، کیا واقعی یہ ضروری ہے؟”
“ہاں۔” ظلال خان کا جواب ٹھوس تھا۔ “اب میں اس راہ پر آ چکا ہوں۔ واپس نہیں جا سکتا۔”
رات گہری ہوتی گئی۔ دو لوگ ایک ہی رات میں الگ الگ خواب دیکھ رہے تھے۔
نور خواب دیکھ رہی تھی محبت کا، ایک خوبصورت مستقبل کا۔
ظلال خان خواب دیکھ رہا تھا انتقام کا، ایک منصوبے کی تکمیل کا۔
اور درمیان میں صوفیہ تھی جو جاگ رہی تھی، فکر میں ڈوبی ہوئی، اپنی دوست کے لیے دعا کر رہی تھی۔
“رات کے ستارے ٹمٹما رہے تھے، ہر ستارے پر ایک خواب سوار تھا۔ نور کے ستارے پر محبت کا خواب تھا، ظلال خان کے ستارے پر انتقام کا۔ اور دونوں نہیں جانتے تھے کہ کل کا سورج ان خوابوں میں سے کس کو حقیقت بنائے گا، اور کس کو خاک میں ملا دے گا۔”
