گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں
رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار
خلیجی ممالک کے درمیان تاریخی رقابتوں اور علاقائی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس اتحاد پر پہلے بھی سوال اٹھے تھے جو اب بھی موجود ہیں
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی ایک تجویز کے بعد ایک بار پھر عرب-اسلامی سیاسی و فوجی اتحاد کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔
حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو فوری طور پر اپنے اختلافات ختم کر کے ’نیٹو طرز کے ایک مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد‘ قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے اور پاکستان و ترکی کے ساتھ قریبی تعاون موجود ہو۔‘
یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے مزید امریکی فوجی (کم از کم پانچ ہزار) اور جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے اس سے قبل مسلم اتحاد قائم کرنے کا خیال ستمبر 2024 میں ترکی کے صدر رجب طیب ادروغان نے پیش کیا تھا، جب انھوں نے اسرائیل کے مبینہ توسیع پسندانہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کو اتحاد بنانے کی تجویز دی تھی اور ستمبر 2025 میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے بھی ’اسلامی نیٹو‘ کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ سنہ 2017 میں سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 34 اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کی قیادت سابق پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سونپی گئی تھی جس کے بارے میں سعودی حکام کا اس وقت کہنا تھا کہ یہ اتحاد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کام کرے گا۔ اس وقت ایران نے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔
اس وقت بھی خلیجی ممالک کے درمیان تاریخی رقابتوں اور علاقائی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس اتحاد پر سوال اٹھے تھے جو اب بھی موجود ہیں اور ایسے کسی بھی نئے اتحاد کے بننے میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات، اور قطر و امارات کے درمیان ماضی کی کشیدگی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
یمن کی جنگ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف جغرافیائی اور سیاسی مفادات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ اوپیک میں تیل کی پیداوار کے فیصلوں، افریقہ اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں پر بھی ان کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سمندری حدود کے تنازع اور یاسات کے علاقے کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دینے جیسے معاملات پر بھی دونوں کے درمیان کشیدگی سامنے آ چکی ہے، جسے بعض مبصرین خلیجی خطے میں دونوں طاقتوں کے درمیان جاری خاموش مقابلہ قرار دیتے ہیں۔
