جہنم برپا‘ کرنے کی دھمکیاں اور ’مذاکرات
جہنم برپا‘ کرنے کی دھمکیاں اور ’مذاکرات‘ پر ابہام: امریکہ کے 15 مطالبات اور تہران کی 5 شرائط کیا ہیں؟
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اس وقت امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعوی کیا تھا کہ بات چیت ’جاری‘ ہے اور یہ ’نتیجہ خیز‘ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے بھجوائے گئے 15 نکات کا ذکر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ نے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے ہیں، لیکن پیغامات کا یہ تبادلہ مذاکرات یا کوئی گفت و شنید نہیں ہے۔
یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے شروع ہوئی جس کے بعد ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔
ٹرمپ کے منصوبے میں کیا ہے؟
اسرائیل کے ’چینل 12‘ کے مطابق ایران کو جنگ بندی کے لیے کئی مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔
چینل کے مطابق یہ وہی بنیادی مطالبات ہیں، جو جنگ شروع ہونے سے قبل امریکہ کی جانب سے دہرائے گئے تھے۔ ان میں ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا ہے۔
ایران مسلسل یہ کہتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔
تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے حصول کا عزم نہ کرے۔ جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا عہد کرے اور اپنے پاس موجود یورینیم کو افزودہ نہ کرے اور اس معاملے پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے۔
تجاویز کے مطابق ایران اپنے میزائل پروگرام کی رینج اور مقدار محدود کرنے پر رضامند ہو جبکہ علاقائی پراکسیز لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن میں حوثی باغیوں کی مالی مدد بند کرے۔
تجاویز میں ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا بھی کہا گیا ہے، تاکہ یہ ایک آزاد سمندری راہداری کے طور پر کام کر سکے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دُنیا میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اس نے عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات کو بڑھایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران یہ تمام مطالبات مان لیتا ہے تو پھر اس پر سے بین الاقوامی پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔
گذشتہ نومبر میں ایران کی جانب سے اس کے متعدد جوہری مراکز اور فوجی اڈوں پر اسرائیل اور امریکی بمباری کے بعد ایران نے جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل معطل کر دیا تھا۔
اس معاملے پر تفصیلات کی تصدیق کے لیے پوچھے گئے سوال پر وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ان تجاویز کی مکمل تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس میں سے کچھ درست ہیں، لیکن جو میڈیا میں کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔‘
ایران کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی تھی ملک کے سینئر رہنماؤں کو کچھ ’خیالات‘ پیش کیے گئے ہیں، تاہم اگر اس حوالے سے کسی پوزیشن لینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو ضرور بتایا جائے گا۔
کیا ٹرمپ ایران جنگ سے نکلنے کی کسی حکمتِ عملی کے بہت قریب ہیں؟
امریکی صدر ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی راستے کی تلاش میں بہت دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جسے وہ جنگ کو ’سمیٹنا‘ کہتے ہیں۔
لیکن اس جنگ سے باہر نکلنے کے لیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی واضح نہیں ہے اور امریکی صدر کے ملے جلے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کون سی حکمت عملی بہتر ہو گی۔ آیا اس جنگ کو جلد از جلد ختم کیا جائے یا ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی تصفیے تک پہنچا جائے۔
منگل کے روز، ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایک ساتھ دونوں منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ چند گھنٹوں میں، پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا حکم دیا اور امریکی مذاکرات کاروں نے ایرانی حکومت کو ایک نیا 15 نکاتی منصوبہ بھیجا۔
دھ تک، وائٹ ہاؤس ایران پر زور دے رہا تھا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کر لے جبکہ یہ دھمکی دے رہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس ملک کو پہلے سے زیادہ سخت ضرب لگائیں گے، جس سے ٹرمپ کے ارادوں کے بارے میں مزید الجھن پیدا ہوتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ کوئی جھوٹا دعویٰ نہیں کرتے وہ ایران پر ’جہنم برپا‘ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے پر ایران کو کوئی غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔‘
