امریکی اڈوں، دفاعی معاہدوں کے باوجود ایرانی حملوں پر سوال

امریکی اڈوں، دفاعی معاہدوں کے باوجود ایرانی حملوں پر سوال: کیا خلیجی ممالک کو نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

خطے میں حالیہ جنگ نے خلیجی ممالک میں دفاعی نظام کی افادیت کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر بڑی طاقتوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے وجود اور ان ممالک کی سرزمین پر غیر ملکی فوجی اڈوں کی میزبانی کی روشنی میں۔

بظاہر یہ انتظامات کشیدگی کو روکنے یا خلیجی ممالک کی مکمل حفاظت کے لیے کافی نہیں تھے اور اسی وجہ سے دفاعی شراکت داریوں کی نوعیت اور ان کے مستقبل کے وسیع تر احاطے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ متعدد خلیجی ریاستوں کے امریکہ اور مغربی شراکت داروں کے ساتھ سکیورٹی معاہدے ہیں، جنگ کے دوران بحران کے لمحات میں ان اتحادوں پر مکمل انحصار نے خلیجی حکام کو دفاعی آپشنز پر جامع نظرثانی کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ان میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری بھی شامل ہیں، جنھوں نے ایک حالیہ پریس کانفرنس میں اشارہ دیا کہ خلیجی ریاستوں کو موجودہ جنگ کی روشنی میں اپنے مشترکہ علاقائی سلامتی کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خلیجی ریاستوں کی دفاعی شراکت داری جنگ کے دوران دفاعی انداز میں کارگر ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ریاستوں کو موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی رابطہ کاری کی سطح پر ایک متفقہ موقف کی ضرورت ہے۔

ماجد الانصاری کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ اتحادیوں کے ساتھ فوجی معاہدے دفاعی طور پر کامیاب رہے ہیں لیکن صرف اتحادیوں پر انحصار ناکافی ہے، اور یہ کہ خلیجی ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل کے کسی بھی خطرے کا متحد اور موثر جواب یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بحث ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ آیا بڑی طاقتوں پر انحصار طویل مدت میں ایک مؤثر خلیجی آپشن رہے گا یا نئی دفاعی شراکت داری سامنے آ سکتی ہے؟

امریکی صحافی سیبسٹین روبلن دفاعی امور کے ماہر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ نے (اسرائیل کے ساتھ مل کر) خلیجی ریاستوں میں واقع امریکی اڈوں کی بنیاد پر ایران کے خلاف جنگ شروع کی جس کے نتیجے میں ان ممالک کے خلاف ایرانی ردعمل سامنے آیا ہے۔

 ایک انٹرویو میں روبلن نے کہا کہ خلیجی ریاستیں اس تنازع میں ذمہ داری سے مکمل طور پر مستثنیٰ نہیں ہیں۔ انھوں نے ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن کے مطابق کچھ ممالک نے ’خاموشی سے‘ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دی اور ایران کو کمزور کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا کیوں کہ اسے ایک مستقل خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یقیناً، قطر اور بحرین جیسی دیگر چھوٹی خلیجی ریاستیں بھی تھیں جو اس جنگ کی خواہشمند نہیں تھیں۔‘

واشنگٹن میں خلیجی بین الاقوامی فورم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دانیہ ظفر کا ماننا ہے کہ ایران پر امریکی حملے سے خلیجی ریاستوں کی سلامتی پر کئی طرح سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

بی بی سی نیوز عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں دانیہ ظفر نے کہا کہ ’ایران خلیجی ریاستوں پر امریکہ کے حملے سے پہلے کسی بھی طرح سے حملہ کرنے سے ہچکچا رہا تھا، جس کا مطلب ہے کہ امریکی موجودگی ایک رکاوٹ کا کام کرتی ہے، کیونکہ ایران نے اس عرصے کے دوران خلیجی ریاستوں میں سے کسی پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیٹرنٹ امن کے وقت میں کارآمد تھا۔‘

کویت یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر حماد التھونین کا خیال ہے کہ ’مسئلہ فوجی معاہدوں اور کوتاہیوں میں نہیں ہے، بلکہ فیصلہ سازوں کی صلاحیتوں میں ہے کہ وہ ملکوں کے درمیان تعلقات کو دانشمندی اور ذمہ داری کے ساتھ چلا سکتے ہیں۔‘

ان کے خیال میں ’بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے خلیجی مفادات کو مدنظر رکھے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی انتظامیہ کے مقاصد کو ترجیح دیتے ہوئے اس جنگ میں داخل ہونے کا انتخاب کیا۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *