فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات کا احوال: ’ایران کے وفاداروں کی پاکستان سے نکل جانے کی بات ہوئی مگر اس کا پسِ منظر تھا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شیعہ علما سے ملاقات 18 مارچ کو ہوئی تھی
گذشتہ چند روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر چند شیعہ علما کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ایک حالیہ ملاقات میں ہوئی گفتگو کے حوالے اپنی تنقیدی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہل تشیع مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما سے یہ ملاقات 18 مارچ (بدھ) کو ہوئی تھی جس میں ’قومی سلامتی کے معاملات اور سماجی ہم آہنگی میں علمائے کرام کے کردار‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس ملاقات کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا کو پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور فعال سفارتکاری کے بارے میں آگاہ کیا۔
19 مارچ کو جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
جبکہ فیلڈ مارشل نے ’معاشرے میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے میں علما کے اہم کردار پر زور دیا اور یہ بات دہرائی کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق اس ملاقات کے دوران افغانستان کے خلاف جاری کارروائیوں کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی عوام کے خلاف دہشت گردی کے کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو برداشت نہیں کرے گا۔
تاہم اس ملاقات اور اس سے متعلق آئی ایس پی آر کا اعلامیہ سامنے آنے کے بعد اب پاکستان کے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل سے ہونے والی اس ملاقات میں شامل علما، مولانا سید حسنین عباس گردیزی اور علامہ شفا نجفی، کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ سید عاصم منیر کے مبینہ ’سخت لب و لہجے‘، آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے خطے میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کو نو مئی کے واقعات سے مبینہ تشبیہ دینے، مبینہ طور پر ’ایران کے وفاداروں کے پاکستان سے نکل جانے‘ اور اس ملاقات کے دوران ’شیعہ علما کو فیلڈ مارشل سے براہ راست سوالات کرنے کا موقع نہ دینے‘ پر تنقید کر رہے ہیں۔
تاہم عسکری ذرائع نے اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اِس ملاقات کے سیاق و سباق اور مندرجات کی غلط رپورٹنگ کے ذریعے جان بوجھ کر حقائق مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
