امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی

امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کی خبریں: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ایک جانب امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، دوسری جانب ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو ’تباہ‘ کر دے گا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ دھمکی امریکی صدر نے پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح چار بج کر 44 منٹ پر دی تھی۔

مہلت ختم ہونے میں ابھی چند گھنٹے باقی تھے جب سوموار کے روز صدر ٹرمپ نے ایران میں تمام حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران میں ’نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘

تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی تردید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔

ایران کے سپیکرِ پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔‘ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’جھوٹی خبریں‘ مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو ’متاثر کرنے‘ کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔

تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’ہمیں امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے نکات موصول ہوئے ہیں اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘

ایران کی جانب سے واضح تردید کے باوجود نہ صرف یہ کہ مذاکرات کی بات ہو رہی ہے بلکہ ایسی اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ثالث کا کردار ایران کا ہمسایہ ملک پاکستان ادا کرے گا اور وہ دارالحکومت اسلام آباد میں بات چیت کی پیش کش بھی کر چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *