ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں

ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟

دبئی اور قطر جیسی خلیجی ریاستوں نے کافی سرمایہ کاری کر کے دنیا میں اپنی شبیہ محفوظ مقامات کے طور پر بنائی، مگر ایرانی حملوں کے بعد اب یہ شبیہ داغدار ہو چکی ہے

حالیہ دہائیوں میں لبنان پر بمباری، عراق کے پرہجوم بازاروں میں خودکش دھماکے اور شام میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں غیر ملکی شہریوں کے اغوا یا قتل کی خبریں تواتر سے آتی رہتی تھیں، لیکن اس دوران دبئی میں مسلسل پارٹی کا سا سماں ہوتا تھا۔

دنیا کے امیر ترین لوگوں نے دبئی کے ساحلی علاقوں میں بنگلے خریدے، وہ ابو ظہبی کے عجائب گھروں سے لطف اندوز ہوئے اور قطر کے صحرا میں ڈیزرٹ سفاری کے مزے لیتے رہے۔

جنگوں، احتجاجوں اور عدم استحکام سے لرزتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک نے کئی برسوں تک خود کو امن اور خوشحالی کے نخلستان کے طور پر پیش کیا۔

ان ممالک کی فائدہ مند ٹیکس پالیسیوں نے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دبئی، ابوظہبی اور دوحہ جیسے علاقوں کو دنیا کے ارب پتی افراد اور لگژری سیاحت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تقریبات اور کانفرنسوں کی ایک اہم منزل میں تبدیل کر دیا۔

تاہم یہ خواب 28 فروری کو اس وقت چِکنا چُور ہو گیا جب تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیلی شہروں اور مشرقِ وسطیٰ کے میں امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے۔

خلیجی ممالک کی شاہی حکومتوں نے اچانک اپنے آپ کو ایک ایسے تنازع میں گِھرا پایا، جس کی انھوں نے کبھی چاہ نہیں کی تھی۔

یورپین پیس انسٹیٹیوٹ سے منسلک انا جیکب خلف کہتی ہیں کہ ’اِن خلیجی ریاستوں نے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔‘ مگر عرب حکمرانوں کی کی کوششیں رائیگاں گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *