ٹرمپ کا اعلان، ’حملوں میں وقفہ‘ اور تہران کی بے چینی
ٹرمپ کا اعلان، ’حملوں میں وقفہ‘ اور تہران کی بے چینی: کیا امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ممکن ہے یا تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے؟
امریکہ اور اسرائیل کئی ہفتوں سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت بالکل کمزور ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسلسل حملوں نے ایران کے کمانڈ ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے اور اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور پڑ گئی ہے۔
ان کے مطابق تو یہ تنازع اب اختتام کی طرف بڑھنا چاہیے تھا۔
لیکن صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ کشیدگی تیزی سے، زیادہ شدت کے ساتھ اور کم واضح نکاتِ اختتام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
سنیچر کو یہ بات سامنے آئی کہ ایران نے بحیرہ ہند میں امریکی۔برطانوی اڈے ڈیگو گارسیا کی جانب دو میزائل داغے، جو تقریباً
3,800 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اگرچہ یہ میزائل جزیرے تک نہیں پہنچ سکے تاہم اس واقعے نے ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
تاحال ایران کی میزائل رینج تقریباً 2,000 کلومیٹر سمجھی جاتی تھی۔
چاہے یہ ایک پہلے سے پوشیدہ صلاحیت ہو یا مسلسل حملوں کے دوران تیار کی گئی ہو، مفہوم ایک ہی ہے کہ عسکری دباؤ نے ایران کی پیشرفت کو نہیں روکا۔
اس کی اعلیٰ قیادت کا بڑا حصہ واقعی ختم کیا جا چکا ہے جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، علی لاریجانی جیسے سینئر رہنما، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، مسلح افواج کے چیف آف سٹاف، اور اہم میزائل سازی کے مراکز شامل ہیں۔
تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہم کی سربراہی کون کر رہا ہے اور ایران شدید دباؤ کے باوجود اپنی صلاحیتیں کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے؟
