best novels of all time

best novels

ناول_تاوانِ_عشق

best novels

قـسط_2

کالج کا پہلا ہفتہ تھا۔ نور نے لائبریری سے کتابیں اٹھائیں اور کینٹین کی طرف بڑھی۔ شام کا وقت تھا، اور وہ تھک چکی تھی۔ پارٹ ٹائم کام کے بعد براہ راست کالج آیا تھی۔

کینٹین کے باہر ہی اسے ایک شور سنائی دیا۔

“اے گدھے! میری گاڑی کو چھونے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟”

نور نے دیکھا۔ ایک لڑکا، جس کے کپڑے غریب گھرانے کا پتہ دیتے تھے، زمین پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک لمبا لڑکا کھڑا تھا۔

وہ لڑکا…

ظلال خان۔

اس کی ہیٹ گہری بادامی آنکھیں غصے سے چمک رہی تھیں۔ گھنگھریالے سیاہ بال ہوا میں بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے کی تیز بناوٹ، اونچی ناک، پتلے ہونٹ جو غصے سے دبے ہوئے تھے۔ وہ ایک ڈیزائنر کا سوٹ پہنے ہوئے تھا جو اس کے مضبوط جسم پر بالکل فٹ تھا۔

“میں… میں معافی چاہتا ہوں۔ میں صرف راستہ دے رہا تھا…” غریب لڑکے کی آواز کانپ رہی تھی۔

“تیری معافی سے میری گاڑی ٹھیک ہو جائے گی؟” ظلال خان کی آواز میں طنز تھا۔ “یہ مرسیڈیز ہے۔ تیرے باپ کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی نہیں آ سکتی۔”

نور کا خون کھول اٹھا۔ وہ آگے بڑھی۔

“اس نے معافی مانگ لی ہے۔ اب اسے جانے دیں۔”

ظلال خان نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اس کی نظر ایک سادہ سی لڑکی پر پڑی۔ نیلے کلر کا سادہ سا لیکن نفیس سوٹ پہنیں لمبے بالوں کی چوٹی بنا کر ایک سائڈ پر ڈالی ہوئی دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا گوری سفید رنگت باریک پتلے ہونٹ اور ہونٹوں کے نیچے ایک تل ستارے کی طرح جگمگا رہا تھا، ہاتھ میں کتابیں پکڑے وہ ضلال خان کے سامنے کھڑی تھی لیکن سامنے والا بھی اتنی جلدی پگھلنے والا کہاں تھا!!

“تم کون ہو؟” اس نے بے رخی سے پوچھا۔

“انسان ،جیسا کہ آپ ہیں۔”

ظلال کے ہونٹوں پر ایک کڑوی مسکراہٹ آئی۔ “تمہیں لگتا ہے تم ہیروئن بن رہی ہو؟ یہ میرا معاملہ ہے۔ تمہارا نہیں۔”

“جب کسی پر ظلم ہو رہا ہو، تو وہ سب کا معاملہ ہے۔”

ظلال خان نے قریب آ کر اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ “تمہارے کپڑے… تم کہاں سے آئی ہو؟ گاؤں سے؟”

“جی۔ چاند پور سے۔”

“اچھا۔” ظلال خان نے طنزیہ انداز میں کہا۔ “تو تمہیں شہر کے طور طریقے نہیں معلوم۔ یہاں ہر کوئی ہر کسی کے معاملے میں نہیں پڑتا۔”

“میں ‘ہر کوئی’ نہیں ہوں۔” نور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “اور آپ کو بھی ‘ہر کوئی’ کی طرح نہیں بننا چاہیے۔”

ظلال خان کے دوست سمیع قریب آیا۔ “ارے خان ، چھوڑو یار۔ یہ گاؤں والی لڑکی ہے۔ اسے کیا پتہ۔”

ظلال خان نے سمیع کو روک دیا۔ اس کی نظر نور پر جمی ہوئی تھی۔ “تم ڈرتی نہیں ہو؟”

“کیوں ڈروں؟ کیا آپ مجھے مار ڈالیں گے؟”

“نہیں۔” ظلال خان مسکرایا۔ “تم اتنے قابل نہیں ہو۔”

“تو پھر مجھے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔” نور نے زمین پر بیٹھے لڑکے کو اٹھانے کی کوشش کی۔ “اٹھو۔ چلیں۔”

ظلال خان نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “میں نے نہیں کہا کہ وہ جا سکتا ہے۔”

نور نے اپنا ہاتھ جھٹکا۔ “آپ کون ہوتے ہیں روکنے والے؟ کالج کے مالک؟ پولیس؟”

“میں ظلال خان ہوں۔ اور اس شہر میں میرے خاندان کا نام کافی ہے۔”

“مبارک ہو۔” نور نے سرد مہری سے کہا۔ “میرے گاؤں میں ہمارے پاس بھی ایک کتا تھا جو صرف اپنے نام پر بھونکتا تھا۔”

سناٹا چھا گیا۔ کچھ طلباء جو دور کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے، حیرت سے دیکھنے لگے۔ کسی نے آج تک ظلال خان سے اس طرح بات نہیں کی تھی۔

ظلال کے چہرے پر غصہ چھا گیا۔ اس کی آنکھیں اور بھی گہری ہو گئیں۔ “تمہاری ہمت…؟”

“میری ہمت ہے سچ بولنے کی۔” نور نے اسے روک دیا۔ “آپ کے پاس سب کچھ ہے پیسے، گاڑیاں، طاقت۔ مگر آپ کے پاس شاید انسانیت نہیں ہے۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے لڑکے کو سہارا دیا اور چلنے لگی۔

“رکو!” کوریڈور میں ظلال خان کی سرد آواز گرجی۔

نور رکی۔ پیچھے مڑی۔ “کیا بات ہے؟ کیا آپ مجھے بھی دھکا دیں گے جیسے اس بے چارے کو دیا؟”

ظلال خان خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں کچھ بدلا۔ غصے کی جگہ حیرت نے لے لی۔ وہ لڑکی… وہ ڈرتی نہیں تھی۔ وہ اسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ کوئی عام لڑکا ہو۔

“تم… تم جانتے ہو میں کون ہوں؟” ظلال خان نے پوچھا، اس بار اس کی آواز میں غصہ کم تھا۔

“ہاں۔ ظلال خان۔ امیر گھرانے سے۔ مگر میں صرف ایک انسان دیکھ رہی ہوں۔ اور وہ انسان کسی دوسرے انسان پر ظلم کر رہا ہے۔”

اور وہ چلی گئی۔ لڑکے کو لے کر۔

سمیع قریب آیا۔ “یار، اس لڑکی کو سبق سکھانا پڑے گا۔ کون ہے یہ؟”

ظلال خان نے اسے دیکھتا رہا جو دور جا رہی تھی۔ “چاند پور… نور…” اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔ “اسے ڈھونڈو۔ مجھے اس کے بارے میں سب کچھ پتہ چاہیے۔”

“کیوں؟ اسے سبق سکھانے کے لیے؟”

“نہیں…” ظلال خان نے کہا، اس کی نظر اب بھی نور پر تھی جو کینٹین کے دروازے میں غائب ہو رہی تھی۔ “اسے پہلے ہی سبق سکھا دیا گیا ہے۔ اب میں اسے سکھاؤں گا کہ اس شہر میں کیسے رہتے ہیں۔”

اس رات، نور اپنے ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھی اپنی ڈائری لکھ رہی تھی:

“آج میں نے ایک امیر لڑکے سے لڑائی کی۔ وہ سمجھتا ہے پیسہ سب کچھ ہے۔ مگر میں نے اسے دکھا دیا کہ عزت پیسے سے نہیں ملتی۔ امی، ابا، آپ کی بیٹی آپ کو شرمندہ نہیں کرے گی۔”

اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ لڑائی ایک طویل جنگ کا صرف آغاز تھی۔ اور وہ لڑکا جس سے اس نے آج لڑائی کی تھی، وہ اس کی زندگی میں ایک ایسا طوفان لے کر آئے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات کے سناٹے میں، ظلال خان اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا تھا۔ ہاتھ میں ایک گلاس تھا جس میں پانی کے قطرے باہر ٹپک رہے تھے۔ شہر کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں جو غصے سے کھنچا ہوا تھا۔

“کُتا…”

یہ لفظ اس کے کانوں میں بار بار گونج رہا تھا۔ کسی نے آج تک اسے ایسا نہیں کہا تھا۔ نہ کوئی بوڑھا، نہ جوان، نہ مرد، نہ عورت۔ اور آج ایک گاؤں کی لڑکی نے اسے یہ کہہ دیا تھا۔

درمیانی عمر کا ایک شخص خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا۔ یوسف، جو ظلال خان کے والد کا ذاتی ملازم تھا اور اب ظلال کی بھی دیکھ بھال کرتا تھا۔

” خان ، آپ نے بلایا تھا؟”

ظلال خان نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ آنکھوں میں وہی تیزی تھی جو اس کے خاندان کے مردوں میں نسلیں سے چلی آ رہی تھی۔

“اس لڑکی کا پتہ لگاؤ۔ جس نے آج مجھے شرمندہ کیا۔”

یوسف نے سر جھکا لیا۔ “جی صاحب۔ نام؟”

“نور۔ بس اتنا ہی معلوم ہے۔ چاند پور سے آئی ہے۔ پریسٹیج کالج میں پڑھتی ہے۔”

“کل صبح تک آپ کے پاس اس کی پوری ڈیٹیل ہوگی۔”

ظلال خان نے گلاس میز پر رکھا۔ آواز میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ “میں اسے جاننا چاہتا ہوں۔ اس کی ہر بات۔ اس کا ہر راز۔”

یوسف نے سر ہلایا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔

ظلال خان نے بالکونی کے ریلنگ پر ہاتھ مارا۔ لکڑی کی چمکدار سطح پر اس کی انگلیوں کے نشان ابھر آئے۔

“تم نے میری آنکھوں میں دیکھ کر مجھے کُتا کہا… اب دیکھو… میں تمہیں سکھاتا ہوں کہ اصل کُتا کیسے ہوتا ہے۔”
❤️❤️❤️❤️❤️

اگلے دن صبح ہوتے ہی یوسف واپس آیا۔ ہاتھ میں ایک فائل تھی۔

“صاحب، یہ وہ لڑکی ہے۔”

ظلال خان نے فائل کھولی۔ پہلے صفحے پر نور کی تصویر تھی۔ یہ وہ تصویر تھی جو کالج کے داخلہ فارم سے لی گئی تھی۔ سادہ سی تصویر، سیدھے سادھے بال، آنکھوں میں وہی چمک جو کل اس نے دیکھی تھی۔

“نور النساء۔ عمر اٹھارہ سال۔ چاند پور کا رہنے والا۔ باپ: گلاب خان، سائیکل ریپئر۔ ماں: فاطمہ بی بی، گھریلو خاتون۔”

ظلال نے آہستہ سے پڑھا۔ ہر لفظ اس کے ذہن میں اتر رہا تھا۔

“پریسٹیج کالج میں پولیٹیکل سائنس کی طالبہ۔ ہاسٹل میں رہتی ہے۔ پارٹ ٹائم کام: شہر کی مرکزی لائبریری میں اسسٹنٹ۔ ماہانہ آمدن: پانچ ہزار روپے۔ ہاسٹل کا کرایہ: تین ہزار۔ باقی دو ہزار میں کھانا پینا اور دیگر اخراجات۔”

ظلال خان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھیل گئی۔ “صرف دو ہزار… پورے مہینے کے لیے…”

“جی صاحب۔ اور ابھی کالج کی فیس جمع کرنی ہے۔ پندرہ ہزار روپے۔ تاریخ گزرنے میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔”

ظلال نے فائل کے صفحات پلٹے۔ نور کے گھر کی تصویریں تھیں۔ ایک چھوٹا سا مکان جو کچی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔ باپ کی سائیکل دوکان جس پر ‘گلاب سائیکل ہاؤس’ لکھا ہوا تھا۔

“اور وہ لڑکا؟ جسے میں نے کل ڈانٹا تھا؟”

“اس کا نام رحمن ہے۔ وہ بھی غریب گھرانے سے ہے۔ اسے آپ کے دوست سمیع نے نوکری دلا دی ہے۔ ایک ہوٹل میں ویٹر کی۔”

ظلال خان نے آنکھیں اٹھا کر یوسف کو دیکھا۔ “سمیع نے؟”

“جی صاحب۔ اس نے کہا کہ آپ نے حکم دیا تھا۔”

ظلال خان خاموش ہو گیا۔ اس کے ذہن میں کل کا منظر گھوم رہا تھا۔ نور کی وہ بات… “آپ کے پاس سب کچھ ہے مگر انسانیت نہیں…”

اس نے اچانک فائل بند کر دی۔ “ٹھیک ہے۔ اب تم جا سکتے ہو۔”

یوسف کے جانے کے بعد، ظلال خان اپنے سٹڈی روم میں گیا۔ وہاں ایک بڑی سی کھڑکی تھی جس سے پورا باغ دکھائی دیتا تھا۔ اس کے دادا کی تصویر دیوار پر لگی ہوئی تھی۔ ایک سخت گیر پٹھان جو ہمیشہ سیدھا کھڑا رہتا تھا۔

“ددا جان…” ظلال نے آہستہ سے کہا۔ “آپ کہتے تھے کہ دشمن کو اس کی طاقت سے نہیں، اس کی کمزوری سے مارو۔”

اس نے نور کی فائل دوبارہ کھولی۔ اس کی مالی مشکلات… یہی اس کی کمزوری تھی۔

مگر کچھ اور بھی تھا۔ وہ آنکھیں… وہ آنکھیں جو ڈرتی نہیں تھیں۔ وہ غرور… وہ غرور جو غربت میں بھی نہیں مرا تھا۔

ظلال خان نے اپنا موبائل اٹھایا۔ سمیع کو فون کیا۔

“یار، کل کالج میں کیا ہے؟”

“کل؟ ارے فیکلٹی ویلکم پارٹی ہے۔ سارے نئے طلباء کے لیے۔ شام چھ بجے۔”

“اور وہ لڑکی… نور… وہ آئے گی؟”

“ارے ہاں۔ سارے نئے طلباء پر لازمی ہے۔”

“ٹھیک ہے۔”

ظلال خان نے فون بند کیا۔ اس کے ذہن میں ایک منصوبہ بن رہا تھا۔ ایک ایسا منصوبہ جو اس کی ذات پر ہوئے حملے کا جواب تھا۔

وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ آنکھیں بند کر لیں۔

“نور… تم نے میری عزت کو چیلنج کیا ہے۔ ہمارے ہاں پٹھانوں میں، عزت سب کچھ ہوتی ہے۔ اور جو ہماری عزت کو چیلنج کرے… ہم اسے وہ سزا دیتے ہیں جو وہ کبھی بھول نہیں سکتا۔”

اس نے آنکھیں کھولیں۔ ان میں ایک عجیب سی چمک تھی۔

“تم سمجھتی ہو کہ تم نے جیت لیا؟ تمہیں نہیں معلوم… جنگ ابھی شروع ہوئی ہے۔”

best novels❤️❤️❤️❤️❤️❤️

اسی وقت، ہاسٹل کے اس کمرے میں جہاں نور رہتی تھی، وہ اپنی ڈائری کے آخری صفحات پر لکھ رہی تھی:

“…آج میں نے شاید بہت بڑی غلطی کی۔ میں نے ایک ایسے آدمی کو للکارا جو میری پہنچ سے بہت دور ہے۔ مگر میں نے اپنے ابا کی بات یاد رکھی۔ ‘بیٹا، ہم غریب ہیں مگر ہماری عزت ہماری دولت ہے۔'”

اس نے قلم رکھا۔ کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر شہر کی روشنیاں تھیں۔ وہ روشنیاں جو اسے ہمیشہ سے اپنی طرف کھینچتی تھیں۔

“امی… ابا… مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ مگر میں ہار نہیں مانوں گی۔ میں آپ کی بیٹی ہوں۔ میں وہ نور ہوں جسے آپ نے ہمیشہ کہا کہ چمکتی رہے۔”

اس کے موبائل پر ایک میسج آیا۔ کالج کی طرف سے۔ کل کی پارٹی کے بارے میں۔

نور نے میسج پڑھا۔ سانس بھرتی ہوئی۔

“ٹھیک ہے۔ میں آؤں گی۔ میں ڈرنے والی نہیں ہوں۔”

اسے نہیں معلوم تھا کہ یہ پارٹی محض ایک تقریب نہیں تھی۔

یہ ایک جال تھا۔

ایک ایسا جال جو ظلال خان نے اس کے لیے بچھایا تھا۔

اور کل… وہ اس جال میں پھنسنے والی تھی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️

فیکلٹی ویلکم پارٹی کی رات تھی۔ کالج کا آڈیٹوریم چمکتی ہوئی لائٹوں، پھولوں اور ریشمی ڈریپریز سے سجا ہوا تھا۔ ہر طرف نئے پرانے طلباء کے ہنستے بولتے چہرے تھے۔ کچھ گروپوں میں کھڑے ہو کر فیشن پر بات کر رہے تھے، کچھ موبائل فون میں مصروف تھے۔

نور آڈیٹوریم کے ایک کونے میں کھڑی تھی۔ اس نے اپنا وہی نیلا سادہ سا سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس کے پاس دو تین اچھے کپڑوں میں سے ایک تھا۔ بال پیچھے باندھے ہوئے، ہاتھ میں نور نام کا سلور کلر کا براسلٹ پہن رکھا تھا۔ جو اس کے سالگرہ پر اس کی سب سے اچھی دوست ماہ جبین اس کے لیے خاص طور پر بنوا کر لے کر ائی تھی!!
وہ چاہتی تھی کہ تھوڑی دیر کھڑی رہے، رسم پوری کرے اور چلی جائے۔

فیروزہ اور اس کے دوست آڈیٹوریم کے درمیان میں کھڑے تھے۔ وہ نور کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔

“دیکھو یار، وہی گاؤں والی۔ پارٹی میں بھی وہی پرانا سوٹ۔”
“شاید اس کے پاس کوئی اور سوٹ ہی نہیں۔”
“ارے بھئی،غریب گھر کی لڑکی ہے۔ کیا کریگی؟”

نور نے ان کی باتوں کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔ وہ پیچھے مڑی، دروازے کی طرف دیکھا۔ کب وہ یہاں سے نکلی؟

اسی لمحے آڈیٹوریم کا بڑا دروازہ کھلا۔ اور ایک شخص اندر داخل ہوا۔

ظلال خان۔

مگر آج وہ ایسا نہیں تھا جیسا نور نے کل دیکھا تھا۔ آج وہ مکمل طور پر ایک پٹھان سردار کی طرح تھا۔ سفید شلوار قمیض جس پر ہلکی سی سنہری کڑھائی تھی۔ کندھے پر ایک ہلکے سرمئی رنگ کی شال جو اس اپنے ایک کندھے کی سائیڈ پر ڈال رکھی تھی۔۔ پاؤں میں پشاوری چپل۔ بال قدرتی طور پر بکھرے ہوئے تھے، مگر آج ان میں ایک اور بات تھی۔

اس کی آنکھیں آڈیٹوریم میں گھومتی ہوئی نور پر جا ٹھہریں۔

وہ براہ راست اس کی طرف بڑھا۔ راستے میں ہر کوئی اسے راستہ دے رہا تھا۔ کچھ نے سلام کیا، کچھ نے مسکرا کر سر ہلایا۔ مگر ظلال کا رخ صرف ایک طرف تھا۔

“تم یہاں ہو۔”

ظلال اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آواز میں وہی گرج تھی، وہی اکڑ جو نور کو پہچانی تھی۔

نور نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ “جی۔ آپ بھی؟”

“یہ پارٹی میرے خاندان کے فنڈز سے ہو رہی ہے۔” ظلال نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ “ہمارا فرض ہے کہ ہم نئے طلباء کا استقبال کریں۔”

“اچھا۔”

ظلال نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ “تم نے اپنا وہی پرانا سوٹ پہنا ہے۔”

“جی۔ میرے پاس یہی اچھا سوٹ ہے۔”

“تمہیں معلوم ہے،” ظلال نے قریب آ کر کہا، آواز اتنی آہستہ کہ صرف نور سن سکے، “تم اس پارٹی میں سب سے غریب لڑکی ہو۔”

نور کے چہرے پر سرخ چڑھ آئی۔ “مجھے معلوم ہے۔”

“اور تمہیں معلوم ہے کہ میں سب سے امیر لڑکا ہوں۔”

“یہ بھی معلوم ہے۔”

ظلال خان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھیل گئی۔ “تو پھر تمہیں سمجھ آنا چاہیے کہ ہمارے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔”

نور نے گہری سانس لی۔ “مجھے سمجھ آتا ہے۔ مگر مجھے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ انسانیت میں سب برابر ہیں۔”

“انسانیت؟” ظلال خان نے طنزیہ انداز میں کہا۔ “انسانیت zبھوکے پیٹ نہیں چلتی۔”

یہ سنتے ہی نور کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے ظلال خان کی طرف دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ مسکراہٹ جو اسے بتا رہی تھی کہ وہ جانتا ہے… وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کی غربت، اس کی مشکلات، سب کچھ۔

“آپ… آپ نے میری تحقیقات کی ہیں؟”

“ہاں۔” ظلال خان نے بے شرمی سے کہا۔ “میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے جس نے مجھے کُتا کہا تھا۔”

نور کے ہونٹ کانپنے لگے۔ “یہ… یہ غلط ہے۔”

“کیا غلط ہے؟ یہ کہ میں نے تمہاری تحقیقات کیں؟ یا یہ کہ تم نے مجھے کُتا کہا؟”

نور نے قدم پیچھے کھینچا۔ “مجھے جانے دیجیے۔”

“نہیں۔” ظلال خان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “میں ابھی بات ختم نہیں کرنا چاہتا۔”

آس پاس کے طلباء نے دیکھنا شروع کر دیا۔ فیروزہ اور اس کے دوست مسکرا رہے تھے۔

“آپ میرا ہاتھ چھوڑیں۔” نور کی آواز میں غصہ تھا۔

“تمہیں معلوم ہے،” ظلال خان نے اس کے قریب آ کر کہا، آواز میں ایک عجیب سی میٹھاس تھی جو ڈراؤنی لگ رہی تھی، “میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔ تمہاری ساری مشکلات ختم کر سکتا ہوں۔”

“مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔”

“تمہاری فیس جمع نہیں ہوئی۔ ہوسٹل کا کرایہ باقی ہے۔ تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں۔”

نور کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ غصے کے، بے بسی کے۔ “یہ سب آپ کی وجہ سے ہے نا؟”

ظلال خان مسکرایا۔ “میں صرف اپنا اثر استعمال کر رہا ہوں۔”

“میں آپ سے نفرت کرتی ہوں۔”

“نفرت؟” ظلال خان نے قہقہہ لگایا۔ “نفرت محبت کی پہلی سیڑھی ہے۔”

یہ سنتے ہی نور کا صبر ٹوٹ گیا۔ وہ جو پہلے سے ہی غصے سے کانپ رہی تھی، اب اس کا غصہ انتہا کو پہنچ گیا۔

“آپ… آپ بہت گھٹیا انسان ہیں۔”

“شاید۔” ظلال خان نے کہا۔ “مگر میں وہ گھٹیا انسان ہوں جو تمہاری زندگی بدل سکتا ہے۔”

اور پھر اس نے وہ کہا جو نور برداشت نہیں کر سکی۔

“آؤ میرے ساتھ۔ میں تمہیں وہ سب کچھ دوں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا۔ بس ایک رات کی قیمت پر۔”

یہ الفاظ ہوا میں لٹک گئے۔

نور نے ایک لمحے کے لیے سوچا بھی نہیں۔ اس کے ہاتھ نے خود بخود حرکت کی۔

چٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خ

آواز نے پورے آڈیٹوریم میں گونج پیدا کر دی۔

ظلال کے دائیں گال پر نور کا ہاتھ تھا۔ تھپڑ کی آواز نے سب کی توجہ کھینچ لی۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔

ظلال خان نے اپنی لہو رنگ آنکھوں سے نور کی طرف دیکھا اور اپنے گال پر ہاتھ رکھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کسی نے آج تک… کسی نے آج تک اسے ہاتھ نہیں لگایا تھا۔

“تم…” اس کی آواز دبا ہوا غصے میں تھی۔

“ہاں!” نور کی آواز بلند ہوئی۔ پورے آڈیٹوریم میں سنائی دی۔ “میں نے تمہیں تھپڑ مارا! اور میں تمہیں بتاتی ہوں، ظلال خان! میں تمہاری طرح کی نہیں ہوں! میں غریب ہوں مگر میں تمہاری طرح گھٹیا نہیں ہوں!”

ظلال خان کے چہرے پر غصے کے آثار تھے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں۔ اس کے جبڑے اکڑ گئے تھے۔

“تمہاری ہمت…”

“میری ہمت ہے کہ میں سچ بولوں!” نور نے اسے روک دیا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے مگر اس کی آواز میں کوئی کپکپی نہیں تھی۔ “تم سمجھتے ہو کہ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے! مگر تم غلط ہو! عزت نہیں خرید سکتے! انسانیت نہیں خرید سکتے! اور عورت کی عزت… وہ تو ہرگز نہیں خرید سکتے!”

ظلال خان خاموش کھڑا تھا۔ اس کا سینہ تیزی سے اٹھ رہا تھا۔ ہاتھ مٹھیوں میں بندھے ہوئے تھے۔

“تم… تم جانتی ہو تم نے کیا کیا ہے؟”

“ہاں! میں جانتی ہوں!” نور نے کہا۔ “میں نے ایک گھٹیا آدمی کو اس کی جگہ دکھا دی ہے!”

اور یہ کہتے ہوئے وہ مڑی اور روتے ہوئے ،آڈیٹوریم سے باہر نکل گئی۔ اس کے پیچھے سیکڑوں آنکھیں تھیں جو اسے دیکھ رہی تھیں۔

ظلال خان وہیں کھڑا رہا۔ اس کے گال پر تھپڑ کا نشان سرخ ہو رہا تھا۔ اس کے دوست سمیع اور عرفان قریب آئے۔

“یار… یہ کیا ہو گیا؟”
“خان ،تم ٹھیک ہو؟”

ظلال خان نے انہیں دور کیا۔ اس کی نظر دروازے پر تھی جہاں سے نور نکل گئی تھی۔

اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔ ایک خطرناک مسکراہٹ۔

“ٹھیک ہے… بہت اچھا… بہت اچھا…”

اس نے آہستہ سے کہا، صرف اپنے لیے:

“اب جنگ شروع ہوئی ہے۔ اور میں تمہیں دکھاؤں گا… میں تمہیں وہ سبق سکھاؤں گا جو تم ہمیشہ یاد رکھو گی۔”

آڈیٹوریم میں ہر طرف سرگوشیاں تھیں۔ فیروزہ مسکرا رہی تھی۔

“اب دیکھو… اس گاؤں والی نے اپنی قبر خود کھود لی ہے۔”

مگر ظلال خان کے ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی۔

تھپڑ…

اسے تھپڑ مارا گیا تھا…

اور اب… اب وہ انتقام لے گا۔

ایک ایسا انتقام جو نور کی پوری زندگی بدل دے گا۔

جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *