apothecary diaries light novel
ناول_تاوانِ_عشق
apothecary diaries light novel
قـسط_3
تمہاری ایک مسکراہٹ پہ یہ دل ہار بیٹھا تمہاری باتوں میں خود کو بھلا بیٹھا تم ساتھ ہو تو ہر لمحہ حسین لگے تم دور ہو تو سانس لینا بھی بھاری لگے یہ عشق نہیں تو پھر اور کیا ہے جو تم بن کے دل میں بسیاری لگے!!
کالج کا وہی پرانا راستہ جس پر نور ہر روز خوشی اور اطمینان سے چلا کرتی تھی، آج اسے ایک لمبا، تھکا دینے والا سفر محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے قدم بے حد بھاری تھے، جیسے ہر قدم کے نیچے کی اینٹیں اسے واپس کھینچ رہی ہوں۔ ہوا میں بھی ایک عجیب سی کشمکش تھی۔ درختوں کے پتے معمول سے زیادہ تیز سرسرا رہے تھے، جیسے وہ بھی آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں۔
“سنا ہے کل رات ہاسٹل کے سامنے بہت ڈراما ہوا تھا۔” “ہاں،میں نے خود دیکھا، ظلال خان کو…” “اور نور نے تو تھپڑ ہی رسید کر دیا!” “پتہ نہیں اب کیا ہوگا۔”
جملے ادھورے تھے، لیکن ان کے معنی پورے تھے۔ ہر طرف سے آنے والی ان سرگوشیوں نے نور کے کانوں میں ایک مستقل گنگناہٹ سی بھر دی تھی۔ وہ سر جھکائے، اپنے ہی خیالات کی لپیٹ میں چلتی جا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے سیاہ حلقے تھے۔ رات بھر وہ سو نہیں سکی تھی۔ تھپڑ کی آواز بار بار اس کے دماغ میں گونجتی رہی تھی۔ ظلال کا وہ حیرت زدہ چہرہ… پھر غصے سے بھرتا ہوا چہرہ… اور پھر اس نے کیا کہا تھا؟ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟”
کلاس روم میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔ چالیس جوڑی آنکھیں یک دم اس پر جم گئیں۔ کچھ نظروں میں ہمدردی تھی، کچھ میں تجسس، تو کچھ میں صرف تماشا دیکھنے کی بے صبری۔ وہ اپنی مخصوص سیٹ کی طرف بڑھی، جو خالی پڑی تھی۔ اس کی دوست صوفیہ پہلے سے بیٹھی تھی۔
“نور، تمہارا چہرہ دیکھ کر ہی پتہ چل رہا ہے، تم نے رات کو آنکھ تک نہیں لگائی۔” صوفیہ نے آہستہ سے کہا، اپنی کتابیں کھولتے ہوئے۔ “میں کل ہی کہہ رہی تھی، تمہیں آج ہوسٹل ہی کیوں نہیں رہنا چاہیے تھا؟ ظلال خان جیسے لڑکے کبھی معاف نہیں کرتے۔”
نور نے ایک گہری سانس لی۔ “کیا کروں صوفیہ؟ میں گاؤں سے یہاں پڑھنے کے لیے آئی ہوں اور میرے بابا کہا کرتے ہیں،دنیا میں بہت سی مشکلات آتی ہیں، ان کا سامنا کرنا ہی زندگی ہے۔’ اور… میں نے سوچا، میں کس بات سے ڈر رہی ہوں؟ میں نے جو کیا، صحیح کیا۔”
صوفیہ نے اس کے ہاتھ پر ہلکا سا تھپک دیا۔ “تم بہت بہادر ہو نور۔ مگر…” اُس کی بات ادھوری رہ گئی۔کلاس روم کا دروازہ ایک زوردار دھکے سے کھلا۔
ظلال خان کھڑا تھا۔
سارا کلاس روم خاموش ہو گیا۔ ہوا بھی رک سی گئی محسوس ہوتی تھی۔ ظلال خان کے دائیں گال پر، بالکل واضع، تھپڑ کا ہلکا سا نشان تھا۔ سرخ۔ تازہ۔ جیسے اس پر شرمندگی کا ٹیکہ لگا دیا گیا ہو۔ اس کے چہرے پر نہ غصہ تھا، نہ تکبر۔ ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ اس کی نظریں سیدھی نور پر تھیں۔
وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ ہر قدم کے ساتھ کلاس روم کی خاموشی گہری ہوتی گئی۔ کسی نے سانس بھی نہیں لیا۔ وہ نور کی ڈیسک کے سامنے پہنچا۔ کھڑا رہا۔
نور کا دل دھڑک رہا تھا۔ اس کے ہونٹ سوکھ گئے تھے۔ کیا وہ ابھی، سب کے سامنے، بدلہ لے گا؟ کیا وہ اسے شرمندہ کرے گا؟ اس کے ہاتھ میں چھپائی ہوئی مٹھی بند ہو گئی۔
ظلال خان ۔نے اپنی گردن جھکائی۔ ایک گہرا، ٹھوس سانس لیا۔ پھر اپنی آواز میں وہ نرمی لاتے ہوئے، جس کی توقع کسی کو نہیں تھی، بولا:
“نور۔”
اس نے اپنا جملہ روکا، جیسے مناسب لفظ ڈھونڈ رہا ہو۔
“کل… میں نے غلط کیا۔”
کلاس روم میں ایک ہلکی سی سرسراہٹ دوڑ گئی۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ کیا یہ وہی ظلال خان تھا؟ کالج کا وہ آنا پرست، اور ضدّی، کسی سے معافی مانگنے والا ظلال خان؟
“میرا رویہ… قابلِ مذمت تھا۔” ظلال خان نے جاری رکھا، اس کی نظر اب بھی نیچی تھی۔ “آپ ایک عزت دار لڑکی ہیں۔ میں نے آپ کی توہین کی۔ میری غلطی تھی۔”
نور حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کے الفاظ اس کے کانوں میں پڑھ رہے تھے، مگر دماغ تک پہنچ کر سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ یہ کیا تھا؟ کوئی نیا کھیل؟ کوئی اور چال؟
“میں… معافی چاہتا ہوں۔” ظلال خان نے اپنی آنکھیں اٹھائیں۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سا خلوص تھا۔ “بس امید ہے آپ مجھے معاف کر دیں گی۔”
یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کو رکا، جیسے جواب کا انتظار کر رہا ہو۔ پھر، بغیر کچھ اور کہے، وہ مڑا اور کلاس روم سے باہر چلا گیا۔ دروازے کے بند ہونے کی آواز نے ساری خاموشی کو توڑ دیا۔
اب پوری کلاس سناٹا پھیل گیا۔
“کیا دیکھا! ظلال خان نے معافی مانگ لی!” “یہ تو تاریخ کا دن ہے!” “نور،تم نے کیا جادو کر دیا ہے؟”
صوفیہ نے نور کی طرف دیکھا، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ “نور… یہ… میں سمجھ ہی نہیں پا رہی۔”
نور نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھی رہی۔ ظلال خان کی آواز کے وہ لفظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔ “میں نے غلط کیا۔” کیا یہ ممکن تھا؟ کیا واقعی کسی کے اندر اتنے مختصر وقت میں اتنی تبدیلی آ سکتی ہے؟
یا پھر… یہ سب ایک چال تھی؟ ایک نئی شروعات، ایک نئی حکمت عملی؟
اس کے ذہن میں ایک آواز کہہ رہی تھی: ‘ہوشیار رہو نور۔ شیر اپنے دھبے نہیں بدلتا۔’ مگر دوسری آواز، جو تھوڑی نرم تھی، کہہ رہی تھی: ‘شاید… صرف شاید… اس میں سچائی تھی۔ شاید وہ واقعی شرمندہ ہے۔’ کلاس ٹیچر،کی آمد نے کلاس کو معمول پر واپس لایا۔ مگر نور کا دماغ اس دن پڑھائی سے بہت دور تھا۔ وہ اسی ایک سوال میں گم تھی: “ظلال خان کی آنکھوں میں جو خلوص تھا، کیا وہ جھوٹ تھا؟”
اسے نہیں پتہ تھا کہ اس کا جواب، آنے والے دنوں میں، اس کی زندگی کا سب سے مہنگا “تاوان” بننے والا تھا۔
کنٹین کا ماحول ہمیشہ کی طرح گہما گہمی سے بھرا ہوا تھا۔ کھانے کی خوشبو اور طلباء کے شور میں “ظلال خان”سیدھا ایک کونے کی میز کی طرف بڑھا۔ اس کے چہرے پر اب وہ عاجزی اور خلوص نہیں تھا جو کلاس روم میں دکھایا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ٹھنڈی، حساب کتاب بھری چمک واپس آ چکی تھی۔
وہ اکیلا بیٹھا ہوا تھا جب اس کا قریبی دوست سمی (سمیع اللہ) کافی کا کپ لیتے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھا۔ سمی کا قد لمبا اور جسم دبلا پتلا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک تیزی تھی جو ظلال خان کے سوا شاید ہی کوئی پڑھ پاتا۔
“تو؟” سمی نے کافی کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔ “عظیم ڈراما مکمل ہوا؟ کلاس کے سامنے تھیٹر کر دیا؟”
ظلال خان نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے اپنے گال پر انگلی پھیری، جہاں تھپڑ کا نشان اب بھی ہلکا سا سرخ تھا۔ “تمہیں پتہ ہے سمی، کبھی کبھی ایک قدم پیچھے ہٹنا، دو قدم آگے بڑھنے کے لیے ہوتا ہے۔”
سمی نے سر ہلایا۔ “مگر یار، یہ تھوڑا زیادہ نہیں ہو گیا؟ پورے کلاس کے سامنے معافی؟ ظلال خان، جسے کبھی کسی کے آگے جھکنا گوارا نہیں تھا؟”
ظلال خان کی آنکھوں میں ایک خفیف سی چمک دوڑی۔ وہ آگے جھکا، اپنی آواز کو اور بھی پست کرتے ہوئے بولا۔ “تم سمجھتے ہو، وہ تھپڑ صرف میرے گال پر نہیں پڑا تھا۔ وہ میرے وقار پر پڑا تھا۔ میرے خاندان کے نام پر۔ تم جانتے ہو !!
اس نے رک کر ایک لمبی سانس لی، جیسے کل کی باتوں کو یاد کر رہا ہو۔ ہماری غیرت ہماری پہچان ہے۔ مگر غیرت کا مطلب صرف تلوار اٹھانا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی غیرت یہ بھی ہوتی ہے کہ تم اپنی غلطی مان لو، تاکہ دوسرے تمہاری عظمت کو پہچان سکیں۔'”
سمی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ “
۔” ظلال خان نے سر ہلایا، ایک چالاک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل گئی۔ “مگر میرا منصوبہ… وہ کچھ اور ہے۔”
سمی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ ظلال خان کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے دوست کی ذہانت اپنی اصلی شکل میں سامنے آتی تھی۔ “کچھ بتاؤ۔”
ظلال خان نے اپنے اردگرد ایک نظر دوڑائی، یقین کر لیا کہ کوئی قریب نہیں ہے، پھر آہستہ سے بولا۔ “سمی، تم جانتے ہو میں کبھی کسی سے ہار نہیں مانتا۔ نور نے مجھے ذلیل کیا ہے۔ یہ تھپڑ صرف ایک تھپڑ نہیں تھا… یہ میرے وجود کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔”
“تو پھر معافی…؟”
“معافی میرے ہتھیار کا پہلا حصہ ہے۔” ظلال خان نے اپنی کافی کا کپ گھماتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں ایک خطرناک سکون تھا “تم نے دیکھا نا کلاس میں؟ سب کے سب حیران رہ گئے۔ اب ہر کوئی سوچے گا کہ ‘واہ، ظلال خان نے تو واقعی دل بڑا کر لیا۔’ نور خود بھی الجھن میں پڑ جائے گی۔ شک اور یقین کے درمیان۔”
سمی نے سمجھدار نظروں سے اسے دیکھا۔ “تو یہ سب ایک ڈھونگ تھا؟”
“ڈھونگ نہیں۔” ظلال خان نے اپنی انگلی اٹھائی۔ “یہ ایک حکمت عملی ہے۔ سیدھے راستے سے کچھ حاصل نہیں ہوا تو الٹے راستے سے کام لینا پڑتا ہے۔ میں نے نور کو جیتنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔”
“جیتنا؟ کس طرح؟”
ظلال خان کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک تھی۔ “اس کا اعتماد۔ اس کا بھروسہ۔ اس کے جذبات۔ میں اسے آہستہ آہستہ اپنے قریب کروں گا۔ چھوٹی چھوٹی مددیں۔ اچھا سلوک۔ دوستی کا بہانہ۔ جب وہ مجھ پر بھروسہ کرنے لگے گی… جب وہ سمجھے گی کہ میں واقعی بدل گیا ہوں…”
اس نے ایک لمحے کو رکا، پھر آہستہ سے بولا۔ “تب میں اسے وہ دکھاؤں گا جو اس نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ تب میں اس سے وہ چیز چھین لوں گا جو اس کی سب سے قیمتی ہے، اس کی عزتِ نفس۔ اور پھر… تب وہ سمجھے گی کہ ظلال خان سے کھیلنا کیا ہوتا ہے۔”
سمی نے ایک گہری سانس لی۔ وہ جانتا تھا کہ ظلال خان جب کسی بات کا فیصلہ کر لے، تو وہ اس پر پورا اترتا ہے۔ “مگر یہ خطرناک کھیل ہے یار۔ وہ لڑکی معصوم لگتی ہے۔”
“اسی لیے تو۔” ظلال خان نے سرد آواز میں کہا۔ “معصومیت ہی تو سب سے خوبصورت شکار ہوتی ہے۔ تم دیکھتے رہنا سمی… آج سے ایک ماہ بعد، نور خود میری طرف دوڑتی چلی آئے گی۔ اور جب وہ آئے گی، تو اس کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوگا۔”
اس نے اپنا فون نکالا، نور کے فیس بک پروفائل (جو اس نے پچھلے ہفتے ہی ایک دوست کے ذریعے حاصل کی تھی) کو دیکھا۔ “پہلا قدم تو ہو چکا۔ اب دوسرا قدم… اسے چائے کی دعوت دینا ہے۔”
“اور اگر اس نے انکار کر دیا؟”
“انکار کرے گی۔” ظلال خان نے یقین سے کہا۔ “مگر میں اصرار نہیں کروں گا۔ میں صرف مسکروں گا اور کہوں گا ‘کوئی بات نہیں، شاید کبھی اور۔’ اصرار سے تو شک پیدا ہوتا ہے۔ بظاہر بے پروائی… اعتماد پیدا کرتی ہے۔”
سمی نے سر ہلایا، اپنے دوست کی ذہانت کو تسلیم کرتے ہوئے۔ “تم واقعی اس میں ماہر ہو یار۔”
“یہ کوئی مہارت نہیں، ضرورت ہے سمی۔” ظلال خان نے کہا، اپنے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے۔ “یہ نشان صرف میرے چہرے پر نہیں، میرے دل پر ہے۔ اور اس کا بدلہ… وہ بھی دل ہی سے لیا جائے گا۔”
اچانک، دور سے نور اور صوفیہ کنٹین میں داخل ہوتے دکھائی دیں۔ ظلال نے فوراً اپنے چہرے کے تاثرات بدلے۔ وہ مسکرانے لگا، اپنی آنکھوں میں وہی مصنوعی خلوص واپس لاتے ہوئے۔
“دیکھو، وہ آ رہی ہے۔” اس نے آہستہ سے کہا۔ “اب میرا کردار شروع ہوتا ہے۔ یاد رکھنا سمی، تمہیں کچھ نہیں پتہ۔ تم بس میرا ایک عام دوست ہو۔”
سمی نے ہلکا سر ہلایا۔ “پک گیا۔”
نور اور صوفیہ کھانے کی لائن میں لگ گئیں۔ ظلال خان نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر رک گیا۔ ‘نہیں، ابھی نہیں۔’ اس نے سوچا۔ ‘جلدی بازی سب برباد کر دیتی ہے۔ پہلے اسے میرے بارے میں سوچنے دو۔ پہلے اس کے ذہن میں میرے بارے میں سوال پیدا ہوں۔’
وہ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ڈائری نکال کر بڑے ہوشیاری سے لکھنے لگا:
“دن 1: ابتدائی معافی مکمل۔ اثر: حیرت + کنفیوژن۔ اگلا قدم: غیر جانبدار دوستی۔ ذہن نوٹ: صبر۔ سب سے اہم ہتھیار صبر ہے۔ وہ خود آئے گی… بس راستہ ہموار کرنا ہے۔”
ڈائری بند کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر نور کی طرف دیکھا، جو اپنی دوست سے کچھ کہہ کر مسکرا رہی تھی۔ اس کی مسکراہٹ میں معصومیت تھی۔
ظلال خان کے دل میں ایک عجیب سی احساس نے جنم لیا۔ شاید رحم… شاں ہمدردی… مگر اس نے فوراً اس احساس کو کچل دیا۔ ‘نہیں۔ یہ کمزوری ہے۔ اور میں کمزور نہیں ہو سکتا۔’
وہ اٹھا، سمی کو اشارہ کیا، اور کنٹین سے باہر چل دیا۔ اس کے پیچھے، نور کی نظر ایک لمحے کے لیے اس پر پڑی۔ وہ الجھن میں تھی۔ کیا وہ واقعی بدل گیا تھا؟ یا یہ سب دکھاوا تھا؟
اسے نہیں پتہ تھا کہ چند میٹر کے فاصلے پر چلنے والا لڑکا، اس کے لیے ایک ایسی جنگ کی تیاری کر رہا تھا جس کا اسے احساس تک نہیں تھا۔ ایک ایسی جنگ جس میں ہتھیار جذبات تھے، اور میدان اس کا اپنا دل تھا۔
اور ظلال خان… وہ اس جنگ کو ہر قیمت پر جیتنے کا عزم کیے ہوئے تھا۔
سنہری دھوپ یونیورسٹی کے وسیع گراؤنڈ پر پھیلی ہوئی تھی۔ پرانے برگد کے درخت کے نیچے، نور ایک نوٹس پر جھکی ہوئی تھی۔ اس کے پاؤں سے چپل الگ ہو کر زمین پر پڑی تھی، مگر اسے اس کا احساس تک نہیں تھا۔
اس کی ساری توجہ اپنے نوٹس بنانے پر تھی۔ کلاس کے بعد سے وہ یہیں بیٹھی پروفیسر جانسن کے لیکچر کے نوٹس مکمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سورج ڈوبنے کو تھا، اور اس کے صفحات پر روشنی کم ہوتی جا رہی تھی۔
“تمہارا لیکچر تو شاید تمہیں خود یاد نہیں رہا۔”
آواز اس کے بالکل قریب سے آئی۔ نور نے چونک کر سر اٹھایا۔ ظلال خان اس کے سامنے کھڑا تھا، اس کی لمبی پرچھائیں نور کے نوٹس پر پڑ رہی تھی۔
“تم… تم یہاں؟” نور نے کہا، اپنے بکھرے بالوں کو سنوارتے ہوئے۔
“میں ہر شام یہاں چہل قدمی کرتا ہوں۔” ظلال خان نے ، بغیر اجازت لیے زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ “مگر آج تم یہاں بیٹھی ہو۔”
اس کی باتوں میں کوئی جارحیت نہیں تھی، بس ایک سادہ سی حقیقت۔ وہ نور سے تقریباً ایک فٹ کے فاصلے پر بیٹھا تھا۔ ان کے درمیان خالی جگہ تھی، مگر فاصلہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
“تمہارے پاؤں سے چپل گر گئی ہے۔” ظلال نے کہا، زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔
نور نے شرمندہ ہو کر چپل پہنی۔ “شکریہ… میں تو محو ہو گئی تھی۔”
“محو؟” ظلال خان نے ہلکا سا مسکرایا۔ “نوٹس میں یا کسی اور چیز میں؟”
نور نے جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی نوٹس بک بند کی۔
“مجھے دکھاؤ۔” ظلال خان نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔
“کیوں؟” نور نے حفاظت سے کاپی اپنے پاس رکھتے ہوئے کہا۔
“شاید میں مدد کر سکوں۔” ظلال خان کی آواز میں ایک عجیب سا لہجہ تھا۔ “یا شاید… میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم کس میں اتنی محو تھیں۔”
نور نے تھوڑی دیر توقف کیا، پھر نوٹس اس کی طرف بڑھا دیے۔
ظلال خان نے نوٹس بک کھولی۔ پہلے صفحے پر نور کی صاف ستھری تحریر تھی۔ مگر دوسرے صفحے سے تحریر بے ترتیب ہوتی گئی تھی۔ جملے ادھورے تھے، الفاظ غائب تھے۔
“تم نے لیکچر کا صرف پہلا حصہ ہی سنا تھا؟” ظلال خان نے پوچھا، صفحات پلٹتے ہوئے۔
“جی…” نور نے شرمندہ ہو کر کہا۔ “پھر… پھر میرے دماغ میں کچھ اور چلنے لگا۔”
“کیا؟”
نور نے اس کی طرف دیکھا۔ سورج کی آخری کرنیں ظلال خان کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، اس کی آنکھیں سوال پوچھ رہی تھیں۔

“کچھ بھی نہیں۔” اس نے جواب دیا۔
“جب لوگ ‘کچھ بھی نہیں’ کہتے ہیں، تو دراصل وہ ‘بہت کچھ’ ہوتا ہے۔” ظلال خان نے کہا، کاپی واپس کرتے ہوئے۔
وہ تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر بولا، “میں نے تمہارے لیے نوٹس بنائے ہیں۔”
اس نے اپنے بیک پیگ سے ایک فائل نکالی۔ چمکدار کاغذ، صاف تحریر۔ “پورا لیکچر۔ ہر لفظ۔ ہر مثال۔”
نور نے فائل کو دیکھا۔ “تم نے… میری خاطر؟”
“نہیں۔” ظلال خان نے سر ہلایا۔ “اپنی خاطر۔ میں جب دوسروں کے لیے نوٹس بناتا ہوں، تو خود بھی بہتر سیکھتا ہوں۔”
“مگر تمہیں تو ٹیوٹر ہیں… سب کچھ۔”
“ٹیوٹر علم دیتے ہیں۔” ظلال خان نے کہا، اپنی نظر گراؤنڈ میں دوڑتے ہوئے بچوں پر جماتے ہوئے۔ “مگر وہ یہ نہیں سکھاتے کہ علم بانٹنا کیسے ہے۔”
نور نے فائل کے صفحات پلٹے۔ یہ صرف نوٹس نہیں تھے۔ یہ کسی کی محنت تھی۔ کسی کی کاوش۔
“تم کیوں ایسا کر رہے ہو؟” اس نے براہ راست پوچھا۔ “تمہیں میری ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔”
ظلال خان نے گہری سانس لی۔ “سب کچھ؟”
“جی۔ پیسے۔ گاڑیاں۔ عزت۔ سب کچھ۔”
“اور دوست؟” ظلال خان نے آہستہ سے پوچھا۔
نور خاموش ہو گئی۔ “دیکھو نور۔” ظلال خان نے اپنی بات جاری رکھی۔ “میرے پاس وہ سب ہے جو پیسے سے مل سکتا ہے۔ مگر وہ چیزیں جو پیسے سے نہیں ملتیں. ان کی میرے پاس کمی ہے۔”
“جیسے؟”
“جیسے سچی مسکراہٹ۔” ظلال نے کہا۔ “جیسے بے غرض بات چیت۔ جیسے یہ جاننا کہ کوئی تمہارے ساتھ ہے کیونکہ تم اسے پسند آتے ہو، نہ کہ تمہارے پیسے۔”
سورج اب غروب کے کنارے تھا۔ ہوا میں ٹھنڈک بڑھ رہی تھی۔
“جب تم نے مجھے تھپڑ مارا…” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “وہ پہلا موقع تھا جب کسی نے مجھے میری شخصیت کی وجہ سے رد کیا، میری دولت کی وجہ سے نہیں۔”
نور نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ “تم… تم اس کے لیے شکر گزار ہو؟”
“نہیں۔” ظلال خان نے مسکرایا۔ “غصہ تھا۔ بہت غصہ۔ مگر پھر… پھر میں نے سوچا۔ شاید تم وہ واحد شخص ہو جو مجھے سچ دیکھ سکتا ہے۔”
اس نے اٹھنے کا ارادہ کیا، پھر رک گیا۔ “نوٹس رکھ لو۔ اگر سمجھنے میں دشواری ہو تو پوچھ لینا۔”
“ظلال خان…” نور نے اس کے جانے سے پہلے کہا۔
“ہاں؟”
“شکریہ۔”
ظلال خان نے صرف سر ہلایا، اور چلا گیا۔ اس کی پرچھائیں لمبی ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ وہ دور ہو گیا۔
نور نے فائل کو ہاتھ میں تھامے رکھا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی گرمی تھی۔ کیا یہ سب سچ تھا؟ کیا واقعی ایک امیر لڑکا، جو سب کچھ رکھتا ہے، اتنا تنہا ہو سکتا ہے؟
اس نے فائل کھولی۔ پہلے صفحے پر، ایک چھوٹا سا نوٹ تھا جو اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا:
“علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔ شاید دوستی بھی۔ – ظ”
نور نے نوٹ کو دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھیلی۔ شاید… صرف شاید… یہ سب سچ تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔
