shogun novel

shogun novel

ناول_تاوانِ_عشق

قـسط_4

shogun novel

 

دوستی لفظ نہیں، ایک یقین ہوتی ہے
ہر گھڑی ساتھ نبھانے کی زمیں ہوتی ہے
خاموشی میں بھی جو سمجھ جائے حالِ دل
وہی رشتہ اصل میں سب سے حسین ہوتی ہے
وقت بدلے تو کئی چہرے بدل جاتے ہیں
دوستی بس وہی جو ہر حال میں وہیں ہوتی ہے
مسکراؤ تو خوشی بانٹنے آ جائے جو
غم میں وہی دوستی کی پہچان ہوتی ہے!!

معافی کے بعد کے دنوں میں، وقت نے ایک عجیب رَوِش اختیار کر لی تھی۔ ہوا میں گھُلے ہوئے سوالوں کی مہک تھی، اور ہر نظر میں ایک کہانی چھپی ہوئی تھی۔ نور کے لیے زندگی دو متوازی حقیقتوں کے درمیان ڈول رہی تھی، ایک، ظلال خان کی نرم، دوستانہ مسکراہٹیں جو اسے یقین دلاتی تھیں کہ سب بدل گیا ہے؛ اور دوسری، اس کے اپنے اندر کی وہ آواز جو بار بار پوچھتی رہتی تھی: ‘کیا واقعی؟’

اور ظلال خان… وہ تو ایک ماہر کھلاڑی کی طرح اپنے شطرنج کے مہرے چلا رہا تھا۔ ہر قدم کا حساب۔ ہر مسکراہٹ کا مقصد۔ ہر مدد کی پیشکش، ایک اور خانہ فتح کرنے کی چال۔

نور کالج کی راہداری میں چل رہی تھی، مگر اس کے قدم زمین پر نہیں، اپنے ہی خیالات کی دلدل میں دھنس رہے تھے۔ ہر طرف سے آنے والی سرگوشیاں اس کے کانوں میں زہر گھول رہی تھیں۔

“دیکھو وہ ہے… جس نے ظلال خان کو تھپڑ مارا۔”
“اور آج بھی وہ اس کے ساتھ بات کر رہا ہے۔”
“عجیب لڑکی ہے۔شاید کوئی خاص تعلق ہے۔”

نور نے اپنا سر نیچا کر لیا۔ اس کے ہاتھوں میں کتابیں لرز گئیں۔ وہ تیزی سے اپنی کلاس کی طرف بڑھنے لگی، مگر اچانک…

 

shogun novel“نور۔”

وہ آواز اس کے رگوں میں برف پھیلاتی ہوئی گونجی۔

وہ رکی۔ سانس روک کر مڑی۔

ظلال خان راہداری کے دوسرے سرے پر کھڑا تھا۔ سورج کی کرنیں اس کے کاندھوں پر پڑ رہی تھیں، مگر اس کی آنکھیں اس کی مسکراہٹ سے زیادہ روشن تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، جیسے کوئی شکاری اپنے شکار کو ڈرا کر نہیں، بلکہ پرسکون طریقے سے قریب آنے دے۔

“صبح بخیر۔” ظلال خان نے کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی میٹھاس تھی۔

“ص… صبح بخیر۔” نور نے جواب دیا، اس کے حلق سے الفاظ مشکل سے نکل رہے تھے۔

“کل کے نوٹس کام کے رہے؟” ظلال خان نے پوچھا، اب وہ اس سے محض دو قدم دور تھا۔

“ہاں… بہت۔ شکریہ۔”

“خوشی ہوئی۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “ویسے… آج پروفیسر احمد کا کوئز ہے۔ اگر کچھ سمجھنے میں مشکل ہو تو بتا دینا۔”

یہ کہہ کر وہ مسکراتے ہوئے اگے بڑھ گیا، بغیر اس بات کا انتظار کیے کہ نور کیا جواب دے گی۔

نور وہیں کھڑی رہ گئی۔ اس کا دماغ دو حصوں میں بٹ گیا تھا۔

ایک آواز کہہ رہی تھی: ‘دیکھا! صرف مدد کرنا چاہتا ہے۔ شاید واقعی بدل گیا ہے۔’

دوسری آواز، جو زیادہ پُراسرار اور گہری تھی، گونجی: ‘ہوشیار رہو۔ کوئی بغیر مقصد کے ایسا نہیں کرتا۔’

کلاس روم میں داخل ہوتے ہی صوفیہ نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

“کیا ہوا؟ راہداری میں میں نے دیکھا، ظلال خان تم سے بات کر رہا تھا۔”

“ہاں… بس صبح بخیر کہا۔ نوٹس پوچھے۔” نور نے کہا، اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے۔

صوفیہ نے اپنا چہرہ سنجیدہ کر لیا۔ “نور، مجھے ایک بات بتاؤ۔ کیا تم اس پر بھروسہ کرنے لگی ہو؟”

نور نے خاموشی اختیار کی۔

“یہی خاموشی تو میرا جواب ہے۔” صوفیہ نے آہستہ سے کہا، اپنی کتاب کھولتے ہوئے۔ “سنو، میں تمہاری دوست ہوں۔ تمہاری بہترین دوست۔ اور دوست کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کو خطرے سے آگاہ کرے۔ ظلال خان خطرہ ہے۔”

“مگر کیوں؟” نور نے الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ “وہ کیا چاہتا ہے میرا؟ میں نہ امیر ہوں، نہ خوبصورت۔ میرے پاس وہ کیا ہے جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟”

صوفیہ نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ “شاید تمہاری معصومیت۔ شاید تمہارا اعتماد۔ یا شاید… صرف یہ کہ تم نے اسے ‘نہ’ کہہ دیا تھا۔ ایسے لوگوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ ہوتا ہے جو ان کی خواہش کو رد کر دے۔”

اچانک کلاس روم کا دروازہ کھلا اور پروفیسر احمد داخل ہوئے۔ کلاس خاموش ہو گئی۔

پروفیسر نے اپنی کتابیں میز پر رکھیں اور کلاس کو دیکھا۔ “آج کے کوئز کے لیے تیار ہو؟”

کلاس میں ایک ہلکی سی بے چینی دوڑ گئی۔

نور نے اپنی کتاب کھولی، مگر اس کی نظریں الفاظ پر نہیں، اپنے ذہن میں گھومتے سوالوں پر تھیں۔ وہ جانتی تھی، کہ پروفیسر احمد کے کوئز مشکل ہوتے ہیں۔ اور اس کا ذہن اس وقت اتنے پیچیدہ سوالوں کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

کوئز شروع ہوئے ۔ سوال مشکل تھے۔ نور جواب لکھنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر اس کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔

اچانک اس کی نظر کلاس کے دوسرے سرے پر گئی۔

ظلال خان بیٹھا ہوا تھا۔ وہ پہلے ہی اپنے کوئز ختم کر چکا تھا۔ اور اب… وہ براہ راست نور کی طرف دیکھ رہا تھا۔

جب ان کی نظریں ملیں، تو ظلال خان نے ہلکا سا سر ہلایا۔ ایک ایسا سر ہلانا جو کہہ رہا ہو: ‘پریشان مت ہو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔’

نور نے فوراً نظر چرا لی۔ اس کا دل تیز دھڑکنے لگا۔

وہ آخر کون تھا؟ ایک ظالم جو بدلہ لینا چاہتا تھا؟ یا ایک بدلا ہوا انسان جو سچے جذبات رکھتا تھا؟

اور نور… وہ خود کون بنتی جا رہی تھی؟

ایک ایسی لڑکی جو اپنے ہی شکوک و شبہات کی جنگ میں گھر گئی تھی، یا ایک ایسی انسان جو کسی پر بھروسہ کرنے کی ہمت کر رہی تھی؟

کوئز ختم ہوتے ہی ۔ نور نے اپنا پیپر جمع کروایا۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے ٹیسٹ اچھا نہیں کیا تھا۔

کلاس سے نکلتے ہوئے، ظلال خان دروازے کے قریب کھڑا تھا۔ جب نور اس کے قریب سے گزری، تو اس نے آہستہ سے کہا:

“تمہارے چہرے پر تشویش ہے۔ سب ٹھیک ہے؟”

نور نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خلوص تھا۔ یا شاید… صرف ایک ماہر اداکار کی کارکردگی تھی۔

“ہاں… بس… کوئز اچھا نہیں گے۔” نور نے کہا۔

ظلال خان نے مسکرا کر کہا: “کوئی بات نہیں۔ اگلے کوئز کے لیے میں تمہیں ٹیوشن دے سکتا ہوں۔ اگر تمہیں اعتراض نہ ہو۔”

اور پھر، بغیر کسی جواب کا انتظار کیے، وہ مسکراتا ہوا چلا گیا۔

نور وہیں کھڑی رہ گئی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک آواز گونج رہی تھی:

“ٹیوشن… مدد… دوستی… یہ سب کہاں جا کر رکے گا؟”

اور وہ جواب جو اسے نہیں مل رہا تھا، وہ جواب جو صرف ظلال خان کے دل کی گہرائیوں میں چھپا ہوا تھا:

“یہ تب رکے گا جب تم میرے جال میں پوری طرح پھنس چکی ہو گی۔”

دوپہر کے وقفے کا شور کینٹین میں اپنے عروج پر تھا۔ فرائز کی خوشبو، کولڈ ڈرنکس کے گلاسوں کی کھنکھناہٹ، اور طلباء کے قہقہوں سے کینٹین گونج رہی تھی۔ نور ایک کونے کی میز پر برگر اور کوک کی بوتل کے ساتھ بیٹھی تھی۔ صوفیہ کا اس دن کسی کام سے گھر جانا تھا، اس لیے وہ اکیلے تھی۔

وہ برگر کے ایک نوالے کو بے دلی سے چبا رہی تھی جب ایک واقف آواز نے اسے چونکا دیا۔

“یہ میز خالی ہے؟”

ظلال خان وہاں کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں بھی ایک ٹرے تھا جس پر ڈبل برگر، فرائز اور دو کولڈ ڈرنکس تھے۔ اس کی آنکھوں میں وہی دوستانہ چمک تھی جو کلاس میں دیکھنے کو ملی تھی۔

نور نے اردگرد نظر دوڑائی۔ سچ میں، تمام میزیں بھری ہوئی تھیں۔ دوپہر کے وقفے میں ایسا ہی ہوتا تھا۔

“ہاں… بیٹھ سکتے ہیں۔” نور نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

ظلال خان نے احترام سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے بیٹھنے کی جگہ لی۔ “شکریہ۔ آج تو پورا کینٹین جنگل بن گیا ہے۔”

“ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے دوپہر کو۔” نور نے کہا، اپنا برگر تھامے ہوئے۔

کچھ دیر دونوں خاموشی سے لنچ کرتے رہے۔ یہ خاموشی awkward نہیں بلکہ ایک عجیب سا سکون لیے ہوئے تھی۔ کینٹین کا شور ان کے اردگرد ایک دھندلی سی تہہ بنائے ہوئے تھا۔

ظلال خان نے فرائز کا ایک ٹکڑا اٹھاتے ہوئے آواز توڑی۔ “تم جانتی ہو، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم ایک میز پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔”

نور نے اس کی طرف دیکھا۔ “کیوں؟”

“کیونکہ…” ظلال خان نے گہری سانس لی۔ “عام حالات میں، ہماری راہیں کبھی نہیں ملتیں۔ تم ایک سادہ، محنتی لڑکی ہو۔ میں… میں وہ ہوں جس کے بارے میں تم نے سنا ہوگا۔”

“کیا مطلب؟”

“میرا مطلب ہے، میں وہ امیر لڑکا ہوں جس کے بارے میں سب کہتے ہیں کہ اس کے پاس سب کچھ ہے۔” ظلال خان نے اپنا جوس پیتے ہوئے کہا۔ “مگر اصل میں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔”

نور نے اپنا برگر رکھ دیا۔ “یہ بات کیا مطلب؟ آپ کے پاس تو سب کچھ ہے۔ گاڑیاں، دولت، طاقت…”

“اور دوست؟” ظلال خان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔ “سچے دوست؟ وہ دوست جو مجھے پسند کریں میری شخصیت کی وجہ سے، نہ کہ میری جیب کی وجہ سے؟”

نور خاموش ہو گئی۔

“دیکھو نور۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “جب تم نے مجھے تھپڑ مارا، اس دن پہلی بار میں نے محسوس کیا کہ کوئی ہے جو میرے سامنے سچ بول سکتا ہے۔ جو میرے پیسے سے نہیں ڈرتا۔ جو میرے خاندان کے نام سے مرعوب نہیں ہوتا۔”

اس نے اپنا گلاس رکھا، اور نور کی آنکھوں میں دیکھا۔

“میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کے سامنے اپنے جذبات نہیں کھولے۔ نہ اپنے خاندان کے دباؤ کے بارے میں، نہ اس تنہائی کے بارے میں جو ہر امیر گھرانے کا مقدر ہوتی ہے۔ مگر آج… میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں۔”

نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “کیوں؟ کیوں مجھے؟”

“کیونکہ تم سچی ہو۔” ظلال خان نے سیدھا جواب دیا۔ “اور میں نے محسوس کیا ہے کہ میں تم پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔”

کینٹین کا شور اچانک بہت دور لگنے لگا۔ نور کے کانوں میں صرف ظلال خان کی آواز گونج رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ خلوص… کیا یہ جھوٹ ہو سکتا تھا؟

“تم میری پہلی سچی دوست ہو، نور۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “اور میں چاہتا ہوں کہ تم جان لو… میں وہ شخص نہیں ہوں جو تم نے پہلے دیکھا تھا۔”

نور نے اپنا گلا صاف کیا۔ “مگر… ہم ابھی تو ایک دوسرے کو ٹھیک سے جانتے بھی نہیں۔”

“دوستی کا تعلق وقت سے نہیں ہوتا۔” ظلال خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “یہ احساس سے ہوتا ہے۔ اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تم سمجھ سکتی ہو۔”

اچانک نور کا فون بجنے لگا۔ اس نے فون دیکھا۔ گھر کا نمبر تھا۔

“معذرت، مجھے یہ کال لینی ہے۔” نور نے کہا اور فون اٹھایا۔

“ہیلو؟ امی جان؟”

فون پر اس کی ماں کی آواز تھی، اور وہ رونے کے قریب تھی۔ “نور بیٹا… معاف کرنا بیٹا۔”

“کیا ہوا امی؟”

“تیرے ابّا… انہیں ہسپتال لے جانا پڑا ہے۔ دل کا دورہ پڑا ہے۔”

نور کا چہرہ فوری طور پر سفید پڑ گیا۔ “کیا؟ کب؟ کہاں؟”

“آج صبح۔ ہم اب شہر کے ہسپتال میں ہیں۔ ڈاکٹر کہتے ہیں آپریشن کرنا پڑے گا۔”

نور کا ہاتھ کانپنے لگا۔ “آپریشن؟ مگر… مگر پیسے؟”

ماں کی آواز میں گھٹن تھی۔ “یہی تو مسئلہ ہے بیٹا۔ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔ فیس جمع کروانے کے بعد جو تھوڑے بہت پیسے تھے، وہ بھی ختم ہو گئے۔”

نور کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ اس کے ہاتھ سے فون پکڑنا مشکل ہو رہا تھا۔

“امی… میں… میں کچھ سوچتی ہوں۔ آپ پریشان مت ہو۔”

“بیٹا، تیری فیس کا کیا ہوگا؟ اگلے ہفتے آخری تاریخ ہے۔”

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ “میں کچھ کرتی ہوں امی۔ آپ بس ابّا کی دیکھ بھال کرو۔”

کال ختم ہوئی۔ نور فون کو میز پر رکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے۔

“نور؟” ظلال خان نے نرمی سے پوچھا۔ “سب ٹھیک ہے؟”

نور نے سر اٹھایا۔ اس کے چہرے پر ہر طرف سے پریشانی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ “نہیں… سب ٹھیک نہیں ہے۔”

“بتاؤ، کیا ہوا؟ شاید میں مدد کر سکوں۔”

نور نے اسے دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں وہ فلش بیک آیا۔۔

کینٹین کے دوسرے کونے میں، ظلال خان سمی سے کہہ رہا تھا: “چھوٹی چھوٹی مددیں… جب وہ مجھ پر بھروسہ کرنے لگے گی…”

مگر یہ فلش بیک صرف ایک سیکنڈ رہا۔ ضرورت اور پریشانی نے اس پر حاوی کر لیا۔

“میرے ابا کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ آپریشن کرانا ہے۔ اور… اور میری فیس کی آخری تاریخ ہے اگلے ہفتے۔” نور نے آنسو روکتے ہوئے کہا۔

ظلال خان کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ “تمہیں کتنی رقم کی ضرورت ہے؟”

“نہیں… میں… میں نہیں جانتی۔” نور نے سر ہلایا۔ “میں خود ہی کچھ کر لوں گی۔”

“نور، سنو۔” ظلال خان نے آہستہ سے کہا۔ “میں قرض دے سکتا ہوں۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تم جب چاہو واپس کر دینا۔ جب تھمارے پاس ہوں۔”

“نہیں، میں… میں نہیں لے سکتی۔”

“کیوں؟” ظلال خان نے نرمی سے پوچھا۔ “کیونکہ میں امیر ہوں؟ کیونکہ تمہیں لگتا ہے میں بدلے میں کچھ مانگوں گا؟”

نور خاموش رہی۔

“سنو۔” ظلال خان نے اپنی بات جاری رکھی۔ “یہ قرض نہیں، دوست کی مدد ہے۔ اور دوست ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ میں ہوں، اگر چاہو۔”

اس نے اپنا کارڈ نکالا۔ “یہ میرا نمبر ہے۔ جب بھی فیصلہ کرو، مجھے بتا دینا۔”

اور پھر، اصرار کیے بغیر، وہ اٹھا۔ “تمہارے بابا کے لیے دعا گو ہوں۔ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو، مجھے ضرور بتانا۔”

وہ چلا گیا، نور کو اپنے خیالات کے ساتھ چھوڑ کر۔

نور نے کارڈ کو دیکھا۔ ظلال خان کا نام، اس کا نمبر۔ ایک طرف اس کی ماں کی پریشان آواز تھی، دوسری طرف ظلال خان کی پیشکش۔ ایک طرف فیس اور آپریشن کا بوجھ، دوسری طرف ایک امیر لڑکے کی مدد۔

اور اس کے ذہن کے سب سے گہرے کونے میں، صوفیہ کی آواز گونج رہی تھی:

“ہوشیار رہو نور… ہر مدد کے پیچھے ایک قیمت ہوتی ہے…”

مگر کیا اب اس کے پاس انتخاب بھی تھا؟

دو دن بعد لائبریری میں نور کتابیں سیدھی کر رہی تھی کہ ظلال خان نے آہستہ سے اس کے پاس آ کر بیٹھنے کی اجازت چاہی۔

“تمہارے چہرے پر پریشانی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔” اس نے نرمی سے کہا۔

نور نے کتاب رکھ دی۔ “میرے ابا کا آپریشن تو ہو گیا، مگر ہسپتال کا بل ابھی باقی ہے۔ اور فیس کی آخری تاریخ کل ہے۔”

ظلال خان نے کچھ دیر خاموشی سے سوچا۔ “اگر اجازت ہو تو ایک تجویز ہے۔ میرے دوست حمزہ کے والد کی کمپنی میں پارٹ ٹائم اسسٹنٹ کی ضرورت ہے۔ صرف شام کے چار گھنٹے۔ تنخواہ اتنی ہے کہ تمہاری فیس اور کچھ مدد گھر بھیج سکو۔”

نور کی آنکھوں میں پہلے امید چمکی، پھر شک کے بادل چھا گئے۔ “تم… تمہاری وجہ سے ملے گی نوکری؟”

“نہیں۔” ظلال خان نے سیدھا جواب دیا۔ “میں صرف تمہارا نام دوں گا۔ باقی تمہاری اپنی قابلیت پر منحصر ہوگا۔ انٹرویو ہے کل۔ اگر چاہو تو بتا دو۔”

وہ اٹھنے لگا تو نور نے آواز دی۔ “کیوں؟ تم میری اتنی فکر کیوں کرتے ہو؟”

ظلال خان مڑا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں کچھ گہرا چمکا۔ “کیونکہ تم نے مجھے سچا ہونے کا موقع دیا۔ اور میں چاہتا ہوں کہ تم جانو… ہر امیر آدمی برا نہیں ہوتا۔”

اگلے دن کینٹین میں صوفیہ نے نور کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھینا۔ “تم پاگل ہو گئی ہو! ظلال خان کی بتائی ہوئی نوکری؟ یہ سب بہت آسان ہو رہا ہے نور۔ پہلے قرض کی پیشکش، اب نوکری؟”

“مجھے پیسے چاہئیں صوفیہ۔” نور کی آواز میں بے بسی تھی۔ “ابّا کا بل، میری فیس…”

“مگر یہ جال ہے!” صوفیہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “وہ تمہیں آہستہ آہستہ اپنا محتاج بنا رہا ہے۔ پہلے نوٹس، پھر دوستی، پھر قرض، اب نوکری۔ ہر قدم پر وہ تمہیں اپنے قریب کھینچ رہا ہے۔”

نور نے آنکھیں بند کر لیں۔ صوفیہ کی باتیں دل کو لگ رہی تھیں، مگر ضرورت نے تمام خدشوں پر پردہ ڈال دیا۔

“مجھے یہ نوکری چاہیے، صوفیہ۔ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔”

وہ شیشے کی ایک بلند عمارت میں تھی۔ نور اپنے سادہ سفید قمیض اور کالی شلوار میں لابی میں کھڑی خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہی تھی۔ ماربل کے فرش پر اس کی چپلیں آواز کر رہی تھیں۔

ایک درمیانی عمر کے صاحب نے اسے انٹرویو روم میں بلایا۔ وہ مسکرائے۔ “آپ نور ہیں؟ ظلال خان نے آپ کے بارے میں بتایا تھا۔”

انٹرویو مختصر تھا۔ چند سوالات: “کیا پڑھ رہی ہیں؟” “کمپیوٹر آتی ہے؟” “وقت دے سکو گی؟”

نور کے جوابات مختصر اور سیدھے تھے۔

“ٹھیک ہے۔” انٹرویو لینے والے نے کہا۔ “کل سے شروع کر سکتی ہیں۔ تنخواہ پچیس ہزار ماہانہ۔ چار بجے سے آٹھ بجے تک۔”

نور کے منہ سے بے ساختہ نکلا: “اتنی جلد؟”

وہ مسکرایا۔ “ہمیں فوری کسی کی ضرورت تھی۔ آپ مناسب لگ رہی ہیں۔”

باہر نکلتے ہوئے نور کا دل خوشی سے دھڑک رہا تھا۔ پچیس ہزار! وہ اپنی فیس دے سکتی تھی۔ گھر پیسے بھیج سکتی تھی۔ اس نے فون نکالا۔

“نوکری مل گئی۔” اس نے ظلال خان کو بتایا۔

“یہ تمہاری اپنی کامیابی ہے۔” ظلال خان کی آواز میں خوشی تھی۔ “تم نے خود اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی ہے۔”

نور؟؟؟

“تمہاری کامیابی پر تمہیں کافی پر بلانا چاہتا ہوں۔” اس نے کہا، آنکھیں جھکائے۔ “صرف دوستوں کی طرح۔”

نور نے اس کے چہرے کو دیکھا۔ سورج کی آخری کرنیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے اس کی آنکھوں میں کچھ اور ہے… کچھ گہرا… کچھ چھپا ہوا۔

مگر پلک جھپکتے ہی وہ نظر غائب ہو گئی۔

“ٹھیک ہے۔” نور نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “دوستوں کی طرح۔”

ظلال خان کے چہرے پر ایک حقیقی مسکراہٹ کھیلی۔ “کل شام۔ میں ٹیکسٹ کروں گا۔”

وہ مڑا اور چل دیا۔ نور وہیں کھڑی رہی۔ ہوا میں سردی بڑھ رہی تھی۔ اس کے کندھوں پر ایک عجیب سی بھاری پن محسوس ہو رہی تھی۔

دور جاتے ہوئے ظلال خان کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ آہستہ آہستہ بدل رہی تھی۔ ایک ایسی مسکراہٹ میں جو صرف اسے ہی معلوم تھی۔ ایک ایسی مسکراہٹ جو کہہ رہی تھی کہ شطرنج کی اگلی چال چل دی گئی ہے۔

اور نور… وہ اب بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ نوکری، یہ دوستی، یہ مدد… کس انجام کی طرف لے جا رہی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *