graphic novel
ناول_تاوانِ_عشق
قـسط_5
graphic novel
دھوکے کی یہ رسم بھی کتنی پرانی نکلی
جس پہ یقین تھا وہی کہانی نکلی
ہم نے سچ کو دل میں بسا کر رکھا
سامنے ہر مسکراہٹ فانی نکلی
وہ جو وعدوں کا امیں بن کر آیا
اسی کے ہاتھوں بےایمانی نکلی
ہم نے خود کو الزام دینا سیکھا
ورنہ ہر ٹھوکر تیری نشانی نکلی!!!
شام کی سنہری دھوپ کافی شاپ کے شیشوں سے ٹکرارہی تھی۔ نور اندر داخل ہوئی تو اسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی نئی دنیا میں قدم رکھ رہی ہو۔ نرم جاز موسیقی، ایتھوپیا سے آئی ہوئی کافی کی خوشبو، اور ہر طرف کتابیں۔
ظلال خان ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ اس نے نور کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ حرکت اس کی تربیت کا حصہ تھی، مگر آج اس میں ایک عجیب سی خلوص تھی۔
“تم آ گئیں۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “میں نے تمہارے لیے کپوچینو منگوایا ہے۔ امید ہے پسند آئے گا۔”
نور جھجکتے ہوئے ظلال خان کے سامنے بیٹھ گئی اتنی دیر میں ویٹر بھی آگیا ظلال خان نے نور سے پوچھ کر کافی آرڈر کی اور پھر نور کی طرف متوجہ ہو گیا!!
“بتاؤ۔” کیسا رہا جاب کا آج پہلا دن؟؟
یہ سوال محض رسمی نہیں تھا۔ اس کی آواز میں حقیقی دلچسپی تھی۔ نور نے محسوس کیا، اور اس نے اپنے دن کے چیلنجز بتانا شروع کیے۔
ظلال خان غور سے سنتا رہا۔ ہر مسئلے پر عملی مشورے دیتا رہا۔ “کل میں تمہیں ہمارے سسٹم کا ایک شارٹ کٹ بتاتا ہوں۔ تمہارا کام آدھا ہو جائے گا۔”
ایک لمحے کو نور نے اسے غور سے دیکھا۔ “تم… تم ایسے کیوں کر رہے ہو؟ میری اتنی مدد؟”
سوال نے ظلال خان کو چوکنا کر دیا۔ اس کے ذہن میں وہ پرانا مقصد کوند گیا: بدلہ۔ انتقام۔ تباہی۔
مگر جب اس نے نور کی معصوم آنکھوں میں دیکھا، تو الفاظ خود بخود بدل گئے۔ “شاید… شاید میں خود بھی جاننا چاہتا ہوں کہ کیوں۔”
یہ اعتراف غیر ارادی تھا۔ ظلال خان نے خود کو سنبھالا۔ “میرا مطلب ہے، دوست ہیں نا ہم۔”
“ہاں۔” نور نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “دوست ہیں۔”
اس مسکراہٹ نے ظلال خان کے اندر کچھ ہلا دیا۔ ایک ایسی چیز جو اس کے منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔
“تمہیں پتہ ہے نور،” اس نے آہستہ سے کہا، اپنی کافی کو گھماتے ہوئے۔ “جب تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا… اس دن کے بعد میری زندگی بدل گئی۔”
“سچ میں؟”
“سچ میں۔” اس نے گہری سانس لی۔ “تم نے مجھے دکھا دیا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ڈرتے نہیں۔ جو سچ بولتے ہیں۔ میرے پاس سب کچھ ہے، مگر یہ ایک چیز… یہ بہادر… وہ میرے پاس نہیں تھی۔”
نور خاموش ہو گئی۔ یہ وہ ظلال خان نہیں تھا جسے وہ جانتی تھی۔ یہ کوئی اور تھا۔ زیادہ انسانی۔ زیادہ کمزور۔
“مگر تمہاری ہمت دیکھ کر…” ظلال خان نے جاری رکھا، “مجھے احساس ہوا… شاید میں بھی بدل سکتا ہوں۔”
یہ جملہ اس کے منہ سے نکل گیا، اور اب وہ اسے واپس نہیں لے سکتا تھا۔ اندر ایک آواز چلائی: ‘تم کیا کر رہے ہو؟ یہ سب منصوبے کے خلاف ہے!’
مگر دوسری آواز، جو نرم اور حقیقی تھی، بولی: ‘شاید… شاید سچائی میں طاقت ہے۔’
“ظلال خان…” نور نے آہستہ سے کہا۔ “تم… تم اچھے ہو۔”
یہ چار الفاظ تھے۔ مگر ظلال خان کے لیے یہ ایک زلزلے سے کم نہیں تھے۔ سالوں سے اسے ‘امیر’، ‘طاقتور’، ‘خطرناک’ کہا گیا تھا۔ ‘اچھا’؟ کبھی نہیں۔
اس کا گلا بند ہو گیا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ آخرکار اس نے بس سر ہلایا۔
“شکریہ۔” اس نے گھٹی ہوئی آواز میں کہا۔ “تم… تم بھی اچھی ہو۔ بہت اچھی۔”
خاموشی چھا گئی۔ مگر یہ خاموشی awkward نہیں تھی۔ یہ ایک سکون بھری خاموشی تھی۔ دونوں اپنے اپنے خیالات میں کھوئے ہوئے تھے۔
آخرکار ظلال خان نے آواز توڑی۔ “تمہارے بابا کیسے ہیں؟”
سوال غیر متوقع تھا۔ نور نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ “بہتر ہیں۔ آپریشن کامیاب رہا۔ تمہاری دعاؤں کی بدولت۔”
“دعائیں…” ظلال خان نے مسکرا کر کہا۔ “مجھے نہیں پتہ میں دعا بھی کرتا ہوں یا نہیں۔ مگر… تمہارے لیے ضرور کی ۔”
یہ ایک اور سچائی تھی جو اس کے منہ سے نکل گئی۔ وہ خود حیران تھا۔
نور کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “تم… تم واقعی…”
“ہاں۔” ظلال خان نے کہا، اب وہ کنٹرول میں تھا۔ “میں واقعی تمہاری فکر کرتا ہوں۔ دوست کی طرح۔”
شام ڈھل رہی تھی۔ کافی شاپ کی لائٹس مزید مدھم ہو گئیں۔
“مجھے جانا چاہیے۔” نور نے کہا، اٹھتے ہوئے۔ “کل پھر نوکری ہے۔”
“ہاں۔” ظلال خان نے کہا۔ “اور… نور؟”
“ہاں؟”
“کوئی مسئلہ ہو… کوئی بھی مسئلہ… مجھے فون کرنا۔ ہمیشہ۔”
نور نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “شکریہ، ظلال خان۔ واقعی۔”
وہ چلی گئی۔ ظلال خان وہیں بیٹھا رہا۔ اس کے سامنے دو کپ کھڑے تھے۔ ایک خالی، ایک آدھا بھرا ہوا۔
اس نے اپنا فون نکالا۔ سمی کو میسج کرنے کا ارادہ تھا۔ ‘پہلا قدم مکمل۔ وہ میرے قریب آ رہی ہے۔’
مگر انگلیاں حرکت نہیں کر رہی تھیں۔ اس کی نظر خالی کپ پر تھی۔ نور کا کپ۔
ایک عجیب سی کشمکش۔ ایک جنگ جو اب اس کے اپنے اندر چل رہی تھی۔ منصوبہ vs حقیقت۔ انتقام vs دوستی۔
آخرکار اس نے فون رکھ دیا۔ کپ اٹھایا۔ اور بغیر کچھ سوچے، اسے اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔
جہاں نور کے ہونٹ لگے تھے۔
اور اس لمحے، ظلال خان کے چہرے پر ایک ایسی پریشانی آئی جو کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔
ایک ایسی پریشانی جو کہہ رہی تھی: ‘اب میں کیا کرنے والا ہوں؟’
نوکری کا دوسرا دن تھا اور نور خود کو پہلے سے زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی تھی۔ ظلال خان کے بتائے ہوئے شارٹ کٹس نے اس کا کام حیرت انگیز طور پر آسان بنا دیا تھا۔ وہ فائلیں ترتیب دے رہی تھی کہ اس کے باس نے آواز دی۔
“نور، یہ فائل اوپر والے آفس میں لے جاؤ۔ بورڈ روم میں۔”
وہ فائل اٹھا کر بورڈ روم کے راستے میں تھی کہ دروازے کے قریب سے دو ملازمین کی سرگوشیاں اس کے کانوں میں پڑیں۔
“…ہاں یہی لڑکی ہے۔ ظلال خان نے خاص طور پر رکھوائی ہے۔”
“کچھ تعلق ہے ان کا؟”
“پتہ نہیں۔مگر سنا ہے ظلال خان نے خود کہا تھا کہ اس کا خاص خیال رکھا جائے۔”
نور کے قدم رک گئے۔ اس کے ہاتھ سے فائل کا کنارہ تھوڑا سا مڑ گیا۔ خاص خیال؟ ظلال خان نے ایسا کیوں کہا ہوگا؟ ایک لمحے کے لیے صوفیہ کی وارننگ اس کے ذہن میں گونجی۔
مگر پھر اس نے سوچا، شاید دوست ہونے کی وجہ سے۔ شاید وہ واقعی اس کی فکر کرتا ہے۔
اسی شام ہاسٹل واپسی پر صوفیہ نے اسے گھیر لیا۔
“نور،ہمیں بات کرنی ہے۔”
کمرے میں دونوں بیٹھے تھے۔ صوفیہ کا چہرہ سنجیدہ تھا۔
“میں نے آج تیری کمپنی کے ایک ملازم سے بات کی۔وہ میرے کزن کا دوست ہے۔”
نور نے حیرت سے دیکھا۔ “اور؟”
“اور اس نے بتایا کہ ظلال خان نے تجھے رکھوانے کے بعد خاص ہدایات دی ہیں۔ تیرے کام کا جائزہ روزانہ لیا جائے۔ تیری ہر حرکت پر نظر رکھی جائے۔”
“یہ… یہ تو اچھی بات ہے۔” نور نے کہا۔ “شاید وہ میری فکر کرتا ہے۔”
“نور!” صوفیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “سن میری بات۔ میرا بھائی شہریار… وہ بھی ان کے حلقے میں تھا۔ میں جانتا ہوں یہ لوگ کیسے کام کرتے ہیں۔ پہلے قریب لاتے ہیں۔ پھر کنٹرول کرتے ہیں۔ پھر…”
“پھر کیا؟”
“پھر تباہ کر دیتے ہیں۔” صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “شہریار کی ایک دوست تھی۔ معصوم لڑکی۔ ظلال خان کے ایک دوست نے اسے اسی طرح پھنسایا تھا۔ نوکری دی۔ مدد کی۔ پھر…”
نور کا دل زور سے دھڑکا۔ “پھر کیا ہوا؟”
“پھر جب وہ پوری طرح انحصار کرنے لگی… جب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا… اس نے اسے استعمال کیا۔ ذلیل کیا۔ اور پھر… پھر اس لڑکی نے خودکشی کر لی۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ہوا میں سردی سی اتر آئی تھی۔
“نور، میں تجھ سے محبت کرتی ہوں۔” صوفیہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ “میں تیرا نقصان نہیں دیکھ سکتی۔ ابھی بھی وقت ہے … ہوش میں آ جا۔”
نور خاموش تھی۔ اس کے ذہن میں دو تصویریں جنگ کر رہی تھیں۔
ایک طرف ظلال خان کا وہ چہرہ جو کہہ رہا تھا: “تم اچھی ہو۔ بہت اچھی۔”
دوسری طرفصوفیہ کا چہرہ جو خبردار کر رہا تھا: “یہ سب جال ہے۔”
“مگر… وہ بدل گیا ہے۔” نور نے آہستہ سے کہا۔ “میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔”
“شیر اپنے دھبے نہیں بدلتا، نور۔” صوفیہ نے کہا۔ “وہ صرف چھپاتا ہے۔”
اسی وقت، ظلال خان اپنے گھر کے سٹڈی روم میں بیٹھا ایک ڈائری میں لکھ رہا تھا:
“دن 15: نور کے ساتھ پہلی کافی مکمل۔ ردعمل: مثبت۔ وہ مجھ پر بھروسہ کرنے لگی ہے۔ اگلا قدم: اس کی ذاتی زندگی میں مداخلت۔ اس کے گھر والوں کی مدد کا پیشکش۔”
مگر قلم رک گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گیا۔
کل کافی شاپ میں نور کی مسکراہٹ… وہ معصومیت… وہ سچائی… یہ سب منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ یہ وہ ہاتھ تھے جو تباہی پھیلانے کے لیے تیار تھے۔ مگر اب…
اس کے فون نے اسے سوچ سے باہر نکالا۔ سمی کا میسج تھا:
“کام کیسا چل رہا ہے؟ وہ پھنس رہی ہے؟”
ظلال خان نے جواب لکھنا شروع کیا: “ہاں، سب ٹھیک ہے۔ وہ…”
وہ رک گیا۔ کل الفاظ حذف کیے۔ نیا میسج لکھا: “مجھے وقت چاہیے۔ صورتحال پیچیدہ ہے۔”
سمی نے فوراً ریپلائی دی: “کیا ہوا؟ تمہیں اس پر ترس تو نہیں آ رہا؟ یاد رکھو، اس نے تمہیں ذلیل کیا تھا۔”
ذلیل۔ ہاں۔ وہ دن۔ وہ تھپڑ۔ وہ غصہ۔ وہ انتقام کا ارادہ۔
مگر پھر… نور کی آنکھوں میں وہ نمی جب اس نے اپنے والد کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کا ہاتھ جب اس نے کافی کا کپ تھاما تھا۔ اس کی آواز میں وہ لرزش جب اس نے کہا تھا: “تم اچھے ہو۔”
ظلال خان نے فون پھینک دیا۔ وہ اٹھا۔ شیشے کی دیوار کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ باہر شہر کی رونقیں تھیں۔ لاکھوں لوگ۔ لاکھوں کہانیاں۔
اور اس کی اپنی کہانی؟ کیا وہ واقعی ایک ظالم بننا چاہتا تھا؟ کیا اس کا نام ہمیشہ کے لیے ‘انتقام لینے والے’ کے طور پر یاد رکھا جائے گا؟
اس نے اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا لیا۔ وہ خود کو نہیں پہچان پا رہا تھا۔ وہ کون تھا؟ وہ ظلال خان جو ہر چیز کو کنٹرول کرتا تھا؟ یا وہ ظلال خان جو نور کی موجودگی میں خود کو بہتر محسوس کرتا تھا؟
دراصل ہوا کچھ یوں تھا کہ نور نے اسے ایک ایسی چیز دے دی تھی جو اس کے پاس کبھی نہیں تھی: بغیر شرط کے قبولیت۔
ایسا نہیں تھا کہ نور اس کے پیسوں سے مرعوب ہوتی۔ نہ اس کی گاڑیوں سے۔ نہ اس کے اثر و رسوخ سے۔ وہ تو اسے دیکھتی تھی۔ صرف اسے۔ ظلال خان کو۔
اور یہ احساس… یہ احساس اس کے لیے نیا تھا۔ خطرناک تھا۔ پرکشش تھا۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کی ماں تھیں۔
“بیٹا،کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔”
“آ رہا ہوں اماں۔”
اماں۔ وہ لفظ جسے وہ بچپن سے استعمال کرتا آیا تھا۔ مگر آج اس میں ایک نیا معنی تھا۔ کیونکہ نور بھی اپنی ماں کا ذکر اسی محبت سے کرتی تھی۔
ظلال خان نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔
“تم کون ہو؟”اس نے آہستہ سے پوچھا۔ “اور تم کیا بننا چاہتے ہو؟”
آئینے میں کوئی جواب نہیں آیا۔ صرف ایک امیر لڑکا تھا جو اپنے ہی وجود میں کھو گیا تھا۔
اور اس کے پیچھے، میز پر وہ ڈائری پڑی تھی جس میں اس نے نور کو تباہ کرنے کا پورا منصوبہ لکھ رکھا تھا۔ ہر قدم۔ ہر چال۔ ہر حربہ۔
مگر اب وہ ڈائری خالی صفحات کی طرح لگ رہی تھی۔ کیونکہ اس کے دل کی کہانی اس سے مختلف تھی۔
ایسی مختلف کہ شاید وہ خود بھی اب اسے پڑھ نہیں پا رہا تھا۔
کمپنی کے باہر، ظلال خان اپنی گاڑی میں بیٹھا نور کا انتظار کر رہا تھا۔ شام کی روشنیاں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، مگر اس کی آنکھوں میں وہی پرانی ٹھنڈک تھی۔
نور باہر آئی تو اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ “یہاں!”
“سوری انتظار کروایا۔” نور نے کہا، گاڑی میں بیٹھتے ہوئے۔
“تمہارے لیے ہمیشہ۔” ظلال خان نے کہا، اس کی آواز میں وہ میٹھاس جو اب بے ساختہ نہیں رہی تھی۔
گاڑی چلنے لگی۔ “تمہارے والد کیسے ہیں؟” ظلال خان نے پوچھا۔
“بہتر ہیں۔ تمہاری دعاؤں کی بدولت۔” نور نے کہا۔
“دعائیں…” ظلال خان نے ہلکا سا مسکرایا۔ “ہاں، میں دعا کرتا ہوں تمہارے لیے۔”
جھوٹ۔ وہ کبھی دعا نہیں کرتا تھا۔ مگر نور کو یہ سننے کی ضرورت تھی۔
“تم واقعی اچھے ہو، ظلال خان۔” نور نے کہا، اس کی طرف دیکھتے ہوئے۔
ظلال خان نے صرف مسکرا کر جواب دیا۔ اچھا؟ تمہیں ابھی پتہ نہیں کہ میں کتنا برا ہوں۔
ریسٹورنٹ شہر کے بہترین علاقے میں تھا۔ ہر چیز چمکدار، ہر چیز مہنگی۔ نور اپنے سادہ کپڑوں میں خود کو اجنبی محسوس کر رہی تھی۔
“یہاں آؤ۔” ظلال خان نے اس کی کرسی کھینچی۔
“شکریہ۔” نور نے شرمندہ ہو کر کہا۔
کھانے کے دوران ظلال خان نے پوری توجہ نور پر مرکوز رکھی۔ ہر سوال، ہر بات، ہر مسکراہٹ۔ حساب شدہ۔ منصوبہ بند۔
“تمہیں پتہ ہے،” اس نے جوس کا گلاس گھماتے ہوئے کہا “تم میری زندگی میں ایک انقلاب لے کر آئی ہو۔”
نور نے حیرت سے دیکھا۔ “کیسے؟”
“تم نے مجھے سکھایا کہ زندگی صرف پیسے اور طاقت کے بارے میں نہیں ہے۔” (جھوٹ) وہ اب بھی یہی مانتا تھا۔ “تم نے مجھے محبت کا مطلب سکھایا۔”
لفظ “محبت” ہوا میں لٹک گیا۔ نور کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
“میں…” وہ کچھ کہنے لگی۔
“نہیں، کچھ نہیں کہنا۔” ظلال خان نے نرمی سے کہا۔ “بس … تم خاص ہو۔”
کھانا ختم ہوا۔ باہر نکلتے ہوئے ظلال خان نے اپنا کوٹ اتار کر نور کے کندھوں پر ڈال دیا۔ “ٹھنڈ ہے۔”
“تمہیں خود ٹھنڈ لگے گی۔” نور نے کہا۔
“میں ٹھیک ہوں۔ تم زیادہ اہم ہو۔” جواب حساب شدہ تھا۔
گاڑی میں واپس آتے ہوئے دونوں خاموش تھے۔ ہوا میں کچھ تھا۔ کچھ غیر کہا۔ کچھ محسوس ہونے والا مگر بیان نہ ہونے والا۔
ہاسٹل کے باہر گاڑی رکی۔ نور نے کوٹ اتارا۔ “شکریہ۔ آج کی شام بہت خوبصورت تھی۔”
“ہاں۔” ظلال خان نے کہا۔ “تمہاری وجہ سے۔”
ایک لمحہ ٹھہرا۔ پھر ظلال خان نے آہستہ سے کہا: “کیا میں تمہیں کل بھی مل سکتا ہوں؟”
نور نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “ہاں۔”
“اچھا۔” اس نے کہا۔ “سو جاﺅ۔ اچھی نیند۔”
نور اندر چلی گئی۔ دروازہ بند ہوتے ہی ظلال خان کے چہرے کی تمام نرمی غائب ہو گئی۔
اس نے فون اٹھایا۔ سمی کو کال کی۔
“کام ہو گیا۔”
“کتنے عرصے میں؟” سمی نے پوچھا۔
“ایک ماہ۔ زیادہ سے زیادہ۔” ظلال خان کی آواز میں کوئی جذبات نہیں تھے۔ “وہ اب میری ہے۔ اب صرف وقت کی بات ہے۔”
“اور پھر؟”
“اور پھر…” ظلال خان نے گاڑی کا انجن چلایا۔ “اور پھر میں اسے وہ سب کچھ دکھاؤں گا جو اس نے مجھے دیا تھا۔ تھپڑ۔ ذلت۔ نفرت۔”
“تمہیں یقین ہے کہ تم یہ کر سکو گے؟” سمی نے پوچھا۔ “تم اس میں دلچسپی لینے لگے ہو۔”
“دلچسپی؟” ظلال خان نے قہقہہ لگایا۔ “ہاں، دلچسپی ہے۔ اسے تباہ کرنے میں۔” وہ اپنے دل کو جھٹلا رہا تھا جو بار بار ہمک ہمک کر نور کی طرف جا رہا تھا!!!
کال ختم کی۔ گاڑی تیز کی۔ رات کے اندھیرے میں وہ اکیلا گاڑی چلا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی منظر تھا۔ نور کا چہرہ۔ اس کی معصوم مسکراہٹ۔
ایک لمحے کو، صرف ایک لمحے کو، اس کے دل میں کچھ ہلا۔

‘شاید…’
مگر اس نے اس خیال کو جھٹک دیا۔ نہیں۔ یہ کمزوری ہے۔ میں کمزور نہیں ہوں۔
گھر پہنچے۔ اس کی ماں نے پوچھا: “کہاں تھے بیٹا؟”
“دوست کے ساتھ تھا۔” جھوٹ۔
“اچھا ہے۔ تمہیں دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے۔”
ظلال خان اپنے کمرے میں آیا۔ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ اپنے چہرے کو دیکھا۔ وہی چہرہ۔ مگر اب اس پر ایک ماسک تھا۔ ایک ایسا ماسک جسے اتارنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
رات گہری ہوتی گئی۔ ظلال خان کی نیند اڑی ہوئی تھی۔ اس کے ذہن میں دو آوازیں تھیں۔
ایک: ‘تم اسے تباہ کر دو گے۔ یہی تمہارا مقصد ہے۔’
دوسری: ‘مگر وہ معصوم ہے۔ وہ تم پر بھروسہ کرتی ہے۔’
پہلی آواز نے دوسری کو دبا دیا۔ ہمیشہ کی طرح۔
صبح ہوئی۔ ظلال خان نے اپنا فون اٹھایا۔ نور کو میسج کیا:
“صبح بخیر۔ امید ہے اچھی نیند آئی ہو۔ کل کا دن تمہارے ساتھ بہت اچھا تھا۔”
جواب آیا: “صبح بخیر۔ ہاں، میری بھی۔ تمہارا شکریہ۔”
ظلال خان کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ کھیلی۔ اب تم میرے جال میں ہو۔ اور جال آہستہ آہستہ بند ہو رہا ہے۔
اور اسے معلوم تھا کہ جب یہ جال مکمل بند ہو گا، تو نور کے پاس نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
جاری ہے۔۔۔۔
