how to write a novel outline
ناول_تاوانِ_عشق
قـسط_6
how to write a novel outline
تمہاری ایک نظر نے ہمیں خاموش کر دیا
وہ باتیں جو کہی نہ تھیں، سب بیان کر دیا
تمہارے لمس کی عادت سی ہو گئی ہے مجھے
کہ وقت نے بھی مجھے تم پہ مہربان کر دیا
وہ شام جب تم نے بس میرا نام لیا
میرے ہر درد کو اس نے بے نام کر دیا
تمہارے بعد کسی اور کی طلب کیسی
تمہاری چاہت نے مجھے بے نیاز کر دیا
وہ مسکراہٹ تمہاری، وہ جھکا سا چہرہ
اسی ادا نے مجھے خود سے بھی انجان کر دیا
تم ساتھ ہو تو لگے زندگی مکمل ہے
تم ایک ہو کہ مجھے سارا جہاں کر دیا!!
صبح کی دھوپ کینٹین کی کھڑکیوں سے اندر آ کر ظلال خان کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ ایک کونے میں بیٹھا نور کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں دو کپ تھے۔ ایک کپوچینو، ایک چائے۔ نور کے لیے کپوچینو۔
نور داخل ہوئی تو اس کی نظر فوراً ظلال خان پر پڑی۔ ایک مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل گئی۔ “صبح بخیر، ظلال خان۔”
آج نور نے بلیک کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا اور اس کے سفید رنگت پر بہت جچ رہا تھا ظلال خان ایک بار تھا نور کو دیکھ کر اس میں ہی گم ہو گیا تھا لیکن پھر وہ جلدی ہی خود کو سنبھال گیا!!!
“صبح بخیر، نور۔” ظلال خان نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔ “میں نے تمہارے لیے کپوچینو منگوایا ہے۔”
نور بیٹھی۔ “تمہیں کیسے پتہ کہ میں کپوچینو پسند کرتی ہوں؟”
“پچھلی بار تم نے کہا تھا نا کہ کافی شاپ میں کپوچینو پی تھی۔ میں نے یاد رکھ لیا۔”
یہ معمولی سی بات تھی۔ مگر نور کے دل کو چھو گئی۔ “شکریہ۔”
“بتاؤ، کل کی پڑھائی ہوئی؟ کل کے ٹاپک کافی مشکل تھے۔”
نور نے آنکھیں نیچی کر لیں۔ “میں… میں پوری طرح نہیں پڑھ پائی۔ نوکری کے بعد بہت تھک جاتی ہوں۔”
ظلال خان کی آنکھوں میں فوری طور پر فکر کے آثار نمودار ہوئے۔ “تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہیں کلاسز کے نوٹس دے سکتا ہوں۔ میں ہر ٹاپک لکھ کر رکھتا ہوں۔”
نور نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “تم… تم ایسا کیوں کرتے ہو؟”
سوال نے ظلال خان کو تھوڑا سا چونکایا۔ اس کے ذہن میں جواب تیار تھا: “تاکہ تم مجھ پر انحصار کرو۔” مگر جب اس نے نور کی معصوم آنکھوں میں دیکھا، تو جواب خود بخود بدل گیا۔ “کیونکہ… میں تمہاری فکر کرتا ہوں۔”
خاموشی چھا گئی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔ کینٹین کی آوازیں، قہقہے، بات چیت سب پس منظر میں چلے گئے۔ بس وہ دونوں تھے۔ اور ان آنکھوں کے درمیان ایک خاموش گفتگو چل رہی تھی۔
نور نے ظلال خان سے نظر ہٹائی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ “میں… مجھے کلاس جانا ہے۔”
“ہاں۔ اور نور؟” ظلال خان ابھی بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“ہاں؟”
“دوپہر کو کینٹین میں ملتے ہیں؟ میں نے کچھ اہم نوٹس تمہیں دکھانے ہیں۔”
نور نے مسکرا کر سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے۔”
وہ اٹھی۔ ایک قدم چلی۔ پھر رکی۔ مڑی۔ “اور ظلال خان؟”
“ہاں نور؟”
“شکریہ۔”
اور پھر وہ چلی گئی۔ ظلال خان وہیں بیٹھا رہا۔ اس نے اپنا فون نکالا۔ سمی کو میسج کرنے لگا۔ “آج کا پہلا قدم مکمل۔ وہ…”
وہ رک گیا۔ اس کی انگلیاں اسکرین پر ٹھہر گئیں۔ نور کی مسکراہٹ اس کی آنکھوں کے سامنے تیرنے لگی۔ اس نے میسج ڈلیٹ کیا۔ فون بند کر دیا۔ کپ اٹھایا۔ وہ کپ جس سے نور نے پیا تھا۔
ایک عجیب سی کشمکش۔ ایک جنگ۔ اور ظلال خان خود نہیں جانتا تھا کہ وہ کس طرف ہے۔
کلاس کے دوران نور کا دھیان نہیں تھا۔ پروفیسر جو کچھ پڑھا رہے تھے، وہ اس کے کانوں سے گزر کر دل تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ اس کا ذہن کینٹین میں تھا۔ ظلال خان کی آنکھوں میں۔
صوفیہ نے اس کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ رکھا۔ “نور، تم سن رہی ہو؟”
نور چونک گئی۔ “ہاں… ہاں سن رہی ہوں۔”
“تمہارا دھیان کہیں اور ہے۔ ظلال خان کے پاس؟”
نور کا چہرہ فوراً سرخ ہو گیا۔ “نہیں… ایسا کچھ نہیں۔”
“نور، مجھے مت جھٹلاؤ۔” صوفیہ کی آواز میں فکر تھی۔ “میں تمہیں دیکھ سکتی ہوں۔ تم پوری طرح بدل چکی ہو۔”
“میں نہیں بدلی۔”
“بدلی ہو۔ اور خطرناک حد تک۔” صوفیہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ “کل شام کہاں تھی؟ میں نے تمہیں ہاسٹل میں نہیں دیکھا۔”
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ نور نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ “میں… میں لائبریری میں تھی۔ پڑھ رہی تھی۔”
جھوٹ۔ پہلا جھوٹ۔ اور وہ بھی صوفیہ سے۔ اس کا گلا سوکھ گیا۔
صوفیہ نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ “سچ؟”
“ہاں۔ سچ۔” نور نے آنکھیں نیچی کر لیں۔
“اچھا۔” صوفیہ نے کہا۔ “تو پھر ٹھیک ہے۔”
مگر صوفیہ کے چہرے پر یقین نہیں تھا۔ اور نور کے دل میں شرم تھی۔
کلاس ختم ہوئی۔ نور جلدی سے باہر نکلی۔ اسے ظلال خان سے ملنا تھا۔ کینٹین میں۔
صوفیہ اسے جاتی ہوئی دیکھتی رہی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “خدا کرے میں غلط ہوں۔ خدا کرے وہ واقعی بدل گیا ہو۔”
مگر اس کا دل جانتا تھا۔ شیر اپنے دھبے نہیں بدلتا۔
کینٹین میں ہجوم تھا۔ مگر نور نے ظلال خان کو فوراً دیکھ لیا۔ وہ ایک میز پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے سامنے کتابیں کھلی ہوئی تھیں۔
“سوری ، کچھ دیر ہو گئی۔”
“کوئی بات نہیں۔” ظلال خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “میں نے تمہارے لیے کھانا لے لیا ہے۔”
میز پر دو پلیٹیں تھیں۔ “تمہیں کیسے پتہ کہ میں کیا پسند کرتی ہوں؟”
“آخری بار تم نے بریانی کھائی تھی۔” ظلال خان نے کہا۔ “میں نے سوچا شاید تمہیں پسند ہے۔”
ہر چھوٹی بات۔ ہر معمولی سی تفصیل۔ ظلال خان یاد رکھتا تھا۔
“شکریہ۔ تم… تم بہت اچھے ہو۔”
لفظ ‘اچھے’ نے ظلال خان کے دل کو چھو لیا۔ ایک عجیب سی چبھن۔
“نہیں۔” اس نے کہا۔ “میں اچھا نہیں ہوں۔”
“تم ہو۔” نور نے اصرار کیا۔ “تم مجھے دیکھتے ہو۔ میری سنتے ہو۔ میری فکر کرتے ہو۔ یہی تو اچھا ہونا ہے۔”
ظلال خان نے کھانا شروع کیا۔ خاموشی سے۔ اس کے ذہن میں آوازیں گونجنے لگیں۔
‘بتا دو اسے۔ بتا دو کہ تم اچھے نہیں ہو۔’
مگر وہ نہیں بتا سکتا تھا۔
ایک بات پوچھو نور ظلال خان نے نور کے معصوم چہرے کی طرف دیکھ کر بولا…
نور جو کنفیوز بیٹھی بریانی کھا رہی تھی چونکتے ہوئے ظلال خان کی طرف دیکھ کر زبردستی مسکراتے ہوئے بولی جی ضرور۔۔۔
“نور، تمہارے خواب کیا ہیں؟”
نور نے گہری سانس لی۔ “میرا خواب ہے کہ میں ایک بڑی بزنس وومن بنوں۔”
ظلال خان نے حیرت سے اسے دیکھا۔ “بزنس وومن؟”
“ہاں۔” نور کی آنکھوں میں ایک چمک آ گئی۔ “میں اپنا فیشن برانڈ شروع کرنا چاہتی ہوں۔ مقامی دستکاری کو جدید ڈیزائن کے ساتھ ملانا۔ ہماری ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا۔”
“یہ… یہ بہت بڑا خواب ہے۔”
“جانتے ہو ظلال خان،” نور نے جوش سے کہا، “جب میں چھوٹی تھی، میری امی ہاتھ سے کڑھائی کرتی تھیں۔ وہ کپڑے پر ایسے پھول بناتی تھیں کہ لگتا تھا اصلی ہوں۔ مگر انہیں اس کی کوئی قیمت نہیں ملتی تھی۔”
ظلال خان نے توجہ سے سنا۔
“میں چاہتی ہوں کہ ایسی خواتین کی صلاحیتوں کو نکھاروں۔ انہیں مارکیٹ تک پہنچاؤں۔” نور کا چہرہ روشن ہو گیا۔ “میں ایک فیکٹری کھولنا چاہتی ہوں جہاں صرف خواتین کام کریں۔ انہیں معاشی طور پر مضبوط بناؤں۔”
“اور تعلیم؟” ظلال خان نے پوچھا۔ “تم یونیورسٹی کر رہی ہو۔”
“اس لیے کر رہی ہوں تاکہ بزنس کو بہتر طریقے سے سمجھ سکوں۔ مارکیٹنگ، فنانس، مینجمنٹ یہ سب سیکھ رہی ہوں۔”
ظلال خان نے مسکرا کر کہا۔ “تم بہت حوصلہ مند ہو۔”
“حوصلہ تب آتا ہے جب مقصد ہو۔” نور نے کہا۔ “اور میرا مقصد صرف اپنا نہیں، دوسری لڑکیوں کا بھی ہے۔”
ایک لمحے کو ظلال خان خاموش رہا۔ اس نے سوچا۔ یہ لڑکی… یہ عام لڑکی نہیں تھی۔ اس کے اندر آگ تھی۔ جذبہ تھا۔
“اور اگر… اگر تمہارا یہ خواب پورا نہ ہو؟” ظلال خان نے آہستہ سے پوچھا۔
نور نے اسے براہ راست دیکھا۔ “پورا ہو گا۔ میں اسے پورا کر کے رہوں گی۔ چاہے مجھے کتنی ہی محنت کیوں نہ کرنی پڑے۔”
یہ خود اعتمادی۔ یہ عزم۔ ظلال خان کو حیران کر گیا۔ وہ سوچنے لگا… اگر یہ لڑکی واقعی کامیاب ہو جائے تو؟ اگر وہ اپنا مقصد پا لے تو؟
“تم… تم بہت مضبوط ہو۔” ظلال خان نے کہا۔
“مضبوط نہیں ہوتی تو زندگی کے سامنے ٹک نہیں سکتی۔” نور نے کہا۔ “تمہیں پتہ ہے “خان، جب سے میرے ابا بیمار پڑے، گھر کی تمام ذمہ داری میرے اوپر آ گئی ہے۔میں نے نوکری کی، پڑھائی کے ساتھ،
“اکیلے۔” نور نے مسکرا کر کہا۔ “اور میں نے ہار نہیں مانی۔ کیونکہ میں جانتی ہوں، کہ ہارنا میرے لیے آپشن نہیں ہے۔”
ظلال خان نے اسے دیکھا۔ واقعی دیکھا۔ یہ وہ نور نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا۔ یہ کسی اور ہی دنیا کی لڑکی تھی۔
“تمہیں فخر ہونا چاہیے۔” اس نے آہستہ سے کہا۔
“فخر تب ہو گا جب میں اپنا خواب پورا کر لوں۔” نور نے کہا۔ “ابھی تو سفر کا آغاز ہے۔”
اور پھر، ایک لمحے کو، ظلال خان کے دل میں ایک خیال آیا۔
‘اگر میں واقعی اس کی مدد کرتا؟ اگر میں اسے اس کے خواب تک پہنچانے میں مدد کرتا؟’
مگر فوراً ہی دوسرا خیال آیا۔ ‘نہیں۔ یہ منصوبہ ہے۔ تمہیں اسے تباہ کرنا ہے۔ نہ کہ اس کی مدد کرنی ہے۔’
دونوں خیالات میں جنگ ہو گئی۔ ظلال خان کا چہرہ تھوڑا سا بے رونق ہو گیا۔
“تم ٹھیک ہو؟” نور نے پوچھا۔
“ہاں۔ بس… تمہاری باتیں سن کر حیران ہوں۔” ظلال خان نے کہا۔ “تم میں اتنی طاقت ہے۔”
“ہر عورت میں طاقت ہوتی ہے۔” نور نے کہا۔ “بس موقع چاہیے ہوتا ہے۔”
ظلال خان نے ہاں میں سر ہلایا۔ اور اس لمحے، اسے احساس ہوا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔ وہ ایک ایسی لڑکی کو تباہ کرنے جا رہا ہے جو نہ صرف معصوم ہے، بلکہ خواب دیکھنے والی بھی ہے۔
ایک ایسی لڑکی جس میں دنیا بدلنے کی صلاحیت ہے۔
پانچ نور ور ہم سچ میں دوست ہوتے وہ بس دل میں ہی سوچ سکا۔۔
دوپہر کے وقت ظلال خان کا فون بجا۔ اس کی مورے کا میسج تھا: “بیٹا، بابا، آج شام تم سے ملنا چاہتے ہیں۔ کمپنی کے معاملات پر بات کرنی ہے۔”
ظلال خان نے جواب دیا: “ٹھیک ہے مورے ، شام کو آتا ہوں۔” مگر اس کے دل میں ایک بوجھ سا تھا۔ بابا سے ملاقات کا مطلب تھا مستقبل کے بارے میں سوالات، وہ راستہ جو اس کے لیے پہلے سے طے تھا۔
ظلال خان کا گھر شہر کے سب سے مہنگے علاقے میں ایک شاہی محل تھا یعنی کے ایک وسیع حویلی تھی۔ پختونوں کی شان کے مطابق، باہر بڑا دروازہ، اندر وسیع صحن جہاں ایک بڑا سا فوارہ چلتا تھا۔ ہر طرف صفائی اور خاموشی۔
ظلال خان کے والد، ظہیر خان ، نہ صرف پاکستان کے جانے مانے بزنس مین تھے۔ بلکہ ان کا بزنس باہر کے ممالک میں بھی پھیلا ہوا تھا۔ان کا خان انٹرنیشنل گروپ پاکستان کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں بھی کام کرتا تھا۔ ظہیر خان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے وعدے کے پکے ہیں، لیکن بزنس میں بے رحم بھی۔
ظلال خان کی ماں، زینب بیگم، اگرچہ پختون خاندان سے تھیں لیکن جدید خیالات کی مالک تھیں۔ انہوں نے لاہور کے ایک بہترین کالج سے تعلیم حاصل کی تھی اور اب ایک خواتین کی تنظیم کی صدر تھیں۔ وہ ظلال خان کی واحد بہن سارہ کو بھی بیرون ملک تعلیم دلوانے میں کامیاب ہوئیں تھیں، جو فی الحال لندن میں بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔
ظلال خان گھر پہنچا تو اس کی ماں ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھیں۔ زینب بی بی نے خوبصورت پشتون لباس پہنا ہوا تھا ایک نفیس چادر سر پر، مگر اس میں جدیدیت کی جھلک بھی تھی۔
“بیٹا، آ گئے؟” زینب بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
“جی مورے۔ بابا سائیں کہاں ہیں؟”
“آفس میں ہیں۔ تھوڑی دیر میں آئیں گے۔” اس نے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔ “بیٹا، تمہارے چہرے پر تھکاوٹ ہے۔ کچھ پریشانی ہے؟”
ظلال خان نے جھوٹ بولا۔ “نہیں اماں، بس یونیورسٹی کا تھوڑا پریشر ہے۔”
زینب بیگم نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر دیکھا۔ “بیٹا، تم جھوٹ بول رہے ہو۔ میں تمہاری ماں ہوں۔ تمہارے چہرے پر کچھ اور ہے۔ بتاؤ سچ، کوئی لڑکی؟”
ظلال خان نے حیرت سے ماں کو دیکھا۔ “مورے!”
“ہاں بیٹا، ہاں۔” زینب بیگم مسکرائیں۔ “تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔ تمہاری ہر بات مجھے پتہ ہوتی ہے۔ بتاؤ، کون ہے وہ؟”
ظلال خان نے گہری سانس لی۔ “کوئی خاص نہیں مورے۔ بس… یونیورسٹی میں ایک کلاس فیلو ہے۔ دوستی ہے۔”
“دوستی؟” زینبِ بیگم کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ مگر پھر انہوں نے سنجیدہ ہو کر کہا: “بیٹا، یاد رکھنا۔ ہماری فیملی کی حیثیت مختلف ہے۔ کوئی بھی تعلق بنانے سے پہلے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔”
“مورے، وہ بس دوست ہے۔” ظلال خان نے کہا، مگر اس کی آواز میں غیر یقینی تھی۔
اس سے پہلے کے ظلال خان کچھ بولتے اس کے بابا سائیں تشریف لا چکے تھے ظہیر خان نے آتے ہی سب کو سلام کیا اور صوفے پر بیٹھ گئے،
وہ ایک نفیس بوس سوٹ میں ملبوس تھے خاکی رنگ کا کوٹ، میچ کرتی ہوئی پتلون، سر پر بال بالکل درست۔ ان کے ہاتھ میں ایک مہنگی گھڑی تھی اور ان کی ظاہری شکل سے ہی ان کی کامیابی اور طاقت کا اظہار ہوتا تھا۔
دو جوان بچوں کے ہوتے ہوئے بھی وہ بالکل ابھی ینگ ایج کے لگتے تھے ظلال خان کو ظہیر خان کے ساتھ دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کرتا تھا کہ یہ دونوں باپ بیٹے ہیں،
“ظلال، آ گئے ہو؟” ظہیر خان ب نے اپنے بیٹے کو دیکھا، ان کی آواز میں اختیار اور پیار دونوں تھے۔ “چلو میری سٹڈی میں آؤ۔ ہمیں کمپنی کے معاملات پر بات کرنی ہے۔”
بابا آپ ابھی تو آفس سے تھکے ہوئے آئے ہیں تھوڑی دیر ارام کریں ہم بعد میں بات کر لیں گے میں بالکل ٹھیک ہوں آفس میں ویسے بھی آج کام زیادہ نہیں تھا اور تم روز روز میرے ہاتھ آتے کب ہو چلو ابھی میرے ساتھ ،،
سٹڈی روم میں داخل ہوتے ہی ظہیر خان نے سیدھا معاملہ اٹھایا۔ ان کی سٹڈی روم شاہانہ تھی ایک بڑی میز جس پر کمپیوٹرز اور فائلیں تھیں، ایک طرف دنیا کا نقشہ جس پر ان کی کمپنیوں کے
مقامات نشان زد تھے۔
“تمہاری تعلیم ختم ہونے والی ہے۔” ظہیر خان نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ “اب وقت آ گیا ہے کہ تم کمپنی میں مکمل طور پر شامل ہو جاؤ۔”
ظلال خان نے ادب سے سر ہلایا۔ “جی بابا ۔”
“میں نے تمہارے لیے ایک پلان بنایا ہے۔” ظہیر خان نے ایک فائل اٹھائی۔ “پہلے دو سال تم دبئی آفس میں کام کرو گے۔ وہاں بین الاقوامی بزنس سیکھو گے۔ پھر واپس آ کر ہیڈ آفس سنبھالو گے۔”
“لیکن بابا ، میں…”
“مجھے معلوم ہے تم کیا کہنے جا رہے ہو۔” ظہیر خان نے اپنی آواز میں گرمجوشی لاتے ہوئے کہا۔ “تم سوچ رہے ہو کہ یہ سب تمہارے اوپر تھوپا جا رہا ہے۔ مگر بیٹا، سنو میری بات۔”
ظہیر خان نے کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔ “جب میں تمہاری عمر کا تھا، میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ میں نے محض ایک چھوٹی سی دکان سے شروع کیا تھا۔ آج ہماری کمپنی پانچ ممالک میں کام کر رہی ہے۔ یہ محنت، لگن، اور ایمانداری کا نتیجہ ہے۔”
“جی بابا ، میں جانتا ہوں۔”
“نہیں، تم پوری طرح نہیں جانتے۔” ظہیر خان نے مڑ کر بیٹے کو دیکھا۔ “بزنس میں دو چیزیں سب سے اہم ہیں۔ ایک، اپنے وعدے کا پکا ہونا۔ دو، اپنے دشمن کو بھی عزت سے شکست دینا۔”
ظلال خان نے توجہ سے سنا۔
“تمہیں معلوم ہونا چاہیے، ظلال۔ زندگی میں اچھائی اور برائی کا فرق صرف ایک لکیر کا ہے۔” بابا سائیں کی آواز گہری ہو گئی۔ “ہم امیر ہیں، مگر ہم نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ ہم نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ یہی ہماری پہچان ہے۔”
“مگر بابا ، دنیا میں…”
“دنیا کچھ بھی کرے، ہم وہ نہیں کر سکتے جو ہماری عزت کے خلاف ہو۔” بابا سائیں نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ “ہم پختون ہیں۔ ہمارے لیے عزت سب سے پہلے ہے۔ پیسے آتے جاتے رہتے ہیں، مگر عزت ایک بار جاتی ہے تو واپس نہیں آتی۔”
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد انھوں نے کہا: “اور شادی کا معاملہ… ابھی نہیں۔ پہلے بزنس سیکھو، اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاؤ۔ شادی کے لیے بہت وقت ہے۔ جب مناسب وقت آئے گا، تب دیکھیں گے۔”
ظلال خان نے راحت کی سانس لی۔ “جی بابا ۔”
“مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔” ظہیر خان نے قریب آ کر بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “خواہ تم کسی سے محبت کرو یا دوستی، ہمیشہ سچے رہنا۔ دھوکہ دینا آسان ہے، مگر اس کے نتائج ہمیشہ برے ہوتے ہیں۔”
یہ آخری جملہ ظلال خان کے دل میں چبھ گیا۔ اس کا گلا سوکھ گیا۔
“اب جا کر آرام کرو۔” اس نے مسکرا کر کہا۔ “کل سے نئے جذبے کے ساتھ تیار ہو جاؤ۔ مستقبل تمہارا منتظر ہے۔ اور ہاں… اپنی دوستوں کے ساتھ بھی ایمانداری سے پیش آنا۔”
“جی بابا ۔”
ظلال خان اپنے کمرے میں آیا۔ کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو کر اس نے باہر فوارے کو دیکھا۔ پانی کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
اس کے ذہن میں بابا کے الفاظ گونجنے لگے: “دھوکہ دینا آسان ہے، مگر اس کے نتائج ہمیشہ برے ہوتے ہیں۔”
اس نے اپنا فون نکالا۔ نور کو میسج کرنا چاہا۔ مگر الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ کیا وہ سچ بولے؟ کیا وہ اعتراف کرے؟
آخرکار اس نے لکھا: “نور، تم اچھی ہو۔ بہت اچھی۔”
جواب آیا: “آپ بھی اچھے ہیں، ظلال خان۔”
اور اس لمحے، ظلال خان کے سینے میں ایک خنجر سا اتر گیا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اچھا نہیں تھا۔ وہ دھوکے باز تھا۔ ایک ایسا دھوکے باز جو کسی معصوم کو تباہ کرنے کی راہ پر تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
