سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے سے انکار

ملکی دارالحکومت کولمبو سے موصولہ رپورٹوں کے مطاب ریاستی صدر انُورا کمارا ڈسانائیکے نے کہا کہ 26 فروری کو،جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی، امریکہ نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنے میزائلوں سے مسلح جنگی طیاروں میں سے دو اس جنوبی ایشیائی ملک کے جنوب میں ایک شہری ہوائی اڈے پر تعینات کرنا چاہتا تھا۔

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے ’ناقابلِ قبول‘ ہیں، بھارت کا سخت ردعمل

صدر ڈسانائیکے نے کولمبو میں ملکی پارلیمان کو بتایا کہ امریکی محکمہ دفاع جبوتی میں ایک ایئر بیس سے نکال کر ایسے دو امریکی جنگی طیارے سری لنکا کے شہری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے متالا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات کرنا چاہتا تھا۔

سری لنکن صدر نے اراکین پارلیمان کو بتایا کہ یہ درخواست 26 فروری (ایران جنگ شروع ہونے سے دو روز قبل) کی گئی تھی۔ لیکن سری لنکا نے ان جنگی طیاروں کو اپنے ہاں زمینی رسائی دینے یا ان کی اپنی سرزمین پر تعیناتی کی اجازت دینے سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ یہ جزیرہ ریاست اپنی غیر جانبداری قائم رکھنا چاہتی تھی۔

’پاکستانی وزیر اعظم نے سب کے من پسند کھیل کو جاری رکھنے میں مدد دی‘، سری لنکا کے صدر کا اظہار تشکر

سری لنکن سربراہ مملکت نے ملکی پارلیمان کے ارکان کو بتایا کہ امریکی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی تھی کہ یہ ملک نہیں چاہتا تھا کہ اس کی سرزمین کو کسی ایسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، جن کے نتیجے میں تنازعے کے فریقین میں سے کسی ایک کو بھی کوئی فائدہ یا نقصان ہو۔ا یران کے خلاف جنگ: تیل مہنگا، قابل تجدید توانائی محفوظ حل

بحر ہند میں واقع یہ جزیرہ ریاستایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس وقت کسی حد تک متاثر ہوئی تھی جب اسی مہینے ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو سری لنکا کے ساحلوں کے پاس تارپیڈو کر کے تباہ کر دیا تھا۔

صدر ڈسانائیکے کے الفاظ میں، ”وہ (امریکی) چار مارچ سے آٹھ مارچ تک اپنے آٹھ اینٹی شپ میزائلوں سے لیس دو جنگی طیارے متالا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعینات کرنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ایران جنگ میں پاکستان نیوٹرل رہ سکتا ہے؟

امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری کو شروع ہونے والی ایر!ن کے خلاف جنگ اور ایران کے جوابی حملے ابھی تک جاری ہیں اور اس تنازعے کے فوری خاتمے کے ابھی تک بظاہر کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *