عمران خان کے بیٹے پر پاکستانی وزرا کی تنقید
عمران خان کے بیٹے پر پاکستانی وزرا کی تنقید: کیا قاسم خان نے ’جی ایس پی پلس‘ درجہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ سی آر) کے سامنے اپنے والد کی قید پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور الزام لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے لیے وہ جی ایس پی پلس درجہ ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے جو پاکستان کو تجارت کے لیے خصوصی رعایات دیتا ہے۔
عمران خان کے بیٹے پر تنقید کرنے والوں میں سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کے رہنما اور وزیر بھی شامل ہیں۔ خود قاسم خان وضاحت کر چکے ہیں کہ انھوں نے جی ایس پی پلس درجہ ختم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
قاسم خان پر تنقید کرنے والوں کا کیا مؤقف ہے اور جی ایس پی پلس درجہ ہے کیا؟ یہ سب بتانے سے پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں کہ قاسم خان نے درحقیقت کہا کیا۔
قاسم خان نے کہا کیا؟
اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان میں عدم برداشت اور ظلم و جبر کے بڑھتے ہوئے رحجان پر ’شدید تشویش‘ ہے۔
قاسم خان کے مطابق ’ہم ایک منظم مہم دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد آبادی کے مخصوص طبقات کو انسانی حقوق سے محروم کرنا اور انھیں خاموش کرنا ہے۔‘
قاسم خان نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کو بتایا کہ ان کے والد عمران خان تقریباً ایک ہزار دن سے جیل میں ہیں۔
’تین سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا، میں انھیں دیکھ تک نہیں پایا ہوں۔‘
