امریکی اسرائیلی حملوں سے ایران کے ثقافتی ورثے کو نقصان

 ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے پر مشتمل متعدد تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔ اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثقافتی ورثے کے مقامات کے جغرافیائی کوآرڈینیٹس تمام فریقوں کو فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

یونیسکو کے مطابق ادارہ ایران اور خطے میں ثقافتی ورثے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ان مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اب تکایران کے کئی اہم تاریخی مقامات کوجھٹکوں کی لہروں، ملبے اور قریبی اہداف پر حملوں کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے۔

گلستان محل، تہران

تہران کا گلستان محل شہر کا سب سے قدیمی تاریخی مقام اور دارالحکومت کا واحد یونیسکو عالمی ورثہ ہے۔

اس محل کی تعمیر 16ویں صدی میں شروع ہوئی تھی اور یہ آٹھ شان دار محلات پر مشتمل ہے۔ یونیسکو کے مطابق دو مارچ کو قریب واقع ارگ اسکوائر پر میزائل حملے کے بعد اس محل کو نقصان پہنچا۔ نقصان میں شیشوں سے سجے چھتوں کا ٹوٹ جانا، محرابوں کو نقصان، کھڑکیوں کا ٹوٹنا اور ہالز میں ملبہ شامل ہے۔

چہل ستون محل، اصفہان

اصفہان کا مشہور چہل ستون محل اپنی خوبصورت فریسکو پینٹنگز اور صفوی دور کی فن تعمیر کے لیے معروف ہے۔

یہ محل یونیسکو کے عالمی ورثہ پرشین گارڈنز کا حصہ ہے۔ دس مارچ کو ایک سرکاری عمارت پر حملے کے دوران اس محل کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا، جن میں ٹائیلوں، کھڑکیوں، صفوی دور کی آئینہ کاری اور فریسکو پینٹنگز کو پہنچنے والا نقصان شامل ہے۔

جامع مسجد اصفہان

اصفہان کی تاریخی جامع مسجد بھی دھماکوں کے دھچکوں سے متاثر ہوئی ہے۔

یہ ایران کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے اور یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔ یونیسکو کے مطابق یہ مسجد ایرانی اسلامی فن تعمیر کے 12 صدیوں کے ارتقا کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد عبادت کے ساتھ ساتھ اصفہان کے تاریخی بازار کا بھی حصہ ہے۔

عالی قاپو محل

اصفہان میں واقع عالی قاپو محل بھی حملوں سے متاثر ہوا ہے۔ اس محل کو 1979 میں یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق قریبی علاقوں میں حملوں کی وجہ سے محل کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ گئے جب کہ ٹائل ورک کو بھی نقصان پہنچا۔

یہ محل نقش جہاں اسکوائر کے مغربی حصے میں واقع ہے، جو صفوی دور کے بادشاہ شاہ عباس اول کے دور میں تعمیر ہونے والا ایک عظیم ثقافتی کمپلیکس ہے۔

خرم آباد وادی کے قدیم آثار

صوبہ لورستان میں واقع خرم آباد وادی کے آثارِ قدیمہ بھی دھماکوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

اس مقام میں پانچ غاریں اور ایک چٹانی پناہ گاہ شامل ہے، جہاں ہزاروں برس قبل کی انسانی آبادی کے شواہد ملتے ہیں۔ اسے 2025 میں یونیسکو کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

فلک الافلاک قلعہ

خرم آباد کا تاریخی فلک الافلاک قلعہ، جسے شاپور خواست قلعہ بھی کہا جاتا ہے، تیسری صدی عیسوی میں ساسانی دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق قلعے کے احاطے میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں گو کہ مرکزی عمارت محفوظ رہی مگر آثارِ قدیمہ کے میوزیم متاثر ہوئے جبکہ عملے کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔

تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بلیو شیلڈ

ایران میں تاریخی عمارتوں کو بچانے کے لیے کئی مقامات پر نیلے اور سفید رنگ کے ”بلیو شیلڈ‘‘ نشان لگائے جا رہے ہیں۔ یہ علامت 1954 کے ہیگ کنونشن کے تحت جنگ کے دوران ثقافتی املاک کے تحفظ کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔

بلیو شیلڈ انٹرنیشنل کے صدر پیٹر اسٹون نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، مگر ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی انسانی شناخت اور عالمی تاریخ کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ممکنہ جنگی جرائم کا خدشہ

بین الاقوامی قانون کے مطابق ثقافتی مقامات پر فوجی حملے جنگی جرائم تصور کیے جاتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران تینوں نے ایسے عالمی معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو جنگ کے دوران ثقافتی ورثے کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *